سپریم کورٹ کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں: چیف جسٹس سوریہ کانت

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 12-10-2026
سپریم کورٹ کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں: چیف جسٹس سوریہ کانت
سپریم کورٹ کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں: چیف جسٹس سوریہ کانت

 



نئی دہلی: ہندوستان کے چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت نے پیر کے روز کہا کہ ہر ہندوستانی شہری کو عدالت سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے اور سپریم کورٹ کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ نے الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سپریم کورٹ تک مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چیف جسٹس نے اپوزیشن اتحاد کی جانب سے ملاقات کی درخواست پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اتوار کے روز اس سلسلے میں ایک خط موصول ہوا تھا، جس کا جواب انہوں نے اسی رات دے دیا تھا۔ انہوں نے ملاقات نہ کرپانے کی وجوہات بھی خط میں واضح کردی تھیں۔

قومی انسانی حقوق کمیشن کے 33ویں یوم تاسیس کی تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس سوریہ کانت نے کہا، ’’مجھے کل ملاقات کی درخواست سے متعلق ایک خط موصول ہوا تھا اور میں نے گزشتہ رات ہی اس کا جواب دیتے ہوئے ان وجوہات کی وضاحت کردی تھی جن کی بنا پر میرے لیے ملاقات کرنا ممکن نہیں ہوگا۔‘‘ چیف جسٹس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کوئی بھی شہری یا منتخب نمائندہ قانونی راحت حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’سپریم کورٹ کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔ کسی بھی عام شہری یا منتخب ادارے کے کسی رکن کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست کا خیرمقدم ہے۔ ہر ہندوستانی شہری کو عدالت سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہم ان کی شکایات سنیں گے اور قانون کے مطابق جو بھی حق بنتا ہے، وہ فراہم کریں گے۔‘‘ اس سے قبل چیف جسٹس جسٹس سوریہ کانت نے اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کے رہنماؤں کی ملاقات کی درخواست مسترد کردی تھی۔ اپوزیشن رہنما انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ایک عرضداشت پیش کرنا چاہتے تھے۔

چیف جسٹس نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ ملاقات کے بجائے باقاعدہ عرضی دائر کرکے عدالت سے رجوع کریں، کیونکہ یہ معاملہ پہلے ہی عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اس معاملے سے واقف افراد کے مطابق، ملاقات کی درخواست مسترد کرنے کی وجوہات پر مشتمل تفصیلی جواب اپوزیشن رہنماؤں کو ای میل کے ذریعے بھیجا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، جواب میں واضح کیا گیا کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور ان کے ساتھ آنے والے وفد کی جانب سے اٹھائے گئے معاملات پر انتظامی طریقے سے یادداشت پیش کرنے کے بجائے عدالتی کارروائی کے ذریعے غور کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔

کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے خلاف اپنی جاری تحریک کے تحت پیر کے روز سپریم کورٹ تک مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر الیکشن کمیشن سے جواب دہی کا مطالبہ کررہا ہے۔ دوسری جانب، احتجاج کے پیش نظر وسطی دہلی میں حفاظتی انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔

مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اور 12 اکتوبر 2026 کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر بعض میٹرو اسٹیشنوں کے داخلے اور باہر نکلنے کے دروازے شام چار بجے تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بارکھمبا روڈ اور منڈی ہاؤس کے آس پاس بھی بڑی تعداد میں حفاظتی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ دہلی پولیس کے ساتھ ریپڈ ایکشن فورس اور مرکزی ریزرو پولیس فورس کے اہلکار بھی حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔