رشتہ ختم کرنا یا شادی سے انکار خودکشی پر اکسانا نہیں: سپریم کورٹ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 08-10-2026
رشتہ ختم کرنا یا شادی سے انکار خودکشی پر اکسانا نہیں: سپریم کورٹ
رشتہ ختم کرنا یا شادی سے انکار خودکشی پر اکسانا نہیں: سپریم کورٹ

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ محض اس بنیاد پر کسی شخص کے خلاف خودکشی کے لیے اکسانے کا مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا کہ اس نے لیو اِن رشتے میں رہتے ہوئے تعلق ختم کردیا یا شادی سے انکار کردیا اور اس کے بعد دوسرے فریق نے خودکشی کرلی۔ جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے یہ مشاہدہ تلنگانہ میں پیش آئے ایک معاملے میں کیا۔ عدالت نے متوفی خاتون کے ساتھی، اس کے والدین، بہن اور دیگر افراد سمیت چھ ملزمان کے خلاف جاری کارروائی کو منسوخ کردیا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ایسا کوئی مواد موجود نہیں جس سے یہ ظاہر ہو کہ ملزمان نے خاتون کو خودکشی کے لیے مجبور کرنے یا اکسانے کا ارادہ کیا تھا یا انہیں اس بات کا علم تھا کہ ان کی جانب سے شادی سے انکار کے نتیجے میں وہ اپنی جان لے سکتی ہے۔ بنچ نے کہا، ’’لوگ مختلف حالات میں مختلف انداز سے ردعمل دیتے ہیں اور اگر کسی رشتے کے خاتمے کے بعد خودکشی ہوجائے تو اسے ہر صورت خودکشی کے لیے اکسانا قرار نہیں دیا جاسکتا۔

‘‘ استغاثہ کی جانب سے کہا گیا کہ خاتون اور پہلے ملزم کی بچپن سے دوستی تھی اور دونوں باہمی رضامندی سے رشتے میں تھے۔ وہ تقریباً تین ماہ تک ایک ساتھ بھی رہے تھے۔ ابتدا میں شادی کی بات ہوئی تھی، لیکن بعد میں ملزم نے شادی سے انکار کردیا۔ الزام تھا کہ اس فیصلے پر اس کے اہل خانہ اور دیگر افراد کا دباؤ تھا۔ بعد میں خاتون نے اپنی بہن سے کہا کہ اگر اگلے دن شادی نہیں ہوئی تو وہ اپنی جان لے لے گی۔ ملزم کے گھر پر بحث و تکرار کے بعد اس نے مبینہ طور پر خود کو ایک کمرے میں بند کرلیا اور خودکشی کرلی۔

ٹرائل کورٹ اور تلنگانہ ہائی کورٹ نے مقدمے کی کارروائی ختم کرنے سے انکار کردیا تھا، تاہم سپریم کورٹ نے کہا کہ الزامات کو مکمل طور پر درست مان بھی لیا جائے تو ان سے خاتون کو خودکشی کے لیے اکسانے کا کوئی عمل ثابت نہیں ہوتا۔ عدالت نے کہا، ’’زیادہ سے زیادہ، اگر ہم شکایت کنندہ کی بیان کردہ تمام باتوں کو درست بھی مان لیں تو معاملہ صرف شادی سے انکار کا تھا، جس کے بعد خاتون نے خودکشی کرلی۔‘‘ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ یہ الزامات تعزیرات ہند کی دفعہ 306 کے تحت خودکشی کے لیے اکسانے کے جرم کے دائرے میں نہیں آتے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے تمام چھ ملزمان کے خلاف جاری فوجداری کارروائی منسوخ کردی۔