نئی دہلی: دہلی حکومت کی جانب سے دوسری ریاستوں میں رجسٹرڈ بی ایس-4 گاڑیوں پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد نوئیڈا، غازی آباد اور گروگرام میں سی این جی کٹ لگانے والے مراکز پر لوگوں کی بھیڑ بڑھ گئی ہے۔ ان مراکز کے مطابق، گاڑیوں کو سی این جی میں تبدیل کرانے کی مانگ میں 50 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ لوگ نئی گاڑیاں خریدنے کے بجائے اپنی موجودہ گاڑیوں میں سی این جی کٹ لگوانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ پابندیاں یکم نومبر سے نافذ ہوئی ہیں اور 31 جنوری 2027 تک جاری رہیں گی۔
ان کے تحت دہلی سے باہر رجسٹرڈ ایسی گاڑیوں کے شہر میں داخلے اور چلنے پر پابندی ہے جو بی ایس-6 اخراج کے معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ یہ پابندی بی ایس-4 اور اس سے پرانی پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں پر لاگو ہے، جب کہ سی این جی اور الیکٹرک گاڑیوں کے ساتھ مخصوص ہنگامی خدمات کی گاڑیوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ نوئیڈا، غازی آباد، گروگرام اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے بہت سے لوگ روزگار، تعلیم اور دیگر کاموں کے لیے روزانہ دہلی آتے جاتے ہیں۔ نئی پابندیوں کے بعد انہیں اپنے سفر کے ذرائع پر دوبارہ غور کرنا پڑ رہا ہے۔
ایسے کئی افراد اپنی پرانی پیٹرول گاڑیوں کو بی ایس-6 معیار کی نئی گاڑی سے تبدیل کرنے کے بجائے سی این جی میں تبدیل کرانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ نوئیڈا کے سیکٹر 122 میں سی این جی کٹ لگانے کے کاروبار سے وابستہ کار ماہر شکتی سنگھ نے بتایا کہ پابندیوں کے نفاذ کے بعد گزشتہ 15 دنوں میں مانگ میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، کسی گاڑی کو سی این جی میں تبدیل کرانے پر تقریباً 35,000 روپے خرچ آتا ہے، جو متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے نسبتاً سستا متبادل ہے۔
خاص طور پر ایسے خاندان، جن کے پاس صرف ایک چھوٹی کار ہے، اس سہولت میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔ شکتی سنگھ نے مزید کہا کہ کچھ گاہک ماحولیاتی آلودگی کم کرنے اور اپنی ذمہ داری کے احساس کے تحت بھی سی این جی کٹ لگوا رہے ہیں۔ غازی آباد میں بھی یہی رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ وہاں سی این جی کٹ لگانے والے ایک مرکز کے مطابق، گزشتہ 2 سے 3 دنوں میں 4 سے 5 گاڑیوں کو سی این جی میں تبدیل کیا گیا، جب کہ عام طور پر پورے ہفتے میں اتنی ہی گاڑیوں میں کٹ لگائی جاتی تھی۔ کرنال کے ایک دوسرے سی این جی انسٹالر نے بتایا کہ گزشتہ چند دنوں میں گاڑیوں میں سی این جی کٹ لگانے کے کام میں 25 سے 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ان کے پاس پہلے معلومات حاصل کر چکے گاہکوں کی جانب سے دوبارہ فون بھی آنے لگے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر سال آلودگی کے موسم میں کاروبار میں معمول کے مطابق اضافہ ہوتا ہے، لیکن اس بار مانگ میں تیزی زیادہ نمایاں ہے۔ نوئیڈا کے سیکٹر 83 میں کار کرافٹ کے یتن بنسل نے بتایا کہ ان کے مرکز پر سی این جی کٹ لگوانے کے سلسلے میں روزانہ آنے والی کالز اور پوچھ گچھ میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، ابتدا میں صرف معلومات حاصل کرنے والے کئی گاہک اب وقت لینے، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور دیگر ضروری کارروائیوں کے بارے میں جاننے کے لیے دوبارہ آ رہے ہیں۔
بنسل نے بتایا کہ بی ایس-4 گاڑیوں میں سی این جی کٹ لگوانے پر عموماً 35,000 سے 50,000 روپے تک خرچ آتا ہے، جب کہ بی ایس-6 گاڑیوں کے لیے یہ لاگت 50,000 سے 70,000 روپے کے درمیان ہو سکتی ہے۔ ان کے مرکز پر زیادہ تر متوسط طبقے کے گاڑی مالکان پوچھ گچھ کر رہے ہیں، جو نئی پابندیوں کو سی این جی میں تبدیلی کی بنیادی وجہ بتاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ روزانہ دفتر آنے جانے کے لیے اپنی ذاتی گاڑیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے افراد بدلتے ہوئے ٹرانسپورٹ ضابطوں اور آلودگی پر قابو پانے کے نئے اصولوں کے درمیان سی این جی کو ایک متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
غازی آباد کے ایک اور سی این جی کٹ مرکز کے مطابق، گزشتہ 2 سے 3 دنوں کے دوران روزانہ تقریباً 20 فون کالز موصول ہو رہی ہیں، جو معمول کے مقابلے میں کافی زیادہ ہیں۔ مرکز کے ایک اہلکار نے بتایا کہ گاہک ابتدائی معلومات لینے کے بعد دوبارہ رابطہ کر رہے ہیں اور فیصلہ کرنے سے پہلے لاگت، دستاویزات، رجسٹریشن کی شرائط اور کٹ لگانے کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلات معلوم کر رہے ہیں۔ آر بی آٹوز کے دیش راج نے بھی سی این جی کٹ لگوانے کے رجحان میں اضافے کی تصدیق کی۔ وہ گزشتہ 20 سال سے اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یکم نومبر کو نئی پابندیاں نافذ ہونے کے بعد پوچھ گچھ کرنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
ان کے مطابق، ہر سال آلودگی کے موسم میں کام بڑھتا ہے، لیکن اس مرتبہ یہ اضافہ زیادہ واضح ہے۔ گزشتہ سال بھی ایسا ہی رجحان دیکھنے میں آیا تھا، تاہم اس سال زیادہ گاڑی مالکان سی این جی مراکز سے رجوع کر رہے ہیں اور نئی پابندیوں نے ان کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح انتہائی خراب اور سنگین زمرے تک پہنچنے کے بعد سردیوں کے موسم میں شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں پر سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔ حالیہ آلودگی کے دوران قومی دارالحکومت کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 400 سے تجاوز کر گیا تھا۔ دوسری جانب، پڑوسی شہروں سے دہلی آنے والے مسافروں کو سرحدی راستوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاروں کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
دہلی-این سی آر کی کئی سرحدی چوکیوں پر گاڑیوں کو شہر میں داخل ہونے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ نئی پابندیوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے جانچ کے دوران گاڑیوں کی قطاریں لگ رہی ہیں اور کئی مقامات پر گاڑیاں ایک دوسرے کے پیچھے پھنسی نظر آ رہی ہیں۔ پڑوسی اضلاع سے بچوں کو دہلی کے اسکولوں میں چھوڑنے آنے والے والدین، دفاتر جانے والے ملازمین اور روزانہ سفر کرنے والے دیگر افراد بھی ان پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ بعض لوگوں کو شہر میں داخل ہونے کے لیے کئی گھنٹے تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔