ہندوستانی بحریہ میں تیسرا آبدوز شکن جنگی جہاز ’منگرول‘ شامل

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 12-10-2026
ہندوستانی بحریہ میں تیسرا آبدوز شکن جنگی جہاز ’منگرول‘ شامل
ہندوستانی بحریہ میں تیسرا آبدوز شکن جنگی جہاز ’منگرول‘ شامل

 



ممبئی: ہندوستانی بحریہ کے تیسرے آبدوز شکن جنگی جہاز ’منگرول‘ کو پیر کے روز ممبئی میں بحری بیڑے میں شامل کرلیا گیا۔ اس جہاز کی شمولیت سے بحریہ کی آبدوزوں کا پتہ لگانے اور انہیں ناکارہ بنانے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ خاص طور پر ساحلی پانیوں میں اس کی اہمیت زیادہ ہے، جہاں بڑے جنگی جہازوں کو کارروائیوں کے دوران بعض عملی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کوچی میں واقع کوچین شپ یارڈ لمیٹڈ نے اس جہاز کی تعمیر کی ہے۔ یہ جہاز سمندری گشت کرنے والے طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور دیگر جنگی جہازوں کے ساتھ مل کر آبدوزوں سے پیدا ہونے والے خطرات کا پتہ لگانے اور ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی شمولیت سے بندرگاہوں، لنگرگاہوں اور ساحلی سمندری راستوں کی حفاظت مضبوط ہوگی، ساتھ ہی بحریہ کی دوسری کارروائیوں میں بھی مدد ملے گی۔ سمندری سلامتی کے بدلتے ہوئے حالات اور زیرِ آب خطرات میں اضافے کے پیش نظر ’منگرول‘ کی شمولیت کو ہندوستانی بحریہ کی آبدوز شکن صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جارہا ہے۔ اس کی خاص اہمیت ساحلی اور کم گہرے پانیوں میں کارروائیوں کے لیے ہے۔

یہ جہاز ہندوستان میں جنگی جہازوں کی تیاری کے شعبے میں بڑھتی ہوئی خود انحصاری کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ جہاز کو بحریہ میں شامل کرنے کی تقریب کی صدارت مغربی بحری کمان کے فلیگ آفیسر کمانڈنگ اِن چیف وائس ایڈمرل سنجے وتساین نے کی۔ ’منگرول‘ کا نام گجرات کے ضلع جوناگڑھ کے ساحلی قصبے اور مچھلیوں کی تجارت کے اہم مرکز منگرول کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ نام ہندوستانی بحریہ کے سابق جہاز آئی این ایس منگرول (ایم 85) کی یاد بھی تازہ کرتا ہے، جو بارودی سرنگوں کا پتہ لگانے اور انہیں صاف کرنے والا جہاز تھا اور اپریل 2004 تک بحریہ کی خدمات انجام دیتا رہا۔ نئے جہاز کا نام اسی سابقہ جہاز کی روایت اور ورثے کو برقرار رکھنے کے لیے رکھا گیا ہے۔

ہندوستانی بحریہ کے مطابق، ’منگرول‘ کی تعمیر میں 80 فیصد سے زیادہ مقامی طور پر تیار کردہ سامان اور آلات استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ ہندوستان کی جنگی جہازوں کے ڈیزائن، تعمیر اور جدید ہتھیاروں و حساس آلات کو جہاز میں نصب کرنے کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔ ساحلی اور کم گہرے پانیوں میں زیرِ آب خطرات کا پتہ لگانے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے اس جہاز میں جدید ہتھیار اور حساس آلات نصب ہیں۔ ان میں ’ابھے‘ نامی جہاز کے نچلے حصے میں نصب سونار نظام، ہلکے وزن والے تارپیڈو، مقامی طور پر تیار کردہ آبدوز شکن راکٹ لانچر اور ’ماریچ‘ نامی جدید تارپیڈو دھوکا دینے والا نظام شامل ہیں۔

سونار زیرِ آب اشیا اور آبدوزوں کا پتہ لگانے میں مدد دیتا ہے، جب کہ تارپیڈو دھوکا دینے والا نظام دشمن کے تارپیڈو کو اصل ہدف سے دور کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تین ڈیزل انجنوں اور واٹر جیٹ نظام سے چلنے والا یہ جہاز کم گہرے پانیوں میں تیزی سے رخ بدلنے اور مؤثر انداز میں نقل و حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آبدوز شکن کارروائیوں کے علاوہ یہ زیرِ آب نگرانی، محدود پیمانے کی بحری کارروائیوں اور سمندری بارودی سرنگوں سے متعلق کاموں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ’منگرول‘ کی شمولیت سے ہندوستانی بحریہ کو ساحلی علاقوں میں آبدوزوں کے خطرات سے نمٹنے، اہم بندرگاہوں کی حفاظت کرنے اور سمندری حدود کی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔