نئی دہلی: پریس کونسل آف انڈیا (پی سی آئی) نے بدامنی اور احتجاجی مظاہروں کے دوران صحافیوں کی سلامتی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے لیے تفصیلی رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔ ان ہدایات میں پیشہ ورانہ طرزِ عمل، ذاتی حفاظت اور صحافتی اخلاقیات کے مطابق رپورٹنگ پر زور دیا گیا ہے۔ پریس کونسل کے مطابق، ان ہدایات کا مقصد صحافیوں کی سلامتی کو یقینی بنانے، ذمہ دارانہ رپورٹنگ کو فروغ دینے اور صحافیوں، میڈیا اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے کے ساتھ صحافتی فرائض کی مؤثر انجام دہی میں مدد دینا ہے۔
صحافیوں کی شناخت اور پیشہ ورانہ طرزِ عمل سے متعلق ہدایات میں کونسل نے کہا ہے کہ صحافی اپنے میڈیا ادارے کی جانب سے جاری کردہ شناختی کارڈ یا پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) اور محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی پی) کی منظوری کا کارڈ اپنے ساتھ رکھیں۔ شناختی کارڈ کو ہر وقت نمایاں طور پر دکھانا ضروری ہے۔ اسے گلے میں ڈالنے کے لیے ایسے پٹے کا استعمال کیا جائے جسے اس طرح محفوظ کیا جاسکے کہ کسی چیز میں پھنسنے کا خطرہ کم سے کم ہو۔ غیر جانب داری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پریس کونسل نے کہا ہے، ’’غیر جانب دار اور پیشہ ورانہ رویہ اختیار کریں۔
مظاہروں میں شریک نہ ہوں، کسی فریق کی حمایت نہ کریں، تصادم کو ہوا نہ دیں اور نہ ہی مظاہرین، مخالف مظاہرین یا پولیس کے کام میں مداخلت کریں۔‘‘ صحافیوں کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ کشیدہ حالات میں احترام کے ساتھ پیش آئیں، پولیس کے قانونی احکامات پر عمل کریں اور غیر ضروری بحث سے گریز کریں۔ تاہم، انہیں پرسکون انداز میں اپنی صحافتی شناخت واضح کرنی چاہیے۔ مظاہروں کے دوران اپنی جگہ کے انتخاب اور ہجوم کی حفاظت کے حوالے سے کونسل نے مشورہ دیا ہے کہ کشیدگی بڑھنے یا پولیس کارروائی کا امکان ہونے پر صحافی مناسب فاصلہ برقرار رکھیں۔
ہدایات میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کیمروں یا ریکارڈنگ کے آلات کو پولیس کی رکاوٹوں، گاڑیوں یا دوسرے سامان کے ساتھ اس طرح نہ باندھا جائے کہ آمدورفت میں رکاوٹ پیدا ہو یا املاک کو نقصان پہنچے۔ پریس کونسل نے ذاتی حفاظت کے لیے ضروری سامان ساتھ رکھنے کی بھی سفارش کی ہے۔ صحافیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ایک مختصر ہنگامی کٹ رکھیں، جس میں ابتدائی طبی امداد کا سامان، پینے کا پانی، پروٹین سے بھرپور ہلکی غذائیں، ٹارچ اور آنکھوں کی حفاظت کے لیے چشمے شامل ہوں۔ آنسو گیس اور دیگر آلات کے حوالے سے ہدایات میں خاص طور پر خبردار کیا گیا ہے، ’’آنسو گیس کے گولوں، فلیش بینگ آلات یا دھویں کے دستی بموں کو کبھی ہاتھ نہ لگائیں، نہ اٹھائیں اور نہ ہی انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ گرم رہ سکتے ہیں، پھٹ سکتے ہیں یا ان میں مضر مادوں کی باقیات موجود ہوسکتی ہیں۔
‘‘ اخلاقی اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے سلسلے میں پریس کونسل نے صحافیوں پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی اطلاع کو شائع یا نشر کرنے سے پہلے متعدد ذرائع سے اس کی تصدیق کریں اور تمام فریقوں کے بیانات کو یکساں احتیاط اور تنقیدی نظر سے پرکھیں۔ سلامتی اور پولیس کی کارروائیوں سے متعلق حساس معلومات کے بارے میں کونسل نے ہدایت دی ہے، ’’پولیس کی موجودہ تعیناتی، حکمت عملی کے تحت نقل و حرکت یا فرار کے راستوں کو براہ راست نشر یا شائع نہ کریں، اگر ایسا کرنے سے لوگوں کی سلامتی یا پولیس کی کارروائی متاثر ہوسکتی ہو۔‘‘ پریس کونسل نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ خصوصی خبر یا خصوصی ویڈیو حاصل کرنے کے دباؤ کو صحافیوں اور دوسروں کی سلامتی پر ترجیح نہیں دی جانی چاہیے۔