دہلی میں ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے کے معاملے پر سپریم کورٹ میں 28 اکتوبر کو سماعت

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 14-10-2026
دہلی میں ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے کے معاملے پر سپریم کورٹ میں 28 اکتوبر کو سماعت
دہلی میں ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے کے معاملے پر سپریم کورٹ میں 28 اکتوبر کو سماعت

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کو کہا کہ وہ 28 اکتوبر کو اس درخواست پر سماعت کرے گی جس میں الیکشن کمیشن کو ہدایت دینے کی مانگ کی گئی ہے کہ دہلی میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران جن ووٹروں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں، ان کی فہرست اور ہر نوٹس جاری کرنے کی مخصوص وجہ عوام کے سامنے رکھی جائے۔

درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہوئے وکیل پرشانت بھوشن نے چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی کی بنچ کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا۔ بھوشن نے کہا کہ درخواست گزاروں نے ایک اضافی درخواست دائر کی ہے، جس میں الیکشن کمیشن کو ہدایت دینے کی مانگ کی گئی ہے کہ دہلی میں ایس آئی آر کے بعد ووٹر لسٹ سے جن لوگوں کے نام ہٹا دیے گئے ہیں، ان کے نام دوبارہ شامل کرنے کے لیے مناسب طریقہ کار بنایا جائے۔

اس کے تحت ایسے ووٹروں سے یہ اعلان کرنے کا مطالبہ نہ کیا جائے کہ وہ پہلی بار ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے کے لیے درخواست دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دہلی میں ایس آئی آر کے تحت دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ بڑھا کر 30 اکتوبر کر دی گئی ہے۔ اس کے بعد ووٹروں کی حتمی فہرست شائع کی جائے گی۔

بھوشن نے کہا کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ اصل درخواست پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا تھا اور اس معاملے کی سماعت 30 اکتوبر کو ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے بنچ سے درخواست کی کہ اس معاملے کو 30 اکتوبر سے پہلے سنا جائے۔

اس پر بنچ نے سماعت کی تاریخ آگے بڑھا کر 28 اکتوبر مقرر کر دی۔ جب بھوشن نے اس سے بھی پہلے سماعت کی درخواست کی تو بنچ نے کہا، ’’ہم ایسا حکم دینے پر غور کر رہے ہیں جس سے اس مسئلے کا حل نکل سکے۔‘‘ 26 ستمبر کو الیکشن کمیشن نے دہلی میں جاری ایس آئی آر کے تحت دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی مدت ایک ماہ بڑھا کر 30 اکتوبر کر دی تھی۔ اس کے بعد حتمی ووٹر لسٹ 4 دسمبر کو شائع کیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے 22 ستمبر کو انجلی بھاردواج اور امرتا جوہری کی درخواست پر سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ اس درخواست میں ووٹروں کو ’’منطقی تضادات‘‘ کے زمرے میں رکھنے کے لیے استعمال کیے جانے والے معیار، تعریفوں، الگورتھم سے متعلق اصولوں اور عملی رہنما ہدایات کو بھی عام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں نے حال ہی میں زیر سماعت مقدمے میں ایک اضافی درخواست بھی دائر کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پہلے سے ووٹر لسٹ میں درج کسی بھی ووٹر سے فارم 6 میں شامل ایسا اعلان جمع کرانے کا مطالبہ نہ کیا جائے جو اس پر حقیقتاً لاگو نہیں ہوتا۔ اس کے بجائے پہلے سے درج ووٹروں کے نام دوبارہ شامل کرنے کے لیے مناسب فارم یا اعلان مقرر کیا جائے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس کا تعلق دہلی میں ایس آئی آر کے بعد ووٹر لسٹ سے نام ہٹائے جانے والے پہلے سے رجسٹرڈ ووٹروں کے نام دوبارہ شامل کرنے کے لیے مقرر کیے گئے طریقہ کار سے ہے۔ درخواست گزاروں نے یہ ہدایت دینے کی بھی مانگ کی ہے کہ اگر کسی شخص کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کرنے یا بحال کرنے کا دعویٰ دیگر شرائط کے مطابق درست ہے تو محض اضافی ایس آئی آر اعلان نامہ جمع نہ کرانے کی بنیاد پر اسے مسترد نہ کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے 22 ستمبر کو اصل درخواست پر سماعت کے دوران الیکشن کمیشن سے کہا تھا کہ دہلی میں ایس آئی آر کے تحت لوگوں کو ’’تقریباً میکانکی انداز میں‘‘ نوٹس بھیجے جا رہے ہیں اور اس عمل میں اضافی حفاظتی اقدامات کیے جانے چاہییں۔

عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’منطقی تضاد‘‘ کی شناخت کے لیے اختیار کیے گئے معیار کی وضاحت ضروری ہے۔ الیکشن کمیشن نے 31 اگست کو دہلی کی ووٹر لسٹ کا مسودہ جاری کیا تھا۔ اس کے مطابق، دہلی میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 45 لاکھ ووٹروں میں سے 47 لاکھ کے نام فہرست سے ہٹا دیے گئے تھے۔