الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر پر وضاحت جاری کی

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 26-09-2026
الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر پر وضاحت جاری کی
الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر پر وضاحت جاری کی

 



نئی دہلی: الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے ہفتہ کو کہا کہ 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کا شیڈول 27 اکتوبر 2025 کو جاری کیا گیا تھا، جبکہ 19 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے یہ شیڈول 14 مئی 2026 کو کمیشن کی متفقہ منظوری سے جاری ہوا تھا۔ کمیشن کے اجلاس کے بعد جاری ایک پریس نوٹ میں کہا گیا کہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر کا عمل کمیشن کی منظوری کے بعد شروع کیا گیا۔

کمیشن نے کہا، ’’حالیہ مہینوں میں کمیشن نے ملک بھر میں ایس آئی آر سمیت کئی اہم فیصلے کیے ہیں۔ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے 24 جون 2025 کو جاری کیا گیا ایس آئی آر کا حکم، جس کا آغاز بہار سے ہوا اور اس کے بعد مغربی بنگال سمیت 30 دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں تک اسے بڑھایا گیا، کمیشن کی متفقہ منظوری سے جاری کیا گیا تھا۔‘‘ کمیشن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی 27 مئی 2026 کے اپنے حکم میں اس عمل کو برقرار رکھا ہے۔ 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے ایس آئی آر کا شیڈول 27 اکتوبر 2025 کو، جبکہ 19 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے 14 مئی 2026 کو کمیشن کی متفقہ منظوری سے جاری کیا گیا تھا۔

کمیشن کے مطابق ووٹروں کی حتمی تعداد کا پتہ مرحلہ سوم میں باقی 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں انتخابی فہرستوں کی حتمی اشاعت کے بعد ہی چلے گا۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی واضح کیا کہ کابینہ سکریٹری کو بھیجا گیا خط کمیشن کی کسی پالیسی سے متعلق نہیں تھا، بلکہ الیکشن کمیشن میں ڈیپوٹیشن پر تعینات ایک افسر کے کام سے متعلق تھا۔ کمیشن نے کہا، ’’کابینہ سکریٹری کو بھیجا گیا خط کمیشن یا اس کے آئی ٹی ڈویژن کی کسی پالیسی سے متعلق نہیں تھا، بلکہ الیکشن کمیشن میں ڈیپوٹیشن پر تعینات ایک افسر کے کام سے متعلق تھا۔

متعلقہ افسر کی جانب سے کام کی تقسیم میں کی گئی تبدیلی کے احکامات دونوں الیکشن کمشنروں کے احکامات کے بعد حقیقت میں نافذ نہیں کیے گئے تھے اور آئی ٹی ڈویژن کی نگرانی ڈپٹی الیکشن کمشنر سے کبھی واپس نہیں لی گئی تھی۔‘‘ اس سے قبل ’انڈین ایکسپریس‘ نے رواں ہفتے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ ایس آئی آر کے عمل سے متعلق بعض فیصلوں پر تین رکنی الیکشن کمیشن کے دو ارکان نے اعتراض کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ ایسے فیصلوں اور احکامات پر اعتراض کیا جن کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ وہ ان کی اطلاع کے بغیر لیے یا جاری کیے گئے تھے۔

الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ مرحلہ سوم کے تحت باقی 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں انتخابی فہرستوں کی حتمی اشاعت کے بعد ہی ووٹروں کی حتمی تعداد سامنے آئے گی۔ کمیشن کے مطابق بہار اور مغربی بنگال سمیت 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر کا عمل پہلے ہی مکمل ہوچکا ہے۔ الیکشن کمیشن نے یہ بھی اعلان کیا کہ جاری ایس آئی آر کے دوران جن ووٹروں کو نام میپ نہ ہونے یا منطقی تضادات کی وجہ سے نوٹس موصول ہوئے ہیں، ان کے گھروں پر بوتھ لیول افسران (بی ایل او) جاکر دستاویزات جمع کریں گے۔ کمیشن نے کہا کہ غیر معمولی حالات میں، الیکٹورل رجسٹریشن افسر (ای آر او) کے فیصلے کے مطابق سماعت ترجیحاً آن لائن کی جائے گی۔

ضرورت پڑنے پر کوئی بھی بالغ اہل خانہ، ووٹر کی اجازت سے اس کی جانب سے سماعت میں شرکت کرسکتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ضلعی انتخابی افسران (ڈی ای اوز) کو یہ بھی ہدایت دی کہ نائٹ شیلٹرز میں رہنے والے افراد، مزدوروں، غریبوں اور بے گھر لوگوں کے لیے مناسب ہیلپ ڈیسک قائم کیے جائیں اور خصوصی کیمپ لگائے جائیں۔ کمیشن نے کہا کہ ایس آئی آر کے لیے فارم 6 کے ساتھ منسلک اعلامیہ کو سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہے۔ ایس آئی آر کے علاوہ عام مدت میں ووٹرز کے اندراج کے لیے الیکٹورز رولز، 1960 کے تحت متعلقہ فارم ہی استعمال کیے جاتے رہیں گے۔

الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس میں آئی آئی ٹی یا آئی آئی آئی ٹی کے ایک آزاد ماہر کو بھی شامل کیا جائے گا۔ یہ کمیٹی ’ای سی آئی نیٹ‘ نظام کا جائزہ لے گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ وہ انتخابی قوانین اور ضوابط کے مطابق کام کر رہا ہے۔ دہلی میں دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ بھی بڑھا کر 30 اکتوبر 2026 کردی گئی ہے۔ یہ توسیع دہلی کے چیف الیکٹورل افسر کی درخواست پر کی گئی۔ نوٹسز اور دعووں و اعتراضات کے تصفیے کی آخری تاریخ بھی بڑھا کر 30 نومبر 2026 کردی گئی ہے۔ مہاراشٹر میں دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ 12 اکتوبر 2026 کردی گئی ہے، جبکہ نوٹسز اور دعووں و اعتراضات کے تصفیے کی آخری تاریخ 10 نومبر 2026 کردی گئی ہے۔

گوا میں الیکشن کمیشن نے بتایا کہ چیف الیکٹورل افسر نے متعلقہ بی ایل اوز کو ان ووٹروں کے گھروں پر جاکر فارم جمع کرنے کی ہدایت دی ہے جو اس عمل کے دوران رہ گئے تھے۔ کمیشن کے مطابق 97 میں سے 81 ووٹر فارم 6 بھر کر انتخابی فہرست میں نام شامل کرنے کے لیے درخواست دے چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایس آئی آر بہار اور مغربی بنگال سمیت 20 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مکمل ہوچکا ہے۔

اس نے واضح کیا کہ ایس آئی آر کے دوران یا اس کے بعد جن افراد کے نام انتخابی فہرست میں شامل نہیں ہوسکے، ان میں نوجوان اور پہلی مرتبہ ووٹ دینے والے افراد بھی شامل ہیں، وہ مسلسل نظرثانی کے عمل کے تحت اپنے نام انتخابی فہرست میں شامل کرانے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ کمیشن کے مطابق تمام چیف الیکٹورل افسران کو اہل ووٹروں کے اندراج میں سہولت فراہم کرنے اور ان کے نام انتخابی فہرست میں شامل کرنے کے لیے خصوصی مہم چلانے کی ہدایت دی گئی ہے۔