نئی دہلی:، مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کام کرنے والے اسٹارٹ اپ تھنکنگ مشینز لیب نے اپنی دوسری نسل کا اے آئی ماڈل ’انکلنگ 2 سمال‘ لانچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے اپنے بلاگ میں بتایا کہ نیا ماڈل ’مکسچر آف ایکسپرٹس‘ (MoE) طرز کے نظام پر مبنی ہے، جس میں مجموعی طور پر 594 ارب پیرامیٹرز ہیں، جبکہ حسابی عمل کے دوران 17 ارب پیرامیٹرز فعال رہتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق ’انکلنگ 2 سمال‘ نے ’آرٹیفیشل اینالیسس انٹیلی جنس انڈیکس‘ میں اس کے سابقہ ماڈلز کے مقابلے میں نمایاں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اسے 31 اسکور حاصل ہوا ہے۔
کمپنی نے کہا کہ اس بہتری میں خودکار ایجنٹ کے ذریعے کوڈنگ، وژن، علمی کام اور استدلال جیسے شعبوں میں کارکردگی کا اہم کردار ہے۔ بلاگ پوسٹ کے مطابق یہ نظام تصویری معلومات کو سمجھ سکتا ہے اور ضرورت کے مطابق مختلف سطح کی کمپیوٹیشنل صلاحیت استعمال کرتا ہے، تاہم اس میں آڈیو سپورٹ شامل نہیں ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ابتدائی ماڈل کے مقابلے میں ’انکلنگ 2 سمال‘ کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر طویل اور خودکار کام کے سلسلے انجام دینے کے معاملے میں۔ کمپنی نے کہا کہ اس ماڈل کی بہتر صلاحیتیں تربیتی عمل کے ہر مرحلے میں کی گئی اصلاحات کا نتیجہ ہیں، جن میں زیادہ مؤثر پری ٹریننگ اور بڑے پیمانے پر یکجا ری اِنفورسمنٹ لرننگ شامل ہے۔
کمپنی کے مطابق ’انکلنگ 2 سمال‘ کو ری اِنفورسمنٹ لرننگ کے ذریعے لاکھوں نہیں بلکہ لاکھوں سے کم، یعنی سیکڑوں ہزاروں طویل مدتی کوڈنگ کاموں پر تربیت دی گئی، جس میں مختلف ایجنٹ ہارنسز اور کانٹیکسٹ کو مختصر کرنے کی حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا۔ تھنکنگ مشینز نے بتایا کہ ماڈل کی تربیت میں مصنوعی کوڈنگ پائپ لائنز کو ایسے ایجنٹ پر مبنی ری اِنفورسمنٹ لرننگ جائزہ کاروں کے ساتھ جوڑا گیا، جنہوں نے صرف کوڈ کے بنیادی نتائج ہی نہیں بلکہ مسائل حل کرنے کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا۔
ماڈل کے ابتدائی تجرباتی ورژنز کو حقیقی دنیا میں ڈویلپرز کے کاموں کی صلاحیت جانچنے کے لیے ’اوپن کوڈ‘ بینچ مارک پر ’فلیج-الفا‘ کے نام سے آزمایا گیا۔ کمپنی نے کہا کہ ’انکلنگ 2 سمال‘ کی وژن اور ایجنٹ پر مبنی صلاحیتیں اسے بصری فیڈ بیک استعمال کرتے ہوئے ویب سائٹس، گیمز اور 3D ڈیزائن تیار کرنے اور ان میں مسلسل بہتری لانے کے قابل بناتی ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ ماڈل کوڈنگ میں زیادہ مضبوط ہونے کے ساتھ حقیقی ایجنٹ سسٹمز میں استعمال کے لیے بھی زیادہ آسان ہے۔ یہ ہدایات کو بہتر طور پر سمجھتا ہے، تبدیلیوں پر زیادہ احتیاط سے غور کرتا ہے اور بغیر کہے اپنے کام کی جانچ بھی کرتا ہے۔
تاہم کمپنی نے ماڈل کی کچھ خامیوں اور حدود کی بھی نشاندہی کی ہے۔ اس ماڈل کو گفتگو پر مبنی انٹرفیس کے لیے ابھی مکمل طور پر بہتر نہیں بنایا گیا ہے اور اس میں متن کی فارمیٹنگ، ضرورت سے زیادہ فارورڈ سلیش استعمال کرنے اور ذہنی صحت و صارفین کی حفاظت سے متعلق درخواستوں کے معاملے میں زیادہ حساسیت جیسی خامیاں موجود ہیں۔ کمپنی کے مطابق ماڈل بعض اوقات ضرورت سے زیادہ تفصیلی زبان استعمال کرتا ہے اور ایسے سافٹ ویئر ماحول میں ٹولز کے استعمال کا غلط انتخاب بھی کر لیتا ہے جہاں بہت بڑی تعداد میں ٹولز دستیاب ہوں۔ کمپنی کے بلاگ میں کہا گیا ہے کہ ’انکلنگ 2 سمال‘ ابتدائی طور پر ’ٹِنکر‘ کے ذریعے بند ویٹس کے ساتھ دستیاب ہوگا۔
کمپنی نے بتایا کہ بیرونی حفاظتی جانچ اور ریڈ ٹیمنگ مکمل ہونے کے بعد اگلے ہفتے ماڈل کے مکمل ویٹس کو ’اپاچی 2.0‘ لائسنس کے تحت جاری کرنے کا ارادہ ہے۔ تھنکنگ مشینز نے جولائی 2025 میں ابتدائی مرحلے کی فنڈنگ کے ایک دور میں 2 ارب امریکی ڈالر حاصل کیے تھے، جس کے بعد کمپنی کی مجموعی قدر 12 ارب امریکی ڈالر مقرر ہوئی تھی۔ اس فنڈنگ راؤنڈ میں این ویڈیا، اے ایم ڈی، سسکو اور جین اسٹریٹ سمیت ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری سے وابستہ کمپنیوں نے حصہ لیا تھا۔