ایل پی یو میں کشیدگی، پولیس نے طاقت کے بجائے بات چیت کی

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 28-09-2026
ایل پی یو میں کشیدگی، پولیس نے طاقت کے بجائے بات چیت کی
ایل پی یو میں کشیدگی، پولیس نے طاقت کے بجائے بات چیت کی

 



پھگواڑہ: پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل پولیس (ڈی جی پی) گورو یادو نے پیر کو کہا کہ لولی پروفیشنل یونیورسٹی (ایل پی یو) میں طلبہ کی بڑی تعداد جمع ہونے کے بعد پولیس نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت کے ذریعے کشیدگی ختم کرنے کی کوشش کی۔ یہ صورتحال ’’رات گئے بعض واقعات سے متعلق افواہیں‘‘ پھیلنے کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔ ڈی جی پی کے مطابق ہنگامہ آرائی 26 اور 27 ستمبر کی درمیانی شب شروع ہوئی۔ گورو یادو نے کہا، ’’لولی پروفیشنل یونیورسٹی میں بعض واقعات سے متعلق رات گئے افواہیں پھیلنے لگیں۔

اس کے بعد بڑی تعداد میں طلبہ باہر آگئے۔ کچھ توڑ پھوڑ ہوئی اور گیٹ کے ایک حصے کو آگ لگا دی گئی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ پولیس کو اطلاع ملتے ہی جالندھر رینج کے ڈی آئی جی نوین سنگلا اور کپور تھلا کے ایس ایس پی سمیت سینئر افسران موقع پر پہنچ گئے۔ دیگر اضلاع کے پولیس سربراہوں نے بھی ان کا ساتھ دیا تاکہ صورتحال کو قابو میں لایا جاسکے۔ اس کے بعد پولیس نے طلبہ سے بات چیت شروع کی، جنہیں یونیورسٹی انتظامیہ سے کچھ شکایات تھیں۔ ڈی جی پی نے کہا، ’’طلبہ کو یونیورسٹی انتظامیہ سے کچھ شکایات تھیں اور وہ چند مخصوص واقعات کی وجہ سے کافی ناراض تھے۔

پولیس اور یونیورسٹی انتظامیہ کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہوئے ہم نے طلبہ سے بات چیت کی۔ ہمارے افسران نے فیصلہ کیا کہ چونکہ کچھ اشتعال انگیزی ہوئی تھی، اس لیے کارروائی کی جائے گی، لیکن طاقت کا کم سے کم استعمال کیا جائے۔ طلبہ کے خلاف طاقت استعمال نہ کرنے کا شعوری فیصلہ کیا گیا۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ طلبہ کی شکایات میں گرلز ہاسٹل میں صرف خواتین عملے کی تعیناتی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

یادو نے کہا، ’’ہم نے فاصلہ ختم کیا اور معاملہ حل کرلیا۔ کل بھی میٹنگیں ہوئی تھیں اور آج بھی ایک اور میٹنگ مقرر ہے۔‘‘ ڈی جی پی نے بتایا کہ واقعے کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے اور معاملے کی تفصیلی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’طلبہ سے متعلق واقعے میں جو بھی ملوث ہوگا، اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ وہ کتنا ہی بڑا شخص کیوں نہ ہو، خواہ یونیورسٹی انتظامیہ سے تعلق رکھتا ہو یا کوئی اور ہو، قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔‘‘ گورو یادو نے بتایا کہ بعد میں کچھ عناصر نے ماحول خراب کرنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں پولیس کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا گیا۔

انہوں نے کہا، ’’پولیس نے بہت زیادہ تحمل کا مظاہرہ کیا۔ ہم نے ہمیشہ طلبہ کی شکایات دور کرنے کی کوشش کی ہے، کیونکہ وہ بنیادی طور پر بچے ہی ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ توڑ پھوڑ میں ملوث افراد کی سائنسی طریقے سے شناخت کی جائے گی۔ ’’سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر قانون اپنے ہاتھ میں لینے والے ہر شخص کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘‘ ڈی جی پی نے واقعے میں بیرونی افراد کے ممکنہ کردار کی جانب بھی اشارہ کیا۔

انہوں نے کہا، ’’یہاں واکی ٹاکی ملے ہیں۔ ہمیں بیرونی افراد کا کردار بھی ملا ہے، کیونکہ واکی ٹاکی برآمد ہوئے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اندرونی احاطے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی وائرل ہوئی ہے، جس میں کچھ مردوں کو خواتین کے ہاسٹل کے قریب آتے دیکھا گیا ہے۔ اس معاملے پر سوال اٹھ رہے ہیں اور غالباً اسی وجہ سے تشدد کی صورتحال پیدا ہوئی۔‘‘ ڈی جی پی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر مصدقہ افواہوں پر توجہ نہ دیں۔

انہوں نے میڈیا سے بھی کہا کہ صرف مستند ذرائع کی بنیاد پر خبریں نشر کی جائیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیمپس میں بیرونی افراد کی موجودگی کیا پولیس کی ناکامی کی نشاندہی کرتی ہے، تو یادو نے کہا کہ پولیس نے تعمیری کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا، ’’شکایات اندرونی نوعیت کی تھیں اور یونیورسٹی انتظامیہ سے متعلق تھیں۔ طاقت کا استعمال کرنا بہت آسان ہے۔ ہم نے تحمل اور خود پر قابو رکھنے اور طلبہ کی شکایات حل کرانے کا راستہ اختیار کیا۔‘‘