ٹائیگر شراف فائرنگ کیس: اسلحہ سپلائی نیٹ ورک کا انکشاف

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 21-10-2026
ٹائیگر شراف فائرنگ کیس: اسلحہ سپلائی نیٹ ورک کا انکشاف
ٹائیگر شراف فائرنگ کیس: اسلحہ سپلائی نیٹ ورک کا انکشاف

 



ممبئی: اداکار ٹائیگر شراف کی گاڑی پر فائرنگ کے معاملے کی تحقیقات کرنے والے حکام نے اسلحہ سپلائی کرنے والے ایک مبینہ نیٹ ورک کا پتہ لگایا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اسلحہ امرتسر میں پہلے سے طے شدہ مقام سے ’ڈیڈ لیٹر باکس‘ نامی طریقۂ کار کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، کنال اور سمت نامی دو ملزمان تقریباً دو ہفتے قبل اسلحہ لینے کے لیے امرتسر گئے تھے۔ الزام ہے کہ انیل پنڈت نے انہیں پہلے ہی اس مقام کی اطلاع دے دی تھی، جہاں اسلحہ رکھا گیا تھا۔ انیل پنڈت کی کنال سے ایک خفیہ پیغام رسانی کی ایپ کے ذریعے بات چیت ہوتی تھی۔ ’ڈیڈ لیٹر باکس‘ سے مراد ایسی پہلے سے طے شدہ جگہ ہے، جہاں کوئی چیز کسی دوسرے شخص کے لیے رکھ دی جاتی ہے اور اسے لینے والے اور رکھنے والے کا آمنے سامنے آنا ضروری نہیں ہوتا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان کو یہ معلوم نہیں تھا کہ امرتسر میں اس مقام پر اسلحہ کس نے رکھا تھا۔ ذرائع کے مطابق، انیل پنڈت نے اس کام کے لیے مبینہ طور پر انہیں 70 ہزار سے 80 ہزار روپے دیے تھے۔ اس رقم میں سے تقریباً 10 ہزار سے 12 ہزار روپے ببیتا اور رادھا نامی دو خواتین کو دیے گئے، جنہیں اسلحہ ممبئی پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کنال رواں سال جولائی میں سونی پت کی جیل سے رہا ہوا تھا۔ رہائی کے بعد مبینہ طور پر ایک دوست نے اس کی ملاقات انیل پنڈت سے کرائی، جس کے بعد دونوں ایک خفیہ پیغام رسانی کی ایپ کے ذریعے رابطے میں رہنے لگے۔ تقریباً دو ہفتے قبل انیل پنڈت نے مبینہ طور پر کنال کو امرتسر سے اسلحہ حاصل کرنے اور اسے ممبئی پہنچانے کا انتظام کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔

تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ کنال نے اسلحہ ممبئی پہنچانے کے لیے اپنی گرل فرینڈ رادھا کی مدد لی۔ بتایا جاتا ہے کہ رادھا اور ببیتا دونوں سونی پت کی ایک فیکٹری میں کام کرتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، کنال کی رادھا سے تقریباً دو ماہ قبل ملاقات ہوئی تھی اور اس کے کہنے پر رادھا، ببیتا کے ساتھ ممبئی گئی تھی۔ یہ تازہ تفصیلات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ممبئی کرائم برانچ اتوار کی شام جوہو میں ٹائیگر شراف کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اس واقعے میں اداکار محفوظ رہے، تاہم ان کا ڈرائیور زخمی ہوگیا تھا۔ بدھ کے روز اس معاملے میں گرفتار کیے گئے تین اہم ملزمان کو راجستھان کے کوٹا سے ممبئی لایا گیا۔

طبی معائنے کے بعد انہیں پوچھ گچھ کے لیے اینٹی ایکسٹورشن سیل کے دفتر لے جایا گیا۔ ملزمان کے وکیل اجنکیا مرگل مدھوکر نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ ملزمان کو اینٹی ایکسٹورشن سیل لانے سے پہلے طبی معائنے کے لیے لے جایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پوچھ گچھ جاری ہے اور ملزمان کو اگلی صبح عدالت میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ ممبئی کرائم برانچ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ فائرنگ کرنے والوں نے ابتدا میں بالی ووڈ کی ایک دوسری مشہور شخصیت کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن سخت سکیورٹی کی وجہ سے اس شخصیت تک پہنچنے میں ناکامی کے بعد انہوں نے اپنا ہدف تبدیل کرلیا۔

پولیس نے اس مشہور شخصیت کی شناخت ظاہر نہیں کی ہے۔ کرائم برانچ کے مطابق، ملزمان نے بعد میں ٹائیگر شراف کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا، کیونکہ مبینہ طور پر ان کا خیال تھا کہ ان تک پہنچنا نسبتاً آسان ہوگا۔ دوسری جانب، ٹائیگر شراف کی انتظامی ٹیم نے اس واقعے کے حوالے سے اداکار کے نام سے منسوب جعلی بیانات، مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ویڈیوز اور دیگر غیر مجاز مواد کی تشہیر کے خلاف خبردار کیا ہے۔ ٹیم نے واضح کیا ہے کہ اداکار نے اس معاملے پر کوئی بیان یا ویڈیو جاری نہیں کی ہے۔ اس نے میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف تصدیق شدہ معلومات پر بھروسا کریں۔ فائرنگ کے واقعے اور اسلحہ سپلائی کرنے والے مبینہ نیٹ ورک کی تحقیقات جاری ہیں۔