نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کو 2 نومبر کو اپنی طے شدہ جنرل باڈی میٹنگ منعقد کرنے کی اجازت دے دی۔ اس میٹنگ میں انتخابی اصلاحات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے یہ ہدایت بھی دی کہ اگر میٹنگ میں ووٹنگ کرائی جاتی ہے تو وہ خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوگی اور اس کے نتائج کا اعلان نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ ووٹنگ کے نتائج ایک سربمہر لفافے میں عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں۔
یہ ہدایات اس وقت جاری کی گئیں جب سپریم کورٹ کی جانب سے بار ایسوسی ایشن میں اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے مقرر کردہ کمیٹی کے سربراہ اور سینئر وکیل جے دیپ گپتا نے زبانی طور پر عدالت کی توجہ مجوزہ میٹنگ کی جانب مبذول کرائی اور اس پر اپنے خدشات ظاہر کیے۔ گپتا نے بنچ کو بتایا کہ ایس سی بی اے نے ایک خصوصی جنرل باڈی میٹنگ بلائی ہے، جس میں سپریم کورٹ کے 29 مئی کے حکم سے متعلق 2 قراردادوں پر غور کیا جائے گا۔ ان قراردادوں کا تعلق پراکسیمیٹی کارڈ کے ذریعے داخلے اور بار ایسوسی ایشن کے سینئر ارکان سے ہے۔ یہ میٹنگ ایسے وقت میں ہورہی ہے جب ایس سی بی اے بنام بی ڈی کوشک معاملے میں اگلی سماعت 5 نومبر کو ہونی ہے۔
اس معاملے میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابی نظام میں اصلاحات کی نگرانی کررہی ہے۔ جے دیپ گپتا نے واضح کیا کہ انہیں کسی بھی قرارداد کی منظوری پر اعتراض نہیں ہے، لیکن انہوں نے سوال اٹھایا کہ میٹنگ بلانے کا طریقہ کار درست تھا یا نہیں۔ ایس سی بی اے کے صدر اور سینئر وکیل پردیپ رائے نے ایسوسی ایشن کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ میٹنگ بلانے کا مقصد ایگزیکٹو کمیٹی کی جانب سے کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے ارکان کے خیالات معلوم کرنا ہے۔ رائے نے کہا کہ ان خدشات کو عدالت میں لانے کے بجائے ایسوسی ایشن کے اندر بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکتا تھا۔
انہوں نے کہا، ’’عدالت میں آنے کے بجائے ہم اس معاملے کو آپس میں حل کرسکتے تھے۔ عدالت کا قیمتی وقت کیوں ضائع کیا جائے؟‘‘ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالت کی مقرر کردہ کمیٹی کی تجاویز کا مقصد حقیقی طور پر باقاعدگی سے پریکٹس کرنے والے وکلا کی حیثیت کو مضبوط بنانا ہے، نہ کہ ان کے حقوق محدود کرنا۔ چیف جسٹس نے کہا، ’’جو لوگ حقیقت میں سپریم کورٹ آتے ہیں اور بار، ادارے اور نظام سے دلچسپی رکھتے ہیں، ہم انہیں مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ ایسے تمام بیرونی افراد، جن کا اس پیشے سے کوئی تعلق نہیں ہے، انہیں الگ کیا جانا چاہیے اور باہر رکھا جانا چاہیے۔‘‘
آخر میں بنچ نے ایس سی بی اے کو 2 نومبر کی میٹنگ منعقد کرنے کی اجازت دے دی، تاہم یہ شرط عائد کی کہ اگر ووٹنگ ہوتی ہے تو خفیہ رائے شماری کے ذریعے کرائی جائے اور عدالت کی مزید ہدایات تک نتائج ظاہر نہ کیے جائیں۔ چیف جسٹس نے کہا، ’’اب جبکہ آپ نے میٹنگ بلا لی ہے تو اسے منعقد کرسکتے ہیں، لیکن نتائج کا اعلان نہ کریں۔ انہیں ایک سربمہر لفافے میں رکھیں اور عدالت میں پیش کریں۔‘‘