تہواروں کے موسم میں آر بی آئی شرح سود بڑھانے سے گریز کرے

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 21-09-2026
تہواروں کے موسم میں آر بی آئی شرح سود بڑھانے سے گریز کرے
تہواروں کے موسم میں آر بی آئی شرح سود بڑھانے سے گریز کرے

 



ممبئی: پیرا مل گروپ کے چیف اکانومسٹ دیبوپم چودھری نے کہا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کو اپنی آئندہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاس میں شرح سود بڑھانے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ تہواروں کے موسم میں قرض مہنگا ہونے سے صارفین کے اخراجات اور کمپنیوں کی قرض لینے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔

پیر کو ممبئی میں اے این آئی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چودھری نے کہا کہ اس وقت شرح سود میں اضافہ صارفین پر ماہانہ قسط یعنی ای ایم آئی کا بوجھ بڑھا سکتا ہے، جس سے خاص طور پر تہواروں کے دوران غیر ضروری یا اختیاری اشیا پر خرچ کم ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’تہواروں کے دوران اگر صارفین پر ای ایم آئی کا بوجھ بڑھتا ہے تو اختیاری اخراجات کی طلب سست پڑ سکتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس اجلاس میں شرح سود میں اضافہ نہیں ہوگا، کیونکہ یہ تہواروں کا اہم دور ہے۔‘‘ چودھری کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور ملکی کھپت میں بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اقتصادی سرگرمی سست رہنے کے بعد رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اس میں بہتری آئی ہے اور اب نجی شعبے کی سرمایہ کاری بھی سرکاری اخراجات کے ساتھ اقتصادی سرگرمی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ رفتار برقرار رہنی چاہیے، بشرطیکہ سرمایہ بہت زیادہ مہنگا یا کسی وجہ سے محدود نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی میں حالیہ تبدیلیاں اور تہواروں کے دوران بڑھنے والی طلب بھی جی ڈی پی کی ترقی کو مزید سہارا دے سکتی ہیں، اس لیے معیشت کی بحالی کے لیے کاروباری اداروں اور صارفین کو سرمایہ آسانی سے دستیاب رہنا اہم ہے۔ چودھری نے آنے والے تین سے پانچ برسوں میں ہندوستانی معیشت کے سامنے موجود سب سے بڑے بنیادی چیلنج کے طور پر نوجوان آبادی کے لیے روزگار پیدا کرنے کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً ہر پانچ نوجوانوں میں سے ایک اس وقت اچھے معیار کی ملازمت سے محروم ہے، جو ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق اگر اگلے تین سے پانچ برسوں میں نوجوانوں کو پیداواری اور بامعنی روزگار میں شامل نہیں کیا گیا تو اس کے نتیجے میں بڑے سماجی اور اقتصادی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

بینکنگ نظام میں لیکویڈیٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چودھری نے 127 ارب امریکی ڈالر کے ایف سی این آر (بی) ڈپازٹس کے مالیاتی نظام میں آنے سے متعلق خدشات پر بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ بینک اس اضافی لیکویڈیٹی کو پیداواری قرضوں کے لیے استعمال کریں گے، تاہم اس دوران قرض دینے کے معیار اور خطرات کے جائزے کے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق این بی ایف سی اور بینکوں میں خطرات کم کرنے والی بہتر ٹیکنالوجی اور قرض کی جانچ کے بہتر طریقہ کار کی وجہ سے مالیاتی ادارے اس رقم کو محتاط انداز میں استعمال کر سکتے ہیں۔

اس طرح بینکنگ نظام میں آنے والی اضافی لیکویڈیٹی پیداواری شعبوں کے لیے قرض کی فراہمی میں مدد دے سکتی ہے، بشرطیکہ قرض دینے والے ادارے اپنے خطرات کا مناسب اندازہ اور ضروری جانچ جاری رکھیں۔ بیرونی خطرات کے بارے میں چودھری نے کہا کہ اگر خام تیل کی قیمت 90 امریکی ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرتی ہے تو ہندوستان کی سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) اور روپے پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے دوران ہندوستان کی خریداری کی قیمت 110 سے 111 امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ رہی ہے۔ ایسی صورتحال میں ریزرو بینک کو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ پر نظر رکھنی ہوگی۔

چودھری کے مطابق ایسی سطح پر آر بی آئی ڈالر-روپیہ شرح میں اتار چڑھاؤ کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات کرے گا، تاہم مجموعی شرح تبادلہ کو مارکیٹ کے ذریعے طے ہونے دیا جائے گا۔ مجموعی طور پر چودھری نے ہندوستان کی اقتصادی ترقی کے مستقبل کے بارے میں امید کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق اگر سرمایہ تک رسائی میں رکاوٹ پیدا نہ ہو اور پالیسیوں کے استحکام کے ذریعے صارفین کی طلب کو مناسب سہارا ملتا رہے تو ہندوستان کی اقتصادی ترقی کی موجودہ رفتار برقرار رہ سکتی ہے۔