کانگریس نے ایس آئی آر کو قرار دیا ,ہندوستانیوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کا طریقہ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 21-09-2026
کانگریس نے ایس آئی آر کو قرار دیا ,ہندوستانیوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کا طریقہ
کانگریس نے ایس آئی آر کو قرار دیا ,ہندوستانیوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کا طریقہ

 



نئی دہلی: کانگریس نے پیر کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کی مشق کو ’’ہندوستانیوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کا طریقہ‘‘ قرار دیا۔ یہ بیان قومی راجدھانی میں ووٹرز کے ذریعے جمع کرائے گئے اینیومریشن فارم میں تفصیلات کے ’’تضاد‘‘ کے حوالے سے 33.13 لاکھ نوٹس جاری کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر نوٹس ان ووٹرز کو جاری کیے گئے ہیں جن کی تفصیلات 2002 میں انتخابی فہرستوں کی آخری خصوصی گہری نظرثانی کے دوران درج معلومات سے میل نہیں کھاتی ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے ایک تنقیدی پوسٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’اصل میں یہاں ہندوستانیوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کا ایک طریقہ کار کام کر رہا ہے۔‘

‘ رمیش نے ’’Method Of Disenfranchising Indians‘‘ کے الفاظ کو عمودی انداز میں لکھا اور ہر لفظ کے پہلے بڑے حرف کو ملا کر ’’MODI‘‘ بنایا۔ ان کا یہ بیان کانگریس کی جانب سے ایس آئی آر کے دوران بڑے پیمانے پر نام حذف کیے جانے کے معاملے کو اٹھائے جانے کے ایک دن بعد آیا۔

پارٹی نے الزام لگایا تھا کہ یہ دراصل ووٹروں کو ہٹانے کی ایک بڑی ’’شاہ کی ہدایت پر چلائی گئی مہم‘‘ ہے اور آئین پر حملہ ہے۔ اپوزیشن پارٹی نے کہا کہ اس بات کے کافی شواہد موجود ہیں کہ مختلف ریاستوں میں ووٹر فہرستوں سے بڑے پیمانے پر حذف کیے جانے والے ناموں میں زیادہ تر ان لوگوں کے ہیں جو معاشی اور سماجی اعتبار سے سب سے زیادہ کمزور اور محروم طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ رمیش نے اتوار کو جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے جون 2025 میں بہار سے ایس آئی آر کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد نومبر 2025 میں نو ریاستوں اور تین مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں دوسرے مرحلے کا آغاز کیا گیا۔

ان کے مطابق پہلے اور دوسرے مرحلے میں مجموعی طور پر 7.8 کروڑ ووٹروں کے نام حذف کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر سے پہلے موجود انتخابی فہرست کے مقابلے میں حذف کیے گئے ناموں کی شرح تقریباً 13 فیصد بنتی ہے۔ کانگریس رہنما کے مطابق تیسرے مرحلے کا آغاز 2026 کے وسط میں 16 ریاستوں اور تین مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ 12 ریاستوں اور دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جاری تیسرے مرحلے میں 36.06 کروڑ ووٹروں میں سے 6.18 کروڑ کے نام حذف کیے گئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے ایس آئی آر کو بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کے حامی نہ ہونے والے ووٹروں کو نشانہ بنانے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ 22 سال بعد کی جانے والی یہ نظرثانی انتخابی فہرستوں سے نااہل افراد اور دوہرے اندراجات کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ قانون کے مطابق ووٹ دینے کے اہل افراد کے نام شامل کرنے کے مقصد سے کی جا رہی ہے۔