ممبئی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے کارکن ابھجیت دپکے نے جمعہ کو ایک بار پھر کہا کہ دہلی پولیس سے اجازت نہ ملنے کے باوجود ان کی تنظیم 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر احتجاج کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس اجازت دے یا نہ دے، احتجاج ہر حال میں ہوگا اور کارکنان گرفتاری کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ احتجاج سے پہلے کیے گئے اقدامات پر سوال اٹھاتے ہوئے دپکے نے کہا، ’’یہ خوف کیسا ہے؟ آپ اتنے ڈرے ہوئے کیوں ہیں؟ آپ ملک کے نوجوانوں سے خوف زدہ ہیں۔ آپ نے ٹرینیں بند کر دیں، میٹرو بند کر دی، اب لوگوں کو کیا کرنا چاہیے؟‘
‘ انہوں نے مسافروں کو ہونے والی پریشانی کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ عوامی ٹرانسپورٹ اور سڑکوں پر پابندیاں لگا کر عام لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں۔ دپکے نے کہا، ’’کیا دہلی نریندر مودی یا امت شاہ کی جاگیر ہے؟ کیا یہ ان کی آبائی جائیداد ہے؟ ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ احتجاج کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی ہو رہی ہے، اور دوسری طرف آپ پوری میٹرو، تمام ریل خدمات بند کر دیتے ہیں اور سڑکیں روک دیتے ہیں۔ تو کیا اس سے لوگوں کو پریشانی نہیں ہوگی؟‘‘ انہوں نے کہا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے کارکن مجوزہ احتجاج کے دوران حراست میں لیے جانے یا گرفتار ہونے سے نہیں ڈرتے۔
دپکے نے کہا، ’’آپ کتنے لوگوں کو حراست میں لیں گے؟ مجھے گرفتار کر لیجیے، حراست میں لے لیجیے! سوربھ تیار ہے، آشوتوش تیار ہے۔ مجھے گرفتار کر لیجیے، حراست میں لے لیجیے!‘‘ پولیس سے احتجاج کی اجازت لینے کی ضرورت پر سوال اٹھاتے ہوئے دپکے نے آئین کے آرٹیکل 19 کا حوالہ دیا اور کہا کہ جنتر منتر احتجاج کے لیے مقررہ مقام ہے۔
انہوں نے کہا، ’’کیا گیانیش کمار نے اجازت لی تھی؟ 13 کروڑ ووٹروں کے نام حذف کرنے سے پہلے کیا گیانیش کمار نے اجازت لی تھی؟ فارم 6 میں ترمیم کو سپریم کورٹ نے بھی منظوری نہیں دی تھی۔ جب گیانیش کمار نے کسی کو بتائے بغیر، کسی سے پوچھے بغیر 13 کروڑ ووٹروں کے نام حذف کر دیے، تو ان کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے ہمیں آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت جو حق حاصل ہے، اس کے لیے اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ دپکے نے دہلی پولیس کے اس بیان پر بھی سوال اٹھایا کہ جنتر منتر پر احتجاج کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینا ضروری ہے۔ انہوں نے ان پابندیوں کو مجوزہ احتجاج سے جوڑتے ہوئے کہا کہ حکومت شدید خوف کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’حکومت بہت زیادہ سنجیدہ ہو گئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ نریندر مودی اور امت شاہ کو اپنا بلڈ پریشر چیک کرتے رہنا چاہیے۔ حکومت جس طرح کا خوف ظاہر کر رہی ہے، وہ حیران کن ہے۔‘
‘ دہلی پولیس نے 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کے مجوزہ احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ پولیس نے اس کی وجوہات میں مختصر نوٹس، ماضی میں ہدایات پر عمل نہ کرنے اور عوامی تحفظ، امن و قانون اور ٹریفک کے انتظام سے متعلق خدشات کا حوالہ دیا ہے۔ دہلی پولیس کی جوائنٹ کمشنر نپور پرساد نے بتایا کہ نئی دہلی ضلع میں 7 اکتوبر کو کاکروچ جنتا پارٹی کے شریک کنوینر سوربھ داس کی جانب سے درخواست موصول ہوئی تھی، جس میں 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر کی جواب دہی کے مطالبے کے سلسلے میں احتجاج کی اطلاع دی گئی تھی۔
نپور پرساد کے مطابق، ’’ہمیں کاکروچ جنتا پارٹی کے شریک کنوینر سوربھ داس کی درخواست موصول ہوئی تھی۔ اس میں 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر احتجاج کی اطلاع دی گئی تھی۔ اس احتجاج کا تعلق چیف الیکشن کمشنر کی جواب دہی سے تھا۔ درخواست پر غور کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اطلاع بہت کم وقت پہلے دی گئی ہے، جبکہ مقررہ رہنما اصولوں کے مطابق احتجاج کی اطلاع 10 دن پہلے دینا ضروری ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے پہلے بھی کاکروچ جنتا پارٹی کو وہاں احتجاج کی اجازت دی گئی تھی، لیکن اس موقع پر تنظیم نے قانونی ہدایات اور اپنی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں پر عمل نہیں کیا تھا۔
نپور پرساد کے مطابق، قانونی ہدایات اور یقین دہانیوں کی خلاف ورزی، موجودہ امن و قانون کی صورت حال اور عوامی تحفظ و ٹریفک کے انتظام سے متعلق خدشات کے پیش نظر اس بار اجازت مسترد کر دی گئی ہے۔ جوائنٹ کمشنر نے یہ بھی بتایا کہ نئی دہلی کے علاقے میں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 نافذ ہے، جس کے تحت امن عامہ اور عوامی تحفظ برقرار رکھنے کے لیے احتیاطی پابندیاں عائد ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس دفعہ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کی جائے گی۔