نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے خلاف وزیر اعظم نریندر مودی سے متعلق مبینہ طور پر ’’چوکیدار چور ہے‘‘ کا نعرہ لگانے کے معاملے میں دائر فوجداری ہتک عزت کے مقدمے کی نچلی عدالت میں جاری کارروائی پر روک لگا دی۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس اپریش کمار سنگھ کی بنچ نے مہاراشٹر حکومت اور شکایت کنندہ ایم ایچ شریشریمل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چار ہفتوں کے اندر جواب طلب کیا ہے۔
راہل گاندھی نے اپنی عرضی میں بمبئی ہائی کورٹ کے 8 ستمبر کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا، جس میں ہتک عزت کے مقدمے کو ختم کرنے کی ان کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ کانگریس رہنما کے خلاف یہ مقدمہ رافیل لڑاکا طیاروں کے سودے کے سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے 2018 میں دیے گئے ان کے بیان پر درج کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ کی بنچ نے حکم دیا، ’’نوٹس جاری کیا جائے۔
چار ہفتوں میں جواب دیا جائے۔ مقدمے کی سماعت پر روک لگائی جاتی ہے۔‘‘ رائے بریلی کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کی جانب سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی عدالت میں پیش ہوئے۔ یہ معاملہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن مہیش شریشریمل کی شکایت سے متعلق ہے۔ شکایت کنندہ نے الزام لگایا تھا کہ راہل گاندھی نے ستمبر 2018 میں راجستھان کی ایک انتخابی ریلی کے دوران وزیر اعظم مودی کے خلاف ہتک آمیز بیان دیا تھا۔
بمبئی ہائی کورٹ نے اس سے پہلے گرجگاؤں کے مجسٹریٹ کے 28 اگست 2019 کے حکم کے خلاف راہل گاندھی کی عرضی مسترد کر دی تھی۔ مجسٹریٹ نے شریشریمل کی شکایت پر ان کے خلاف کارروائی آگے بڑھانے کا حکم دیا تھا۔ تاہم، ہائی کورٹ نے اپنے 2021 کے حکم کو برقرار رکھا تھا، جس میں مجسٹریٹ کو شکایت پر سماعت چھ ہفتوں کے لیے ملتوی کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاکہ راہل گاندھی سپریم کورٹ سے رجوع کر سکیں۔ شکایت کنندہ کا دعویٰ تھا کہ راہل گاندھی کے بیان کے بعد نیوز چینلوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر وزیر اعظم مودی کو نشانہ بنا کر طنز و تنقید کی گئی۔