سروے آف انڈیا 1767 سے ملک کی نقشہ سازی میں مصروف

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 02-11-2026
 سروے آف انڈیا 1767 سے ملک کی نقشہ سازی میں مصروف
سروے آف انڈیا 1767 سے ملک کی نقشہ سازی میں مصروف

 



گاندھی نگر:، سروے آف انڈیا کی تاریخ ہندوستان کی قومی تاریخ سے بھی پرانی ہے۔ اس ادارے کی بنیاد 1767 میں اس وقت پڑی تھی، جب ملک کے پاس نہ اپنا آئین تھا، نہ قومی پرچم اور نہ ہی جدید نقشہ سازی کا کوئی نظام۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ کے دفتر کے مطابق، اسی سال ماہرین کے ایک چھوٹے سے گروپ نے ملک کی زمین کی سائنسی پیمائش کا تاریخی کام شروع کیا تھا۔ آج سروے آف انڈیا ملک کے قدیم ترین سائنسی اداروں میں شمار ہوتا ہے اور ملک کی سرکاری نقشہ ساز ایجنسی کے طور پر کام کررہا ہے۔

گجرات کے دارالحکومت گاندھی نگر میں قائم سروے آف انڈیا کے گجرات، دمن اور دیو جیو اسپیشل ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر سدھانت سین نے بتایا کہ ابتدا میں ماہرین نے تھیوڈولائٹ نامی آلات اور غیر معمولی محنت کے ذریعے ’گریٹ ٹرگنومیٹریکل سروے‘ کا آغاز کیا تھا۔ اس مہم کے دوران سروے کرنے والی ٹیموں نے گھنے جنگلات، وسیع صحرائی علاقوں اور دشوار گزار پہاڑی خطوں کا سفر کیا۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے اور اہم سائنسی سروے منصوبوں میں سے ایک تھا۔ اسی تحقیقی روایت نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی کی پہلی سائنسی پیمائش کی راہ ہموار کی۔

اس کے علاوہ ہندوستان کے آئین کی اصل نقل کی طباعت میں بھی سروے آف انڈیا نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ سدھانت سین کے مطابق، ڈھائی صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اس ادارے کا بنیادی مقصد آج بھی وہی ہے۔ یعنی ملک کی زمین کے ایک ایک حصے کی سائنسی پیمائش کرنا، اس کی جغرافیائی شناخت قائم کرنا اور درست نقشوں کے ذریعے اسے پیش کرنا۔ گاندھی نگر میں قائم گجرات، دمن اور دیو کا ڈائریکٹوریٹ اسی قومی ذمہ داری کو آگے بڑھا رہا ہے۔ یہ ادارہ کچھ کے وسیع رَن سے لے کر سوراشٹر کے ساحلی علاقوں اور خلیج کھمبات سے دمن اور دیو کے ساحلی خطوں تک پورے علاقے کی نقشہ سازی میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان 2047 تک، یعنی آزادی کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر، ’وکست بھارت‘ بننے کی سمت آگے بڑھ رہا ہے۔ اس سفر میں درست جغرافیائی معلومات اور قابلِ اعتماد نقشہ سازی کا نظام بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ترقیاتی منصوبہ بندی کے لیے زمین کی صحیح شناخت اور اس کی درست پیمائش ضروری ہے۔ نقشہ محض لکیروں اور سرحدوں کی تصویر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے درست پیمائش، سائنسی طریقۂ کار اور قابلِ اعتماد جغرافیائی حوالوں کا ایک مضبوط نظام کام کرتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت ریاست بھر میں افقی اور عمودی کنٹرول پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں۔

یہ مقامات ہر نقشے کے لیے درست جغرافیائی حوالہ فراہم کرتے ہیں۔ مختلف شعبوں کے انجینئر سیلاب کے خطرے والے علاقوں کی نقشہ سازی، ڈیموں کی حفاظت کا جائزہ لینے اور سڑکوں، پلوں اور نہروں جیسے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں اس نظام سے مدد لیتے ہیں۔ 1890 میں قائم کیا گیا گریٹ ٹرگنومیٹریکل سروے (جی ٹی ایس) کا پیمائشی نشان اس سائنسی روایت کے تاریخی ورثے کی علامت ہے۔ اس کے علاوہ وڈینار، پوربندر، اوکھا اور کانڈلا میں قائم سمندر کی سطح ناپنے والے مراکز مسلسل سمندر کی سطح میں ہونے والی تبدیلیوں اور سمندری سرگرمیوں کا ریکارڈ تیار کرتے ہیں۔

ان کنٹرول پوائنٹس کی تفصیلات جیوڈیٹک اثاثہ رجسٹروں کی اشاعت کے ذریعے بھی دستیاب کرائی گئی ہیں۔ اس سے گجرات میں کام کرنے والے سرکاری محکموں، اداروں، انجینئروں اور سروے ماہرین کو قابلِ اعتماد جغرافیائی معلومات کی بنیاد پر اپنے کام انجام دینے میں مدد ملتی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ کی ذمہ داریاں صرف ترقیاتی کاموں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ان کا تعلق قومی سلامتی کے اہم پہلوؤں سے بھی ہے۔ محفوظ سرحدیں کسی بھی ملک کے استحکام اور ترقی کی بنیاد ہوتی ہیں۔ اسی سلسلے میں گجرات کی بین الاقوامی سرحد کی نقشہ سازی کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ہندوستان اور گجرات کے سیاسی نقشے انگریزی، ہندی اور گجراتی زبانوں میں شائع کیے جاتے ہیں، تاکہ شہری اپنی زمین کی جغرافیائی اور سیاسی شناخت کو اپنی زبان میں سمجھ سکیں۔ روایتی نقشہ سازی کو جدید ڈیجیٹل دور سے جوڑنے کے لیے گجرات اور مرکز کے زیر انتظام علاقے دمن اور دیو میں مسلسل کام کرنے والے 102 ریفرنس اسٹیشنز (سی او آر ایس) قائم کیے گئے ہیں۔ یہ اسٹیشن سروے کرنے والوں، انجینئروں، کسانوں اور ڈرون آپریٹروں کو حقیقی وقت میں مقام کی ایسی معلومات فراہم کرتے ہیں جن میں درستگی کا فرق چند سینٹی میٹر تک محدود رہتا ہے۔ اب تک گجرات، دمن اور دیو کے مجموعی طور پر 1,042 صارفین اس سہولت کے لیے رجسٹریشن کراچکے ہیں۔ یہ جدید ڈیجیٹل نظام خود کفیل ہندوستان کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کررہا ہے۔

’وکست بھارت‘ کا خواب اسی وقت پورا ہوسکتا ہے جب ترقی کے فوائد ملک کے آخری فرد تک پہنچیں۔ اس مقصد کے لیے سوامِتو اسکیم ایک اہم پہل ہے۔ اس اسکیم کے تحت سروے آف انڈیا نے تکنیکی معاون ادارے کی حیثیت سے گجرات کے دیہی آبادی والے علاقوں کی نقشہ سازی مکمل کرلی ہے اور مجموعی طور پر 14,866 گاؤں کے نقشے تیار کیے ہیں۔ اس کام سے دیہی خاندانوں کے لیے ان گھروں کی قانونی ملکیت کے دستاویزات حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوئی ہے جن میں وہ نسلوں سے رہتے آرہے ہیں۔ اس پہل سے نہ صرف جائیداد کی ملکیت کے بارے میں وضاحت اور تحفظ ملتا ہے بلکہ لوگ اپنی جائیداد کی بنیاد پر قرض حاصل کرنے کے بھی اہل ہوسکتے ہیں۔ اس طرح دیہی معیشت کو مضبوط بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ دیہی ترقی کے ساتھ ساتھ اب شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے بھی درست نقشہ سازی کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔

ممبئی-احمد آباد ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور کی نقشہ سازی ٹاؤن پلاننگ اینڈ ویلیوایشن ڈپارٹمنٹ کے لیے کی جارہی ہے۔ یہ منصوبہ ملک میں جدید ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ اسی طرح امرت 2.0 اسکیم کے تحت اس محکمے کے لیے 55 شہروں کی نقشہ سازی کا کام شروع کیا گیا ہے۔ ان نقشوں کی مدد سے ان شہروں کے لیے جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) پر مبنی ترقیاتی منصوبے اور ماسٹر پلان تیار کرنے کی مضبوط بنیاد فراہم ہوگی۔ اس سے پانی کی فراہمی، گندے پانی کی نکاسی، شہری بنیادی ڈھانچے اور سبز علاقوں کی ترقی کے لیے زیادہ سائنسی اور منظم منصوبہ بندی ممکن ہوسکے گی۔

ان دونوں منصوبوں کے ذریعے دیہی اور شہری ترقی کو درست جغرافیائی معلومات سے جوڑا جارہا ہے۔ ایک طرف دیہات میں جائیداد کے حقوق واضح کیے جارہے ہیں تو دوسری طرف شہروں کی مستقبل کی ترقی کے لیے سائنسی بنیاد تیار کی جارہی ہے۔ سروے آف انڈیا کا تعاون صاف اور قابلِ اعتماد توانائی کا نظام قائم کرنے میں بھی بڑھ رہا ہے۔ نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ کے لیے کاکراپار میں لائڈر (لائٹ ڈیٹیکشن اینڈ رینجنگ) ٹیکنالوجی کی مدد سے 121 مربع کلومیٹر علاقے کا سروے مکمل کیا جاچکا ہے۔ یہ کام ملک کی توانائی کی سلامتی اور اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی منصوبہ بندی کے لیے ضروری جغرافیائی معلومات فراہم کرتا ہے۔

اگلے مرحلے میں مزید 183 مربع کلومیٹر علاقے کا سروے کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ شہری زمین کے ریکارڈ کو جدید بنانے کے لیے مرکزی حکومت کے محکمہ اراضی وسائل اور گجرات حکومت نے مشترکہ طور پر ’نقشہ‘ پروجیکٹ شروع کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت اب تک پانچ شہروں کی نقشہ سازی مکمل کی جاچکی ہے۔ اس پہل کا مقصد شہری علاقوں میں زمین اور جائیداد کے ریکارڈ کو زیادہ درست، شفاف اور جدید بنانا ہے۔ اس سے شہریوں کو بھی جائیداد کی ملکیت کے بارے میں واضح معلومات اور قابلِ اعتماد دستاویزات حاصل ہوں گی۔

ماؤنٹ ایورسٹ کی برف پوش چوٹیوں سے لے کر کچھ کے وسیع نمکین میدانوں تک، سروے آف انڈیا نے سائنسی درستگی کے ساتھ دنیا کے سامنے ہندوستان کی جغرافیائی شناخت قائم کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ گجرات، دمن اور دیو میں کام کرنے والی اس ادارے کی ٹیمیں ڈرون، لائڈر، جی این ایس ایس اور جی آئی ایس جیسی جدید ٹیکنالوجی استعمال کرکے اس شاندار ورثے کو نئی بلندیوں تک لے جارہی ہیں۔ 1767 سے آج تک زمانہ بدل گیا، پیمائش کے آلات جدید ہوگئے اور ٹیکنالوجی میں انقلابی تبدیلیاں آئیں، لیکن سروے آف انڈیا کا بنیادی مقصد نہیں بدلا۔

وہ آج بھی ملک کی زمین کی درست نقشہ سازی، قابلِ اعتماد جغرافیائی معلومات کی تیاری اور قومی ترقی کے لیے سائنسی بنیاد فراہم کرنے کے کام میں مصروف ہے۔ ’وکست بھارت 2047‘ کے خواب کو حقیقت بنانے میں ہر نقشے، ہر سروے اور ہر جغرافیائی اطلاع کی اپنی اہمیت ہے۔ اسی عزم کے ساتھ سروے آف انڈیا ملک کی ترقی کے سفر میں اپنا اہم کردار ادا کررہا ہے۔ یہ ادارہ مسلسل ملک کی نقشہ سازی، شہریوں کو بااختیار بنانے اور 2047 تک خود کفیل و ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں تعاون دے رہا ہے۔