ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں اہم معدنیات پر توجہ: ماہر

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 23-09-2026
ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں اہم معدنیات پر توجہ: ماہر
ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں اہم معدنیات پر توجہ: ماہر

 



نئی دہلی: جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں چینی مطالعات کے پروفیسر سری کانت کونڈاپلی نے بدھ کے روز کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان امریکہ میں ہونے والی آئندہ ملاقات میں اہم معدنیات، سیمی کنڈکٹرز، تجارتی عدم توازن اور سرمایہ کاری سمیت کئی اہم معاملات پر توجہ مرکوز کیے جانے کا امکان ہے۔ اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کونڈاپلی نے کہا کہ یہ ملاقات امریکہ اور چین کی پالیسی میں تبدیلی کے پس منظر میں ہو رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ بیجنگ کے ساتھ تعلقات میں ’’تعمیری اسٹریٹجک استحکام‘‘ پر زور دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’پہلے کے دور میں امریکہ چین کو اسٹریٹجک حریف سمجھتا تھا، لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے ’تعمیری اسٹریٹجک استحکام‘ کی پالیسی شروع کی ہے۔ اس کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ وہ مسابقت کو کم کرنا اور دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں استحکام لانا چاہتے ہیں۔‘‘ کونڈاپلی کے مطابق اس پالیسی کا ایک تعلق ٹرمپ انتظامیہ کی روس-یوکرین تنازع، غزہ اور ایران سے متعلق ترجیحات سے بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی نقطۂ نظر سے بھی چین 2049 تک ’’چین کی تجدید‘‘ کے تصور پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ چین ’’مشترکہ مستقبل کی حامل برادری‘‘ کے تصور کو بھی دوسرے ممالک تک مزید وسعت دینا چاہتا ہے۔

کونڈاپلی نے بتایا کہ مئی میں ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے ’’تعمیری، باہمی تعاون پر مبنی اور اسٹریٹجک استحکام‘‘ کے لیے کام کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد ایسا قابلِ پیش گوئی تعلق قائم کرنا ہے جس میں تعاون کے لیے زیادہ گنجائش موجود ہو۔ تعاون کے ممکنہ شعبوں کا ذکر کرتے ہوئے کونڈاپلی نے کہا کہ اہم معدنیات کی مسلسل اور بلا تعطل فراہمی ایک اہم مسئلہ ہوگی۔

انہوں نے کہا، ’’پہلا معاملہ اہم معدنیات کی بلا تعطل فراہمی کا ہے، کیونکہ دنیا ان اہم معدنیات میں سے تقریباً 90 فیصد کے لیے چین پر منحصر ہے، جنہیں چین نے ایک طویل عرصے کے دوران حاصل کیا ہے۔‘‘ ان کے مطابق سیمی کنڈکٹرز بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم موضوع ہوں گے اور امکان ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کے دور میں عائد بعض پابندیوں میں نرمی پر بات ہو۔ کونڈاپلی نے کہا، ’’دوسرا معاملہ یہ ہے کہ امریکی سیمی کنڈکٹرز پر عائد اس پابندی میں نرمی کر سکتے ہیں جو بائیڈن انتظامیہ کے دور میں لگائی گئی تھی۔‘‘ انہوں نے مصنوعی ذہانت کو بھی اہم موضوع قرار دیا اور کہا کہ تجارتی عدم توازن اور سرمایہ کاری پر بھی خاص توجہ دی جائے گی۔

کونڈاپلی کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی عدم توازن بہت زیادہ ہے۔ اس لیے یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ چین امریکہ میں سرمایہ کاری کرے، امریکہ سے زیادہ اشیا درآمد کرے اور دیگر کاروباری سرگرمیاں بھی انجام دے، مثلاً امریکہ سے سویابین خریدنا۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت میں اہم معدنیات، سیمی کنڈکٹر سے متعلق چپس، تجارتی خسارے اور امریکہ میں چینی سرمایہ کاری پر خاص توجہ دی جا سکتی ہے۔ کونڈاپلی نے کہا، ’’ٹرمپ انتظامیہ سمجھتی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان چین کے حق میں 8.9 ٹریلین امریکی ڈالر کا تجارتی خسارہ قابلِ عمل صورتحال نہیں ہے۔ چین کو امریکہ سے درآمدات بڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنا سرمایہ بھی امریکہ منتقل کرنا چاہیے۔‘‘

کونڈاپلی نے مغربی ایشیا میں جاری تنازع کو بھی ایک حساس مسئلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ چاہے گی کہ چین ایران کو آلات اور انٹیلی جنس سے متعلق مدد فراہم نہ کرے۔ انہوں نے کہا، ’’تجویز یہ ہے کہ چین ایران کے تنازع کا حصہ بن کر تنازع کو مزید بڑھانے کے بجائے اس کے حل کا حصہ بنے۔‘‘ کونڈاپلی کے مطابق پاکستان اور چین کی جانب سے پیش کیا گیا پانچ نکاتی منصوبہ مغربی ایشیا کے تنازع کے ممکنہ حل کے ایک حصے کے طور پر دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے اور یہ بھی ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں زیر بحث آ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’بائیڈن انتظامیہ نے چین سے روس-یوکرین تنازع سے متعلق معاملات میں روس کی حمایت نہ کرنے کو کہا تھا، جبکہ اب ہم ٹرمپ کو ایران کے تنازع کی طرف توجہ منتقل کرتے دیکھ رہے ہیں۔ یہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک اہم اختلاف اور اہم موضوع ہو سکتا ہے۔‘‘ کونڈاپلی کے مطابق دو طرفہ معاملات کے علاوہ علاقائی استحکام، توانائی کا تحفظ، شمالی کوریا، تائیوان، جنوبی بحیرۂ چین اور خلا سے متعلق معاملات بھی بات چیت میں شامل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’وسیع تر تناظر میں یہ ’جی ٹو‘ سے بھی متعلق ہے، جس کا اعلان ٹرمپ نے چین اور امریکہ کے درمیان کیا تھا۔‘‘

ان کے مطابق چین کی درآمد شدہ توانائی کے وسائل پر انحصار اور روسی تیل کی درآمد سے متعلق ممکنہ امریکی پابندیوں کے اثرات کے پیش نظر توانائی کا تحفظ بھی اہم مسئلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا، ’’اس لیے ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں توانائی کے تحفظ پر بھی بات چیت ہوگی۔‘‘ کونڈاپلی نے مزید کہا کہ خلا سے متعلق معاملات، آبنائے تائیوان اور جنوبی بحیرۂ چین سمیت کئی دوسرے موضوعات بھی زیر بحث آ سکتے ہیں۔ تاہم دونوں رہنما غالباً ابتدا میں دو طرفہ معاملات پر توجہ دیں گے، جن میں گزشتہ اکتوبر میں بوسان میں طے پانے والے معاہدے اور مئی میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران طے پانے والی بعض باتیں شامل ہیں۔