تمل ناڈو: آسمانی بجلی گرنے سے 14 ہلاک، شدید بارش ، پہاڑی سیاحتی مقامات پر پابندیاں

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 26-10-2026
تمل ناڈو: آسمانی بجلی گرنے سے 14 ہلاک، شدید بارش ، پہاڑی سیاحتی مقامات پر پابندیاں
تمل ناڈو: آسمانی بجلی گرنے سے 14 ہلاک، شدید بارش ، پہاڑی سیاحتی مقامات پر پابندیاں

 



چنئی،: تمل ناڈو کے وزیر محصولات کے اے سینگوٹائیان نے پیر کو بتایا کہ شمال مشرقی مانسون شروع ہونے کے بعد سے ریاست میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں 14 افراد کی موت ہوچکی ہے۔ دوسری جانب شدید بارش کے باعث مختلف علاقوں میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا ہے اور حکام نے اہم پہاڑی سیاحتی مقامات پر سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔ ریاست میں مانسون کے دوران راحتی اقدامات کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر نے کہا کہ مرنے والوں کے اہل خانہ کو فی خاندان 4 لاکھ روپے معاوضہ دیا گیا ہے۔ انہوں نے ان میڈیا رپورٹس کو سختی سے مسترد کردیا جن میں ایک ہی دن میں بارش سے متعلق واقعات میں 35 افراد کی موت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

سینگوٹائیان نے وضاحت کی کہ باقی رپورٹ شدہ اموات کی وجوہات کی جانچ متعلقہ اضلاع کے کلکٹر کررہے ہیں۔ یہ معلوم کیا جارہا ہے کہ آیا یہ اموات قدرتی وجوہات سے ہوئیں یا دیواریں گرنے جیسے واقعات کے نتیجے میں لوگوں کی جان گئی۔ وزیر نے بتایا کہ شدید بارش کے باعث نیل گری ضلع میں زمین کھسکنے کے 62 واقعات پیش آئے، جنہیں حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صاف کردیا۔ تاہم، ایک افسوس ناک واقعے میں پہاڑی سے ایک چٹان بس پر گر گئی، جس کے نتیجے میں ڈرائیور کی موقع پر ہی موت ہوگئی، جبکہ کنڈکٹر کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ وزیر نے بتایا کہ ڈرائیور کے اہل خانہ کو 4 لاکھ روپے کی امدادی رقم دی گئی ہے۔ حکومت کی فوری کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے سینگوٹائیان نے کہا کہ رات بھر ہونے والی موسلادھار بارش کے باعث کوئمبٹور اور تروپور میں پانی بھر گیا تھا، لیکن صبح 4 بجے تک پانی نکال دیا گیا اور معمولات زندگی بحال ہوگئے۔

انہوں نے مانسون کے دوران بادلوں کی غیر متوقع نقل و حرکت کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’پدوکوٹائی میں شدید بارش کے خدشے کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کیا گیا تھا، لیکن وہاں بارش کی ایک بوند بھی نہیں گری۔‘‘ وزیر کے مطابق، ابتدائی زرعی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ ناگاپٹنم ضلع میں تقریباً 3,500 ایکڑ فصلیں اس وقت پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ احتیاطی اقدام کے طور پر ریاستی حکومت نے بارش رکنے تک نیل گری، کوڈائیکنال اور یرکاڈ سمیت اہم پہاڑی سیاحتی مقامات پر سیاحوں کے داخلے پر عارضی پابندی عائد کردی ہے۔ سینگوٹائیان نے کہا کہ مقامی باشندوں کو بھی صبح 6 بجے سے شام 6 بجے تک ہی سفر کرنے کی اجازت ہوگی، بشرطیکہ ان کے پاس ضلعی کلکٹر کی جانب سے جاری کردہ اجازت نامہ موجود ہو۔ ادھر مسلسل بارش نے ڈنڈیگل ضلع میں روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کوڈائیکنال کے مونجیکل-ڈوبیکانا (ٹوپیکنال) علاقے میں 20 سے زیادہ مکانات میں پانی داخل ہوگیا۔

اس کے باعث رہائشیوں کو اپنے سامان اور مویشیوں کی حفاظت کے لیے رات بھر جاگنا پڑا۔ علاقے کے مقامی دھوبیوں کا روزگار بھی ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے، کیونکہ ان کی آمدنی کا انحصار روزانہ کے کام پر ہے۔ مقامی دھوبی گنیشن نے پی ٹی آئی ویڈیوز سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’بارش کا پانی ہمارے گھروں میں داخل ہوگیا ہے اور ہمارا روزگار پوری طرح متاثر ہوچکا ہے۔ ہم میونسپلٹی اور ریاستی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ پانی کی نکاسی کے راستے کے دونوں طرف حفاظتی دیوار تعمیر کی جائے تاکہ بار بار پیدا ہونے والی اس مشکل کو روکا جاسکے۔‘‘ روزانہ اجرت پر کام کرنے والی ایک اور مقامی رہائشی انیتا میری نے بھی شدید پریشانی کا ذکر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ پانی بھر جانے کے باعث کئی خاندانوں کو اپنے گھریلو جانوروں کو بچانے کے لیے پوری رات جاگ کر گزارنی پڑی۔ مقامی باشندوں نے علاقے میں واقع تقریباً 30 سال پرانے ایک پل کی خستہ حالی پر بھی گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ شدید بارش کے باعث پل میں دراڑیں پڑگئی ہیں۔ یہ پل 600 سے 700 خاندانوں کے لیے آمدورفت کا اہم ذریعہ ہے۔ مقامی لوگوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر پل گر گیا تو پورا علاقہ باقی آبادی سے کٹ جائے گا اور ایمبولینس جیسی ہنگامی خدمات کی رسائی بھی متاثر ہوگی۔