نئی دہلی، :سپریم کورٹ نے ایک ایسے والد کو عبوری راحت دیتے ہوئے بچے کے نان و نفقے کی رقم کی وصولی کے لیے جاری کارروائی پر روک لگا دی ہے، جسے 2016 سے سابقہ تاریخ کے حساب سے بڑھی ہوئی رقم ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے بچے کا ماہانہ نان و نفقہ 20,000 روپے سے بڑھا کر 50,000 روپے کرنے اور یہ اضافہ 4 فروری 2016 سے نافذ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ نے والد کو حکم دیا ہے کہ مقدمے کی سماعت جاری رہنے کے دوران وہ ہر ماہ 20,000 روپے کے حساب سے نان و نفقہ ادا کرتے رہیں۔
جسٹس کے وی وشوناتھَن اور جسٹس ارون پلی پر مشتمل بنچ نے 30 اکتوبر کو یہ حکم جاری کیا۔ عدالت نے والد کو رقم کی وصولی کے لیے جاری کارروائی سے عارضی تحفظ فراہم کرتے ہوئے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 17 دسمبر کی تاریخ مقرر کی۔ عدالت نے ایک فریق کو دوبارہ نوٹس جاری کرنے کی اجازت بھی دی اور ہدایت دی کہ زیرِ التوا وصولی کی کارروائی والی ٹرائل کورٹ کے ذریعے نوٹس کی تعمیل کرائی جائے۔ والد کی جانب سے وکیل سمیت گہلوت نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرکے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے 23 جولائی 2026 کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے۔
ہائی کورٹ نے نابالغ بچے کا ماہانہ نان و نفقہ 20,000 روپے سے بڑھا کر 50,000 روپے کردیا تھا اور حکم دیا تھا کہ بڑھی ہوئی رقم 4 فروری 2016 سے ادا کی جائے۔ سپریم کورٹ میں والد کا بنیادی مؤقف ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران ان کی مالی حالت میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بعد کے کسی وقت میں ان کی آمدنی یا کمانے کی صلاحیت کا جو اندازہ لگایا گیا ہو، اسے بغیر کسی تفصیلی جانچ کے تقریباً ایک دہائی کے پچھلے عرصے پر نافذ کرکے یکساں مالی ذمہ داری عائد نہیں کی جاسکتی۔
عرضی کے مطابق، ہائی کورٹ نے والد کی ماہانہ آمدنی کی صلاحیت 2.25 لاکھ روپے فرض کی، جبکہ والد نے اپنی آمدنی کے حلف نامے میں خالص ماہانہ آمدنی 94,175 روپے بتائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی سال بہ سال ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا جس کی بنیاد پر زیادہ آمدنی کے اس اندازے کو 2016 سے پورے عرصے پر نافذ کرنا درست قرار دیا جاسکے۔ والد کے وکیل سمیت گہلوت نے دلیل دی ہے کہ مختلف مدتوں کے لیے نان و نفقے کی رقم طے کرتے وقت اس دور کی حقیقی آمدنی اور مالی حالات کو مناسب طور پر پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ عرضیوں میں یہ اہم قانونی سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ کیا نان و نفقے کی درخواست دائر ہونے کے کئی سال بعد والدین کی آمدنی یا کمانے کی صلاحیت کا جو اندازہ لگایا جائے، اسے درخواست دائر ہونے کی تاریخ سے پچھلے عرصے کا نان و نفقہ طے کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے؟
والد نے اس معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے ’راجنیش بنام نیہا‘ میں طے کیے گئے اصولوں کا حوالہ دیا ہے۔ والد نے اپنی دوسری مالی ذمہ داریوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق، بچے کے لیے 50,000 روپے ماہانہ نان و نفقے کے علاوہ انہیں اپنی الگ رہنے والی بیوی کو بھی ایک دوسرے مقدمے کے تحت 20,000 روپے ماہانہ ادا کرنے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی ظاہر کردہ خالص ماہانہ آمدنی 94,175 روپے ہے، جبکہ دونوں ذمہ داریوں کو ملا کر ہر ماہ 70,000 روپے ادا کرنے پڑیں گے، جو ان کی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ہے۔ والد نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ وہ 2016 سے اب تک بچے کے نان و نفقے کی مد میں تقریباً 50 لاکھ روپے ادا کرچکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے بچے کے اسکول کے اخراجات بھی برداشت کیے ہیں۔ اپنے دعوے کی تائید میں انہوں نے انکم ٹیکس ریٹرن، فارم 16، ادائیگیوں کی تفصیلات اور اسکول فیس کی رسیدوں کا حوالہ دیا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ جس مدت کے لیے نان و نفقے کی بڑھی ہوئی رقم سابقہ تاریخ سے نافذ کی گئی ہے، اس دوران ان کے مالی حالات ایک جیسے نہیں رہے۔ عرضی میں 2018 میں ملازمت ختم ہونے اور دیگر مالی اخراجات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ یہ تنازع فیملی کورٹ کے 25 مئی 2023 کے حکم سے شروع ہوا تھا۔ فیملی کورٹ نے والد کو نابالغ بچے کے نان و نفقے کے لیے ہر ماہ 20,000 روپے ادا کرنے کے ساتھ تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس حکم کے مختلف پہلوؤں کو چیلنج کرتے ہوئے دونوں فریق بعد میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ پہنچے تھے۔
سپریم کورٹ میں والد نے نان و نفقے کی رقم اور اس کے نفاذ کی تاریخ، دونوں پر دوبارہ غور کرنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نان و نفقے میں اضافے کے حکم کو ختم کیا جائے یا رقم کم کی جائے۔ متبادل طور پر ان کی درخواست ہے کہ اگر اضافہ برقرار رکھا جاتا ہے تو اسے پچھلی تاریخ سے نافذ کرنے کے بجائے آئندہ کے لیے لاگو کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے اپنے تازہ حکم میں واضح کیا ہے کہ رقم کی وصولی کے لیے جاری عدالتی کارروائی فی الحال رکی رہے گی، لیکن اس راحت کی شرط یہ ہے کہ والد ہر ماہ 20,000 روپے کے حساب سے بچے کا نان و نفقہ ادا کرتے رہیں۔