نئی دہلی: نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) نے اتر پردیش حکومت کی جانب سے آگرہ میں واقع سور سروور برڈ سینکچری کی توسیع کا عمل مکمل کیے جانے کا نوٹس لیا ہے۔ حکومت نے مختلف نوٹیفکیشن جاری کرکے پرندہ گاہ کا کل رقبہ بڑھا کر 798.1505 ہیکٹر کردیا ہے۔ یہ کارروائی مرکزی بااختیار کمیٹی (سی ای سی) کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے کی گئی۔
این جی ٹی کے چیئرمین جسٹس پرکاش شریواستو اور ماہر رکن ڈاکٹر افروز احمد پر مشتمل بنچ نے 24 ستمبر کو ڈاکٹر شرد گپتا بنام حکومت ہند و دیگر کے معاملے میں اصل عرضی نمبر 529/2023 کو نمٹاتے ہوئے یہ حکم دیا۔ اس عرضی میں سپریم کورٹ کے 23 ستمبر 2022 کے حکم کے تحت سی ای سی کی سفارشات کو مقررہ وقت میں نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ معاملہ آگرہ ضلع میں واقع سور سروور برڈ سینکچری کی توسیع اور 25 نومبر 2021 کی سی ای سی رپورٹ میں دی گئی سفارشات پر عمل درآمد سے متعلق تھا۔ سی ای سی نے سفارش کی تھی کہ وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 1972 کی دفعہ 26 اے کے تحت 403.09 ہیکٹر رقبے کو سور سروور برڈ سینکچری کا حصہ قرار دیا جائے۔
اس کے علاوہ 380.558 ہیکٹر پر مشتمل سرداس ریزرو فاریسٹ بلاک اور بفر زون میں شامل سرکاری زمین کو بھی قانونی طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد سینکچری میں شامل کرنے پر غور کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ ٹریبونل نے نوٹ کیا کہ عرضی زیر سماعت رہنے کے دوران اتر پردیش حکومت نے سی ای سی کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کیے اور مجموعی طور پر 798.1505 ہیکٹر رقبے سے متعلق تین نوٹیفکیشن جاری کیے۔ پہلا نوٹیفکیشن 12 جون 2024 کو جاری کیا گیا، جس کے ذریعے آگرہ میں 403.09 ہیکٹر رقبے کو سور سروور برڈ سینکچری قرار دیا گیا۔
اس کے بعد 27 دسمبر 2024 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے سرداس فاریسٹ بلاک کے 380.558 ہیکٹر ریزرو فاریسٹ کو بھی سینکچری میں شامل کیا گیا۔ اس نوٹیفکیشن میں بعد میں 31 اگست 2026 کو ترمیم کی گئی۔ توسیع کے آخری مرحلے میں 14.5025 ہیکٹر سرکاری زمین شامل کی گئی۔ ریاستی حکومت نے 10 ستمبر 2026 کو نوٹیفکیشن جاری کرکے پہلے کے سینکچری نوٹیفکیشن میں ترمیم کی اور وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ 1972 کی دفعہ 26 اے کے تحت اس اضافی زمین کو بھی سینکچری میں شامل کردیا۔ 10 ستمبر کے نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا کہ 403.09 ہیکٹر زمین کو 2024 میں سینکچری کا حصہ قرار دیا گیا تھا، جبکہ اس کے بعد 380.558 ہیکٹر سور داس ریزرو فاریسٹ کو بھی شامل کیا گیا۔
باقی 14.5025 ہیکٹر سرکاری زمین کو شامل کرنے کے لیے اس کی حدود اور سروے سے متعلق تفصیلات بھی الگ شیڈول میں درج کی گئیں۔ این جی ٹی نے اپنے 22 مئی 2025 کے سابقہ حکم کا بھی حوالہ دیا، جس میں اتر پردیش حکومت کو ہدایت دی گئی تھی کہ وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کی دفعہ 26 اے (1) (اے) کے تحت 14.5025 ہیکٹر سرکاری زمین کو سینکچری میں شامل کرکے اسے نوٹیفائی کیا جائے۔ ٹریبونل کے حکم کے مطابق 403.09، 380.558 اور 14.5025 ہیکٹر کے یہ تینوں حصے مل کر 798.1505 ہیکٹر بنتے ہیں، جو اب سور سروور برڈ سینکچری کا مجموعی نوٹیفائیڈ رقبہ ہے۔
این جی ٹی نے مزید کہا کہ 10 ستمبر 2026 کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد عرضی گزار کی جانب سے مانگی گئی کارروائی مکمل ہوگئی ہے۔ اس کے بعد ٹریبونل نے اصل عرضی کو نمٹا دیا۔ واضح رہے کہ سی ای سی کی اصل سفارش میں سینکچری کی توسیع کے لیے 15.514 ہیکٹر سرکاری زمین پر غور کرنے کی بات کہی گئی تھی، تاہم این جی ٹی کے حکم میں مذکور بعد کے نوٹیفکیشن کے ذریعے آخرکار 14.5025 ہیکٹر سرکاری زمین شامل کی گئی، جس سے سینکچری کا کل نوٹیفائیڈ رقبہ 798.1505 ہیکٹر ہوگیا۔