نئی دہلی: ہندوستان کی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں میں ستمبر کی سہ ماہی کے دوران دو پہیہ گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی آمدنی میں سب سے زیادہ اضافے کی توقع ہے۔ تاہم، خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتیں گاڑیوں کی مضبوط فروخت سے ہونے والے فائدے کو محدود کر سکتی ہیں۔ یہ بات مالیاتی ادارے جیفریز کی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) میں تبدیلیوں کے بعد گاڑیوں کی مانگ میں جو اضافہ ہوا تھا، وہ سہ ماہی کے دوران بھی برقرار رہا۔
اس کے نتیجے میں گاڑیوں کے بیشتر زمروں میں تھوک فروخت کے حجم میں دو ہندسوں کی شرح سے اضافہ درج کیا گیا۔ جیفریز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ دو پہیہ گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی کارکردگی دیگر کمپنیوں کے مقابلے میں بہتر رہنے کی توقع ہے۔ مالیاتی ادارے کے اندازے کے مطابق، مالی سال 2026-27 کی دوسری سہ ماہی میں ٹی وی ایس موٹر کمپنی کے غیر معمولی اخراجات سے پہلے کے ٹیکس سے قبل منافع میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 45 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد بجاج آٹو کے منافع میں 26 فیصد اور آئشر موٹرز کے منافع میں 14 فیصد اضافے کا امکان ہے۔
تاہم، رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ خام مال کی قیمتوں میں اضافے سے منافع پر دباؤ پڑ سکتا ہے، حالاں کہ گاڑیوں کی فروخت میں بہتری آئی ہے۔ جیفریز کے مطابق، ٹاٹا موٹرز کی مسافر گاڑیوں کی اکائی کو چھوڑ کر اس کے زیرِ جائزہ گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کی مجموعی آمدنی میں ستمبر کی سہ ماہی کے دوران گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 27 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ آمدنی میں اس نمایاں اضافے کے باوجود، سود، ٹیکس، فرسودگی اور اثاثوں کی قدر میں کمی سے پہلے کی مجموعی آمدنی، یعنی ای بی آئی ٹی ڈی اے، میں صرف 7 فیصد اضافے کا امکان ہے۔ اس کی بڑی وجہ کاروباری منافع کی شرح پر برقرار دباؤ ہے۔
جیفریز کا اندازہ ہے کہ مجموعی منافع کی شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں 2.3 فیصد پوائنٹ کم ہو سکتی ہے، اگرچہ پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں اس میں معمولی، یعنی 0.2 فیصد پوائنٹ کی بہتری آنے کی توقع ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سہ ماہی کے دوران گاڑیوں کے بیشتر زمروں میں تھوک فروخت کا حجم مضبوط رہا۔ درمیانے اور بھاری تجارتی ٹرکوں کی فروخت میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 40 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ مسافر گاڑیوں کی فروخت 31 فیصد اور دو پہیہ گاڑیوں کی فروخت 16 فیصد بڑھی۔ اس کے برعکس، ٹریکٹروں کی فروخت میں 5 فیصد کمی درج کی گئی۔
جیفریز نے اس کمی کی وجہ گزشتہ سال فروخت کی بلند سطح اور اس سال کمزور مانسون کو قرار دیا ہے۔ مالیاتی ادارے کے مطابق، گاڑیوں کے شعبے میں کمپنیوں کی آمدنی اور منافع کی صورت حال یکساں نہیں رہے گی۔ دو پہیہ گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں فروخت میں اضافے کو منافع میں تبدیل کرنے کے معاملے میں نسبتاً بہتر پوزیشن میں ہیں، جب کہ خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پورے شعبے کے منافع کی شرح کو محدود کرتی رہیں گی۔