دہرادون: اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے جمعہ کو وزیر اعلیٰ کیمپ آفس سے پڑوسی ملک نیپال کے آفت زدہ لوگوں کے لیے ضروری امدادی سامان لے جانے والی گاڑیوں کے قافلے کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ امدادی سامان میں ضروری اشیا شامل ہیں، جنہیں حالیہ قدرتی آفات سے متاثرہ نیپال کے ان خاندانوں کی مدد کے لیے بھیجا گیا ہے جو تباہی کے بعد مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی آر آر ایم اے) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ملک میں تباہ کن سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 1410 ہوگئی ہے، جبکہ 6145 افراد لاپتہ ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں بچاؤ، امداد اور بحالی کا کام جاری ہے۔
این ڈی آر آر ایم اے کی جمعرات کو جاری رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں 549 مرد، 336 خواتین اور 525 نامعلوم لاشیں شامل ہیں۔ سب سے زیادہ 364 اموات چتوان میں ہوئی ہیں۔ اس کے بعد نوالپراسی ایسٹ میں 232، نوالپراسی ویسٹ میں 222، نواکوٹ میں 203 اور رسوا میں 199 افراد کی موت ہوئی ہے۔ اس قدرتی آفت کے باعث ہزاروں افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ اب تک 13,756 لوگوں کو بچایا جاچکا ہے، جبکہ 19 اسپتالوں میں 344 افراد زیر علاج ہیں اور 290 افراد کو علاج کے بعد اسپتال سے چھٹی دی جاچکی ہے۔ سکیورٹی ایجنسیوں نے 9,820 لوگوں کو طبی امداد فراہم کی ہے۔
اس سے قبل جمعرات کو وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو جدید ہندوستان کا معمار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ ملک کے لیے وقف کیا ہے۔ دھامی نے کہا، ’’وزیر اعظم مودی جدید ہندوستان کے معمار ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ مادرِ ہند اور ملک کی فلاح و ترقی کے لیے وقف کیا ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’وزیر اعظم کی سالگرہ کے موقع پر میں اتراکھنڈ کے عوام کی جانب سے انہیں دلی مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ میں بھگوان سے، اتراکھنڈ کے دیوتاؤں، بابا کیدار اور بھگوان بدری وشال سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیشہ ان پر اپنی کرپا بنائے رکھیں۔ انہیں طویل اور صحت مند زندگی عطا ہو اور ہمارے ملک کو طویل عرصے تک ان کی قیادت سے فائدہ ملتا رہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے ’وکست بھارت‘ کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم مودی پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے ’وکست بھارت‘ کی تعمیر کا عزم پیش کیا۔ دھامی نے کہا کہ اس سمت میں ہر شعبے میں مسلسل کام ہو رہا ہے، چاہے نئے اداروں کا قیام ہو، نئے منصوبوں کا آغاز، تاریخی اقدامات، بنیادی ڈھانچے کی ترقی یا آئی آئی ایم، آئی آئی ٹی اور نئے ہوائی اڈوں کی تعمیر۔ انہوں نے کہا کہ چار اور چھ لین والی سڑکوں، ہائی ویز، اوور برجوں اور ریلوے کے شعبے میں بھی بے مثال کام ہوا ہے اور کوئی شعبہ اس سے اچھوتا نہیں رہا۔