سپریم کورٹ نے نیوز کلک اور صحافی پربیر پرکایستھ سے جواب طلب کیا

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 06-11-2026
سپریم کورٹ نے نیوز کلک اور صحافی پربیر پرکایستھ سے جواب طلب کیا
سپریم کورٹ نے نیوز کلک اور صحافی پربیر پرکایستھ سے جواب طلب کیا

 



نئی دہلی:سپریم کورٹ نے جمعہ کو نیوز پورٹل ’نیوز کلک‘ اور اس کے مدیر اعلیٰ پربیر پرکایستھ سے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی اس عرضی پر جواب طلب کیا ہے، جس میں دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی سے متعلق منی لانڈرنگ کا مقدمہ ختم کر دیا گیا تھا۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے نیوز کلک اور پربیر پرکایستھ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 4 ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی۔

سماعت کے آغاز پر ای ڈی کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایجنسی کی پیروی کرنے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو دستیاب نہیں ہیں۔ اس لیے جواب داخل کرنے کے لیے 4 ہفتوں کا وقت دیا جائے۔ اس پر جسٹس باگچی نے تبصرہ کیا کہ اس اپیل سے اعتماد پیدا نہیں ہوتا۔ ای ڈی کے وکیل نے دلیل دی کہ دہلی پولیس بھی اصل جرم سے متعلق ایف آئی آر منسوخ کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کی کارروائی کر رہی ہے۔ انہوں نے اس کے لیے بھی 4 ہفتوں کا وقت مانگا اور سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی۔

سپریم کورٹ میں دائر اپنی عرضی میں ای ڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت درج مقدمے کی جانچ کیے بغیر ہی ایجنسی کی جانب سے درج انفورسمنٹ کیس انفارمیشن رپورٹ (ای سی آئی آر) کو منسوخ کر دیا۔ ایجنسی نے یہ بھی اعتراض کیا کہ فیصلے کا اعلان کرنے میں غیر معمولی طور پر 5 ماہ کی تاخیر کی گئی۔ دہلی ہائی کورٹ نے 29 مئی کو اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ دہلی پولیس کی اقتصادی جرائم شاخ (ای او ڈبلیو) کی جانب سے درج ایف آئی آر کو برقرار رکھنا ’’قانونی عمل کا سنگین غلط استعمال‘‘ ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ جب اصل جرم سے متعلق ایف آئی آر ہی منسوخ کر دی گئی ہے تو اس معاملے میں ای ڈی کی جانب سے درج ای سی آئی آر بھی ختم کی جانی چاہیے۔ ای او ڈبلیو نے 2020 میں درج ایف آئی آر میں الزام لگایا تھا کہ نیوز کلک کی اصل کمپنی پی پی کے نیوز کلک اسٹوڈیو پرائیویٹ لمیٹڈ کو مالی سال 2018-19 کے دوران امریکہ کی کمپنی ورلڈ وائیڈ میڈیا ہولڈنگز ایل ایل سی سے 9.59 کروڑ روپے کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) حاصل ہوئی تھی۔ الزام تھا کہ یہ سرمایہ کاری غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حاصل کی گئی، جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا۔