اجین (مدھیہ پردیش): مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں پیر کے روز شاہی مسجد کمپلیکس کے اطراف سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ مسجد کے ایک حصے کو منہدم کیے جانے کے بعد احتجاج اور پتھراؤ کے چند واقعات پیش آئے۔ یہ کارروائی 2028 میں ہونے والے سنگھستھ کمبھ میلے کی تیاریوں کے تحت سڑکوں کی توسیع کے مجوزہ منصوبے کے سلسلے میں کی جا رہی ہے۔
سڑک کی توسیع کے کام کے تحت شاہی مسجد کے ایک حصے کو منہدم کیا گیا۔ اس کارروائی کے حوالے سے مختلف گروہوں کے درمیان اختلافات بھی سامنے آئے۔ موقع پر موجود مظاہرین نے گلیوں سے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ احتجاج میں شامل خواتین کو بھی آگے بڑھتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کے واقعات بھی پیش آئے۔
صورتحال کشیدہ ہونے کے باعث پولیس کی بھاری نفری موقع پر تعینات رہی تاکہ حالات کو قابو میں رکھا جا سکے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے مسجد کمپلیکس کو منہدم کیے جانے پر اعتراض کیا اور ریاستی حکومت سے عوام کے مذہبی جذبات کا احترام کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا:
’’سڑک کی توسیع کے نام پر اجین کی شاہی مسجد کو منہدم کرنے کی انتظامی کوششوں میں کچھ زیادہ حساسیت کا مظاہرہ کیا جانا چاہیے۔ ترقی اور خوشحالی کے نام پر محض سڑک چوڑی کرنے کے لیے 600 سال پرانی تاریخی وراثت کو منہدم کرنا نفرت کی انتہا ہے۔
مجھے معلوم ہوا ہے کہ جب یہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے تو انتظامیہ بار بار مسجد کا محاصرہ کرکے آخر کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟ اجین کے ہزاروں نوجوان مسلسل اس معاملے پر اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔
میری اجین انتظامیہ سے درخواست ہے کہ وہ عوامی جذبات کا احترام کرے اور سڑک کی توسیع کے لیے دوسری جانب سے ضروری زمین حاصل کرے۔ اتنی تاریخی اہمیت کی حامل وراثت کو منہدم کرنا کسی بھی صورت میں ایک معمول کی کارروائی نہیں سمجھی جا سکتی۔‘‘
دریں اثنا، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے اجین میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے آبائی گھر کے انہدام کی کارروائی میں بھی حصہ لیا۔
سنگھستھ کمبھ میلے کی تیاریوں کے تحت سڑکوں کی توسیع کے منصوبے کے لیے اجین میں مجموعی طور پر 272 عمارتوں اور دیگر تعمیرات کو منہدم کرنے کے لیے نشان زد کیا گیا ہے۔
اس موقع پر موہن یادو نے کہا کہ ان کے بچپن کے گھر کو منہدم کرنا ان کے لیے جذباتی طور پر ایک مشکل فیصلہ تھا، لیکن وسیع تر مفاد میں یہ ضروری تھا۔
انہوں نے کہا:’’یہ وہ جگہ ہے جہاں میں نے اپنا بچپن گزارا، جہاں میں کھیلتا اور دوڑتا پھرتا تھا۔ آج میں خود اپنے ہاتھوں سے اسے منہدم کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہوں۔ یقیناً اس سے جذباتی وابستگی ہے اور یہ میرے لیے ایک جذباتی لمحہ ہے۔ لیکن اگر انتظامیہ کے لیے یہ ضروری ہے اور سنگھستھ کمبھ میلے کے لیے ناگزیر ہے تو ہمیں یہ قربانی دینی ہوگی۔ مجھے اطمینان ہے کہ ہم سب مل کر یہ کام کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ان کا یہ اقدام ان لوگوں کے لیے ایک مثال قائم کرنے کی کوشش ہے جن کی جائیدادیں بھی اس منصوبے سے متاثر ہو رہی ہیں۔
موہن یادو کے مطابق:’’پوری ریاست اور ملک اس عمل کو دیکھ رہا ہے۔ لوگ اپنی مرضی اور خوشی سے اپنے مکانات منہدم کر رہے ہیں اور دوسروں کے فائدے کے لیے اس مقصد میں اپنا تعاون دے رہے ہیں، تاکہ اس سے بڑی تعداد میں لوگوں کو فائدہ پہنچ سکے۔‘‘
اجین میونسپل کارپوریشن کی چیئرپرسن کلاوتی یادو نے آئندہ مذہبی اجتماع کے لیے جاری تیاریوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سنگھستھ کمبھ میلہ دنیا کے سب سے بڑے روحانی اجتماعات میں سے ایک ہے، جو ہر 12 سال بعد منعقد ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا:’’2028 میں اجین میں سنگھستھ میلے کا انعقاد ہوگا۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے روحانی اجتماعات میں سے ایک ہے، جو ہر 12 سال بعد دریائے شپرا کے کنارے منعقد ہوتا ہے۔ اس میلے کی تیاریوں کے تحت بڑے پیمانے پر ترقیاتی کام کیے جا رہے ہیں۔ ان میں تقریباً 29 کلومیٹر طویل نئے گھاٹوں کی تعمیر، راستوں کی تبدیلی کے منصوبے، ڈیموں کی تعمیر اور شہر کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے دیگر کام شامل ہیں۔
اس میلے میں لاکھوں عقیدت مندوں کی آمد متوقع ہے، اس لیے سڑکوں کی توسیع ضروری ہو گئی ہے۔‘‘سڑکوں کی توسیع کا یہ منصوبہ اجین میں جاری وسیع تر بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد 2028 کے سنگھستھ کمبھ میلے کے دوران شہر میں آنے والے لاکھوں عقیدت مندوں کی آمد و رفت کو آسان بنانا ہے۔