نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کو اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ 14 ریاستیں ضلع عدالتوں کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سے بڑھا کر 62 سال کرنے پر رضامند ہوگئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ان ججوں کی الگ الگ درخواستوں پر فوری سماعت کے لیے تاریخ مقرر کرنے سے انکار کردیا جو ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں یا حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے ان ججوں کی انفرادی درخواستوں کو سماعت کے لیے فہرست میں شامل کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا، ’’یہ عدالت کے قائل کرنے کے اختیار سے متعلق معاملہ ہے۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ اور ریاستوں کے درمیان ہے۔‘‘
چیف جسٹس نے کہا کہ اب تک 14 ریاستیں ریٹائرمنٹ کی عمر 62 سال کرنے پر رضامند ہوچکی ہیں اور ’’ہمیں امید ہے کہ دوسری ریاستیں بھی اس کی پیروی کریں گی۔‘‘ بنچ نے واضح کیا کہ اگرچہ اس نے اس معاملے میں دائر درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کیا ہے، لیکن عدالتی افسران کی الگ الگ درخواستوں کو فوری طور پر سماعت کے لیے پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ سینئر وکیل رنجیت کمار نے درخواست کو سماعت کے لیے فہرست میں شامل کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی افسران ہر روز ریٹائر ہورہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے 4 ستمبر کو ریاستوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ عدالتی افسران کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال سے بڑھا کر 62 سال کریں۔
بنچ نے یہ بھی کہا تھا کہ چھتیس گڑھ، کرناٹک، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، سکم، تمل ناڈو اور مغربی بنگال میں ایسے عدالتی افسران جو اس سال 31 مارچ یا اس کے بعد ریٹائر ہوئے ہیں، انہیں دوبارہ عدالتی عہدے پر کام کرنے کا اختیار دیا جائے، بشرطیکہ انہوں نے اس دوران کوئی دوسری ملازمت اختیار نہ کرلی ہو۔ عدالت نے ان ریاستوں کو، جنہوں نے عدالتی افسران کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی ہے، ہدایت دی تھی کہ وہ اپنے سروس قواعد میں ترمیم کرکے عدالتی خدمات میں ریٹائرمنٹ کی عمر 62 سال کردیں۔ تاہم، متعلقہ ہائی کورٹ کو اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ متعلقہ عدالتی افسر اس عہدے کے لیے موزوں ہے یا نہیں۔
بنچ نے کہا تھا کہ قواعد میں یہ ترمیم ترجیحی بنیاد پر 2 ماہ کے اندر مکمل کی جائے۔ عدالت نے مزید کہا تھا کہ قواعد میں ترمیم ہونے تک مذکورہ ریاستوں میں 60 سال کی عمر پوری کرنے والے کسی بھی عدالتی افسر کو ریٹائر نہ کیا جائے، بلکہ اسے 62 سال کی عمر تک کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ تاہم، یہ اجازت متعلقہ ہائی کورٹ کی جانب سے اس کی موزونیت اور کارکردگی کے جائزے سے مشروط ہوگی۔ سپریم کورٹ نے آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، آسام، بہار، گوا، گجرات، ہریانہ، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، کیرالہ، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ، اڈیشہ، پنجاب، راجستھان، تلنگانہ، تریپورہ، اتراکھنڈ، اتر پردیش، قومی راجدھانی خطہ دہلی، جموں و کشمیر اور پڈوچیری کو بھی ہدایت دی تھی کہ وہ عدالتی افسران کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کے اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کریں۔
اس سے پہلے بنچ نے کہا تھا کہ ریاستی حکومتیں عدالتی افسران کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی مخالفت میں مالی بوجھ کا حوالہ نہیں دے سکتیں۔ عدالت نے ریاستی حکومتوں سے کہا تھا کہ وہ ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کے معاملے پر اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں۔ سپریم کورٹ ضلع عدلیہ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر پورے ملک میں یکساں طور پر 60 سال سے بڑھا کر 62 سال کرنے کی درخواست پر سماعت کررہی تھی۔ اس وقت سپریم کورٹ کے جج 65 سال کی عمر میں، جب کہ ہائی کورٹ کے جج 62 سال کی عمر میں ریٹائر ہوتے ہیں۔
یہ معاملہ سپریم کورٹ کے 2002 کے اس فیصلے کے پس منظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے، جس میں جسٹس کے جگن ناتھ شیٹی کمیشن کی اس سفارش کو قبول نہیں کیا گیا تھا کہ ضلع ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھا کر 62 سال کردی جائے۔ اس کے بعد سے تلنگانہ اور مدھیہ پردیش سمیت بعض ریاستوں نے عدالتی افسران کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی سمت میں اقدامات کیے ہیں۔