نئی دہلی: آئی سی آئی سی آئی بینک ریسرچ کی تازہ زرعی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں مانسون کی مجموعی بارش طویل مدتی اوسط سے 15 فیصد کم ہوگئی ہے، جبکہ ال نینو کی مضبوط ہوتی صورتحال آنے والے دنوں میں بارش کے لیے خطرہ بڑھا رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کے باوجود خریف فصلوں پر اس کمی کا اثر کسی حد تک محدود رہا ہے، کیونکہ بیشتر علاقوں میں بوائی تقریباً مکمل ہوچکی ہے اور جولائی میں معمول سے زیادہ بارش نے کچھ حد تک صورتحال کو سنبھالنے میں مدد دی۔
رپورٹ کے مطابق، ’’خریف فصلوں کی بوائی بڑے پیمانے پر مکمل ہوچکی ہے، اس لیے جولائی میں معمول سے زیادہ بارش کی وجہ سے معمول سے کم مانسون کے اثرات کسی حد تک کم ہوئے ہیں۔‘‘ 21 ستمبر تک ملک میں مجموعی بارش 704 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، جو طویل مدتی اوسط سے 15 فیصد کم ہے۔ جنوبی ہندوستان میں بارش کی کمی سب سے زیادہ 27 فیصد رہی، جبکہ مشرقی ہندوستان میں یہ 26 فیصد رہی۔ وسطی اور شمال مغربی ہندوستان میں صورتحال نسبتاً بہتر رہی، تاہم یہاں بھی بارش معمول سے بالترتیب 6 فیصد اور 10 فیصد کم رہی۔ رپورٹ میں ال نینو کی مضبوط ہوتی صورتحال کو زرعی شعبے کے لیے ایک اہم خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
نینو 3.4 انڈیکس بڑھ کر 2.53 ہوگیا ہے، جبکہ 2015 کی اسی مدت میں یہ 2.14 تھا۔ دوسری جانب انڈین اوشین ڈائی پول (آئی او ڈی) انڈیکس مثبت سطح پر پہنچ کر 0.7 ہوگیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سے آنے والے دنوں میں ال نینو سے پیدا ہونے والے منفی اثرات میں کسی حد تک کمی آ سکتی ہے۔ 18 ستمبر تک خریف فصلوں کی بوائی 11.04 کروڑ ہیکٹر رقبے میں ہوئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 11.19 کروڑ ہیکٹر کے مقابلے میں 1.3 فیصد کم ہے۔
تاہم یہ خریف فصلوں کے لیے معمول کے رقبے کا 100 فیصد ہے۔ خریف کی سب سے بڑی فصل چاول کا زیر کاشت رقبہ 3.7 فیصد کم ہوکر 4.29 کروڑ ہیکٹر رہ گیا، جبکہ دالوں اور موٹے اناج کی بوائی میں اضافہ ہوا ہے۔ پانی کی دستیابی بھی ایک اہم معاملہ بنی ہوئی ہے۔ 17 ستمبر تک ملک کے آبی ذخائر میں مجموعی گنجائش کا 71 فیصد پانی موجود تھا، تاہم یہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 79.4 فیصد سطح پر ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مغربی، وسطی اور مشرقی علاقوں میں آبی ذخائر میں پانی کی بہتر ہوتی صورتحال ’’معمول سے کم بارش کے خلاف کچھ تحفظ فراہم کر سکتی ہے‘‘۔ تاہم جنوبی ہندوستان کے ذخائر میں پانی کی سطح ان کی مجموعی گنجائش کے صرف 52 فیصد تک ہے۔ جنوب مغربی مانسون شمال مغربی ہندوستان کے بعض حصوں سے واپس ہونا شروع ہوگیا ہے۔ ایسے میں ال نینو کی مضبوط ہوتی صورتحال اور ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کی غیر مساوی تقسیم آنے والے عرصے میں زرعی منظرنامے کے لیے اہم عوامل رہیں گے۔