قومی اسٹیل پالیسی ایک ہفتے میں عوام کے سامنے لائی جائے گی

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 29-09-2026
قومی اسٹیل پالیسی ایک ہفتے میں عوام کے سامنے لائی جائے گی
قومی اسٹیل پالیسی ایک ہفتے میں عوام کے سامنے لائی جائے گی

 



نئی دہلی: حکومت مجوزہ قومی اسٹیل پالیسی کو تقریباً ایک ہفتے کے اندر عوام کے سامنے پیش کرے گی، تاکہ متعلقہ فریق اس پر اپنی تجاویز اور آرا دے سکیں۔ اسٹیل سکریٹری سندیپ پاؤنڈریک نے منگل کو بتایا کہ نئی پالیسی کا مقصد 2047 تک ہندوستان کے اسٹیل شعبے کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کرنا ہے۔ پاؤنڈریک نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’یہ قومی اسٹیل پالیسی 2047 تک ہندوستان کو وکست بھارت کے ہدف تک پہنچانے کے وژن کے ساتھ تیار کی جا رہی ہے۔ تقریباً ایک ہفتے میں ہم اس پالیسی کو عوام کے سامنے مشاورت اور متعلقہ فریقوں کی تجاویز کے لیے پیش کر دیں گے۔‘

‘ انہوں نے کہا کہ حکومت 2017 کی موجودہ قومی اسٹیل پالیسی پر دوبارہ غور کر رہی ہے، کیونکہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس شعبے میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ٹیکنالوجی کو جدید بنانے، کاربن اخراج میں کمی اور پائیداری جیسے موضوعات اب پالیسی میں زیادہ توجہ کے متقاضی ہیں۔ پاؤنڈریک نے کہا، ’’2017 میں کئی ایسے مسائل نہیں تھے جن پر اتنی توجہ درکار تھی۔ مثال کے طور پر مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور ٹیکنالوجی کو جدید بنانا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی اسٹیل صنعت میں ملکی پیداوار کی صلاحیت اور کھپت میں اضافے کے ساتھ عالمی سطح پر بھی اس کی پوزیشن تبدیل ہوئی ہے۔

ان کے مطابق، ’’کچھ نئے مسائل سامنے آئے ہیں اور بعض معاملات میں پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت ہے، خاص طور پر پیداوار کی صلاحیت اور کھپت کے حوالے سے۔ اسی لیے ہم ایک نئی پالیسی لا رہے ہیں، تاکہ 2047 تک اگلی دو دہائیوں کے لیے ایک روڈ میپ موجود ہو۔‘‘ موجودہ قومی اسٹیل پالیسی 2017 میں 2030-31 تک خام اسٹیل کی سالانہ پیداوار کی صلاحیت 300 ملین ٹن تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ اسٹیل وزارت کی جانب سے اگست میں جاری تازہ تفصیلی اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026 تک ہندوستان میں خام اسٹیل کی سالانہ پیداواری صلاحیت تقریباً 222.7 ملین ٹن تھی۔

پاؤنڈریک نے کہا کہ مجوزہ پالیسی میں سستے اور غیر معیاری اسٹیل کی درآمد کی حوصلہ شکنی کے لیے بھی اقدامات شامل ہوں گے۔ اس کے تحت حفاظتی اقدامات اور اینٹی ڈمپنگ جیسے طریقے اپنانے کے ساتھ ہندوستانی اسٹیل ساز اداروں، خاص طور پر چھوٹے پروڈیوسروں کی مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔ حکومت چھوٹے اسٹیل پروڈیوسروں کے لیے ’وکست بھارت اسپات‘ نام سے 5,000 کروڑ روپے کی اسکیم بھی تجویز کر رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت مراعات کو پیداوار اور کاربن اخراج میں کمی سے جوڑا جائے گا۔ پاؤنڈریک نے کہا کہ کاربن اخراج میں کمی کے لیے ’’بہتر ٹیکنالوجی‘‘، بہتر خام مال اور قابل تجدید توانائی کے زیادہ استعمال کی ضرورت ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ اس اسکیم کو جلد ہی منظوری کے لیے متعلقہ مجاز اتھارٹی کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ اسٹیل شعبے میں ٹیکنالوجی پر بڑھتی توجہ کے درمیان وزارت اسٹیل نے صنعت میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کی کوششیں بھی تیز کر دی ہیں۔ وزارت نے جون میں کہا تھا کہ ہندوستان کی اسٹیل پیداواری صلاحیت میں اضافے کے ساتھ کاربن اخراج میں کمی اور مسابقتی صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیجیٹل ٹوئنز، روبوٹکس اور جدید ڈیٹا اینالیٹکس جیسی ٹیکنالوجیز اہم کردار ادا کریں گی۔