اپوزیشن رہنماؤں کی عرضی پر الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کا نوٹس

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 15-10-2026
اپوزیشن رہنماؤں کی عرضی پر الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کا نوٹس
اپوزیشن رہنماؤں کی عرضی پر الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کا نوٹس

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے دائر عرضی پر الیکشن کمیشن آف انڈیا اور دیگر متعلقہ عہدیداروں کو نوٹس جاری کیا۔ عرضی میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے طریقۂ کار اور ووٹروں کے نام مبینہ طور پر حذف کیے جانے کو چیلنج کیا گیا ہے۔

عدالت نے الیکشن کمیشن، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی سے عرضی پر جواب طلب کیا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے عرضی دائر کرنے والے 13 درخواست گزاروں میں سے ایک کے طرزِ عمل پر بھی سخت اعتراض ظاہر کیا۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا، ’’ہم اگلی سماعت پر درخواست گزاروں میں سے ایک سے اس کے طرزِ عمل کے بارے میں سوال کرنا چاہیں گے۔‘‘

اس سے پہلے 12 اکتوبر کو لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد کے دیگر رہنماؤں نے الیکشن کمیشن کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ عرضی میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی کے سلسلے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کیے گئے فیصلوں اور انہیں نافذ کرنے کے طریقۂ کار کو چیلنج کیا گیا ہے۔

عرضی گزاروں میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی پرساد یادو، این سی پی (شرد پوار گروپ) کی رہنما سپریا سولے اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما سنجے راوت سمیت دیگر اپوزیشن رہنما شامل ہیں۔ یہ عرضی 12 اکتوبر کو دائر کی گئی تھی اور اسے رِٹ پٹیشن (سول) نمبر 001351/2026 کے طور پر درج کیا گیا۔

ابتدائی طریقۂ کار سے متعلق خامیوں کو دور کیے جانے کے بعد سپریم کورٹ کی رجسٹری نے 13 اکتوبر کو اسے رجسٹر کیا۔ عرضی میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی سے متعلق فیصلے آئین کی دفعہ 324، الیکشن کمیشن سے متعلق 2023 کے قانون اور سپریم کورٹ کے مقدمہ ’ٹی این سیشن بنام یونین آف انڈیا‘ میں دیے گئے فیصلے کے مطابق کیے گئے ہیں یا نہیں۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی ووٹر کا نام نوٹس دیے بغیر اور اپنا موقف پیش کرنے کا مناسب موقع فراہم کیے بغیر انتخابی فہرست سے حذف نہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حذف کیے گئے ووٹروں کے نام، ان کے نام حذف کرنے کی وجوہات اور آبادی سے متعلق تفصیلات بوتھ وار شائع کرنے کی ہدایت دی جائے۔