دہلی میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے سرمائی ایکشن پلان

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 29-09-2026
دہلی میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے سرمائی ایکشن پلان
دہلی میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے سرمائی ایکشن پلان

 



نئی دہلی: دہلی حکومت نے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے جامع ’سرمائی ایکشن پلان 2026-27‘ کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے میں سخت نگرانی اور کارروائی، گاڑیوں اور تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندیاں اور عوامی شرکت بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ مرکز اور دہلی حکومت مل کر دہلی-این سی آر میں آلودگی سے نمٹنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

اس منصوبے میں ’پوری حکومت‘ اور ’پورے معاشرے‘ کی شراکت کا طریقہ اپنایا گیا ہے، جس میں کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (سی اے کیو ایم)، مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی)، مقامی ادارے، دہلی پولیس اور دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) سمیت مختلف ادارے شامل ہیں۔ منصوبے کے تحت یکم اکتوبر سے تمام 500 ایسے پیٹرول پمپوں پر ’پی یو سی سی نہیں تو ایندھن نہیں‘ مہم مزید سخت کی جائے گی جہاں اے این پی آر سسٹم نصب ہے۔ جن گاڑیوں کے پاس درست پی یو سی سی نہیں ہوگا یا جو مقررہ مدت پوری کر چکی ہوں گی، انہیں ایندھن نہیں دیا جائے گا۔

یکم نومبر سے دہلی سے باہر رجسٹرڈ ایسی پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کے داخلے پر بھی پابندی ہوگی جو بی ایس-6 معیار پر پوری نہیں اترتی ہوں گی۔ سی این جی اور الیکٹرک گاڑیوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ تعمیراتی سرگرمیوں سے متعلق پابندیاں بھی مرحلہ وار نافذ کی جائیں گی۔ یکم نومبر سے 31 جنوری تک گرد پیدا کرنے والی مسماری اور کھلے مقامات پر تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی ہوگی، جبکہ 10 دسمبر سے 20 جنوری تک تعمیرات اور انہدام کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔ حکومت نے تعمیراتی مقامات پر 100 فیصد سی سی ٹی وی کوریج بھی لازمی قرار دی ہے۔

ٹریفک اور گاڑیوں سے ہونے والے آلودگی کے اخراج کو کم کرنے کے لیے سرکاری اور نجی دفاتر میں یکم نومبر سے 50 فیصد ملازمین کے لیے ورک فرام ہوم یا ہفتے میں دو دن گھر سے کام کا نظام نافذ کیا جائے گا۔ ایم سی ڈی کے دفاتر صبح 8:30 بجے سے شام 5 بجے تک، جبکہ دہلی حکومت کے دفاتر صبح 10 بجے سے شام 6:30 بجے تک کام کریں گے۔ مجاز پارکنگ مقامات پر پارکنگ فیس بھی دوگنی کی جائے گی، تاہم میٹرو پارکنگ اس سے مستثنیٰ ہوگی۔ حکومت نے سرمائی منصوبے کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو بھی فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

دہلی میں اس وقت 6,840 بسیں چل رہی ہیں، جن میں 5,088 الیکٹرک بسیں شامل ہیں۔ حکومت نے روزانہ میٹرو سے سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد 72 لاکھ اور ڈی ٹی سی بسوں کے مسافروں کی تعداد 42 لاکھ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ آخری منزل تک آمدورفت کو آسان بنانے کے لیے یکم سے 10 اکتوبر تک دہلی میٹرو سارتھی ایپ کے استعمال کو فروغ دینے کی مہم بھی چلائی جائے گی۔ سڑکوں سے اٹھنے والی گرد کو کم کرنے کے لیے حکومت نے تقریباً 3,000 کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر نو اور بہتری کا ہدف مقرر کیا ہے، جس میں سے 1,193 کلومیٹر پر کام مکمل ہو چکا ہے۔

گہری صفائی، مشینی صفائی، پانی کا چھڑکاؤ، فٹ پاتھوں کی بہتری اور خالی زمینوں پر سبزہ لگانے کا کام بھی تیز کیا جائے گا۔ فضائی آلودگی اور ٹریفک کے 37 حساس مقامات پر ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، کونسلروں اور نوڈل افسران کی جانب سے ہر ہفتے معائنہ کیا جائے گا۔ حکومت نے 15 اہم سڑکوں پر ٹریفک کو سگنل فری اور بھیڑ سے پاک بنانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے، جن میں سے آٹھ سڑکوں پر کام مکمل ہو چکا ہے۔ منصوبے میں ’زیرو برننگ‘ مہم، سکیورٹی گارڈز کے لیے سردی سے بچاؤ کے انتظامات اور مشینی سڑک صفائی میں اضافے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ مشینی صفائی کی گاڑیوں کی تعداد بڑھا کر 98 کر دی گئی ہے، جو دو شفٹوں میں کام کریں گی۔

صنعتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومت نے بتایا کہ 11,271 صنعتی یونٹوں کے سروے کے بعد 2,283 آلودگی پھیلانے والے یونٹوں کو سیل یا بند کیا جا چکا ہے۔ حکومت ’پریورتن یوجنا‘ اور ’ای وی پالیسی 2026‘ کے تحت مراعات کے ذریعے پرانی گاڑیوں کو اسکریپ کرنے اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو بھی فروغ دے گی۔ یکم اکتوبر سے مصنوعی ذہانت پر مبنی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ 334 انفورسمنٹ ٹیمیں دو شفٹوں میں کام کریں گی۔ شہری گرین دہلی ایپ کے ذریعے آلودگی سے متعلق شکایات درج کرا سکیں گے، جبکہ تجاویز دینے کے لیے ایک مخصوص پورٹل بھی دستیاب ہوگا۔