دہرادون: اتراکھنڈ وقف بورڈ تین طلاق اور نکاح حلالہ کے بعد بے گھر ہونے والی خواتین کو مفت رہائش فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے پر وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی سے بھی بات کی گئی ہے اور انہوں نے وقف بورڈ کی تجویز کو منظوری دے دی ہے۔ اتراکھنڈ وقف بورڈ کے چیئرمین شاداب شمس نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ایسی مطلقہ اور بے سہارا خواتین کو رہائش فراہم کرنے کے لیے ایک تجویز تیار کی گئی ہے، جنہیں تین طلاق دیے جانے کے بعد گھر سے نکال دیا گیا ہو، یا جو بے گھر ہونے سے بچنے کے لیے نکاح حلالہ کے عمل سے گزرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔
نکاح حلالہ سے مراد وہ عمل ہے جس میں طلاق کے بعد اپنے سابق شوہر سے دوبارہ نکاح کی خواہش رکھنے والی مسلم خاتون کو پہلے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا اور ازدواجی تعلق قائم ہونے کے بعد اس سے طلاق لینا پڑتی ہے۔ شاداب شمس نے کہا، ’’وقف بورڈ کی جائیدادوں پر خواتین کا پہلا حق ہے۔ ہم آئندہ وقف بورڈ کی میٹنگ میں ایسی بے گھر خواتین کو رہائش فراہم کرنے کی تجویز پیش کرنے جا رہے ہیں جو تین طلاق اور حلالہ سے متاثر ہوئی ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ یہ تجویز رواں ماہ کے آخر یا اگلے ماہ کے آغاز میں ہونے والی وقف بورڈ کی میٹنگ میں منظور کی جائے گی۔
شمس نے کہا کہ اکثر مسلم خواتین کو والدین کی جائیداد میں حصہ نہیں مل پاتا، جبکہ بعض اوقات والدین کی مالی حالت ایسی نہیں ہوتی کہ وہ بیٹی کی مدد کر سکیں۔ اس کے علاوہ شادی کے وقت طے کیا جانے والا مہر بھی اکثر بہت کم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’نکاح کے وقت اکثر 500 سے 5,000 روپے تک معمولی رقم مہر کے طور پر مقرر کی جاتی ہے۔ طلاق کے وقت شوہر یہ رقم ادا کرکے عورت کو چھوڑ دیتا ہے۔ 5,000 روپے سے ایک عورت کیا کر سکتی ہے؟ خاص طور پر جب اس کے بچے بھی اس کی ذمہ داری ہوں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں خاتون کو اپنے میکے والوں سے مدد مل سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود اس کے سامنے رہائش کا مسئلہ برقرار رہ سکتا ہے۔ شاداب شمس کے مطابق بعض معاملات میں بے گھر ہونے سے بچنے کے لیے تین طلاق سے متاثرہ خواتین کو حلالہ کے لیے مجبور کیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جہاں طلاق کے باوجود خواتین کو اپنے سابق شوہروں کی مرضی اور رحم و کرم پر اسی گھر میں رہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ان حالات کو دیکھتے ہوئے وقف بورڈ نے یہ تجویز تیار کی ہے۔ جن خواتین کے پاس رہنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، انہیں اب ایسی زیادتی برداشت کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ وقف بورڈ ان متاثرہ خواتین کے ساتھ کھڑا ہوگا۔‘‘ وقف بورڈ کے چیئرمین نے مزید کہا کہ ریاست میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ کے بعد یہ اقدام مسلم خواتین کو مزید مدد فراہم کرے گا۔