نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاجی تحریک تیز کرنے کے لیے سپریم کورٹ تک مارچ کرنے کے اپوزیشن کے اعلان کے پیش نظر پیر کے روز مسلسل تیسرے دن بھی دہلی میں ہائی الرٹ رہا۔ دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے 30 ہزار سے زائد پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
گزشتہ ہفتے کے آخر میں گیانیش کمار کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران پولیس نے ہزاروں افراد کو حراست میں لیا تھا۔ ان میں کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنما اور سابق وزرائے اعلیٰ بھی شامل تھے۔ اپوزیشن جماعتوں نے 11 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ وہ پیر کے روز سپریم کورٹ تک مارچ کریں گی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ’’ووٹ چوری‘‘ بند کی جائے اور چیف الیکشن کمشنر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ احتجاج کے پیش نظر دہلی میٹرو کے چھ اسٹیشنوں کے داخلے اور باہر نکلنے کے تمام دروازے شام چار بجے تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دہلی پولیس کے حکام کے مطابق، غیر مجاز اجتماعات کو روکنے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے شہر کی سرحدوں، ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں اور دیگر حساس مقامات پر حفاظتی انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔ شہر کی سرحدوں پر گاڑیوں کی تلاشی میں تیزی لائی گئی ہے، جب کہ ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، مسافر خانوں اور دھرم شالاؤں میں بھی لوگوں کی شناخت کی جانچ کی جارہی ہے۔ حکام نے بتایا کہ مرکزی مسلح پولیس فورسز کی 120 سے زائد کمپنیاں دہلی پولیس کی مدد کررہی ہیں۔
نئی دہلی ضلع کو 20 زون میں تقسیم کیا گیا ہے، جہاں جوائنٹ کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سطح کے افسران موقع پر صورت حال کی نگرانی کررہے ہیں۔ مختلف شعبوں کے سربراہ خصوصی کمشنر بھی حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق، احتجاج کے لیے لوگوں کو جمع کرنے کی کسی بھی کوشش کا پتہ لگانے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کی بھی نگرانی کی جارہی ہے۔ گیانیش کمار کے خلاف یہ احتجاج ایسے وقت میں ہورہا ہے جب اخبار ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک رپورٹ میں انتخابی ادارے کے اندر اختلافات کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ دس ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ ریکارڈ پر اپنے اعتراضات درج کرائے۔ ان میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کا معاملہ بھی شامل تھا۔ اپوزیشن جماعتیں انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف اپنی تحریک تیز کرنے کی کوشش کررہی ہیں، جب کہ دہلی میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری تعیناتی کے ذریعے احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کی تیاری کی گئی ہے۔