امپھال: منی پور کے وزیر داخلہ گوونداس کونتھوجام نے جمعہ کو کہا کہ ریاست میں مختلف برادریوں کے درمیان اختلافات کا حل صرف بات چیت کے ذریعے ہی نکالا جاسکتا ہے، ہتھیاروں کے استعمال سے نہیں۔ ایک پروگرام کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کونتھوجام نے کہا کہ امن صرف مذاکرات کے ذریعے قائم ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے مختلف برادریوں کے درمیان اعتماد کی کمی کو دور کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا، ’’امن مذاکرات سے قائم ہوتا ہے، بندوق کی نالی سے نہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے اور بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ہمارے درمیان اعتماد کی جو کمی ہے، اسے آہستہ آہستہ دور کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ صرف حفاظتی انتظامات سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔‘‘
وزیر داخلہ نے مزید کہا، ’’منی پور کے تمام باشندے آپس میں بھائی بہن ہیں۔ ہمیں مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے اور اپنے اختلافات کو حل کرنا چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے بات چیت کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور مختلف متعلقہ فریقوں کو ایک ساتھ بٹھا کر مذاکرات بھی کیے ہیں۔ کونتھوجام نے کہا، ’’حکومت نے کوشش کی ہے اور ہم نے مل بیٹھ کر بات چیت بھی کی ہے۔‘‘ وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ مواصلاتی سہولتوں میں بہتری کی وجہ سے مسلح شرپسند اکثر سکیورٹی فورسز کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی گاؤں سے فرار ہوجاتے ہیں۔