نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کو حکام کو ہدایت دی کہ 10 اکتوبر کو دہلی میں ہونے والے احتجاج سے پہلے میٹرو ٹرین خدمات مکمل طور پر بند نہ کی جائیں۔ عدالت نے مرکزی حکومت سے کہا کہ مسافروں کو پریشانی سے بچانے کے لیے میٹرو اور دیگر ریل خدمات کو ضابطوں کے تحت چلانے کے امکان پر غور کیا جائے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ قومی دارالحکومت میں عائد پابندیوں کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کر رہی تھی۔ عدالت نے کہا کہ نقل و حرکت پر مکمل پابندی لگانے اور امن و قانون برقرار رکھنے کے لیے عوامی ٹرانسپورٹ کو ضابطوں کے تحت چلانے میں فرق ہے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کی یقین دہانی کو ریکارڈ کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ حکام پابندیوں پر دوبارہ غور کریں گے اور تناسب کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے میٹرو ٹرینوں اور دیگر ریل خدمات کو مناسب ضابطوں کے تحت چلانے کی اجازت دیں گے۔ عدالت نے اپنے حکم میں واضح کیا، ’’میٹرو ٹرینوں کی آمدورفت پر مکمل پابندی نہیں ہوگی۔‘
‘ بنچ نے حکام کو یہ ہدایت بھی دی کہ میٹرو ٹرینوں اور دیگر ریل خدمات کو ضابطوں کے تحت چلانے سے متعلق فیصلے کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جائے، تاکہ مسافروں کو پہلے سے معلومات مل سکیں اور انہیں مزید پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی دروازے مکمل طور پر بند کیے جانے پر تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ ان پابندیوں سے ان ہزاروں لوگوں کو مشکلات پیش آ رہی ہیں جو گروگرام، گریٹر نوئیڈا اور قومی دارالحکومت خطے کے دیگر علاقوں سے روزگار اور تعلیم کے لیے دہلی آتے ہیں۔ بنچ نے کہا کہ طلبہ، ملازمین اور بزرگ شہری روزانہ سفر کے لیے عوامی ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتے ہیں۔ اس لیے حفاظتی اقدامات کے نام پر لوگوں کی آمدورفت مکمل طور پر نہیں روکی جانی چاہیے۔
چیف جسٹس نے کہا، ’’سالیسٹر جنرل صاحب، ہماری بنیادی تشویش میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی دروازے مکمل طور پر بند کیے جانے سے متعلق ہے۔ ہمیں اس پر شدید تشویش ہے۔ ہمارا تعلق نہ کسی احتجاج کرنے والے سے ہے اور نہ ہی کسی خاص شخص سے۔ ہماری تشویش ان سیکڑوں اور ہزاروں مسافروں کے بارے میں ہے جو روزگار کے لیے گروگرام، گریٹر نوئیڈا، مشرقی دہلی اور جنوبی دہلی سے دہلی آتے ہیں۔ ان میں طلبہ، ملازمین اور بزرگ شہری شامل ہیں، جو عوامی ٹرانسپورٹ سے سفر کرتے ہیں۔ ہم اس شہر کے عام شہریوں کی طرف سے بات کر رہے ہیں۔
‘‘ بنچ نے مزید کہا، ’’امن و قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ضابطوں کے تحت اقدامات کرنے کا پورا اختیار ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ اگر آپ بے قابو نقل و حرکت کو محدود کرنا چاہتے ہیں تو ایسا کر سکتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر چیز روک دی جائے اور لوگوں کو ٹرانسپورٹ کی سہولت سے محروم کر دیا جائے۔ ہر شخص کے پاس کار نہیں ہے اور نہ ہی ہر کسی کو ذاتی سواری میسر ہے۔ لوگ عوامی ٹرانسپورٹ پر انحصار کرتے ہیں۔‘‘ سپریم کورٹ نے زور دیا کہ امن و قانون برقرار رکھنے کے لیے حکام نقل و حرکت کو منظم کر سکتے ہیں، لیکن ایسی پابندیاں متناسب ہونی چاہئیں اور عام لوگوں کے حقوق اور ضروریات کو بھی ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو یقین دلایا کہ وہ اس کی تشویش حکومت تک پہنچائیں گے اور متناسب اقدامات پر غور کیا جائے گا۔ عدالت نے مرکزی حکومت سے یہ بھی کہا کہ جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مقررہ مقام برقرار رکھنے یا کسی متبادل جگہ کی نشاندہی کرنے کے معاملے پر مناسب فیصلہ کیا جائے۔ تشار مہتا نے یقین دہانی کرائی تھی کہ حکومت احتجاج کے مقام میں تبدیلی کے امکان پر غور کرے گی۔
سپریم کورٹ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے جنرل سکریٹری ایم اے بیبی اور دیگر درخواست گزاروں کی عرضیوں پر سماعت کر رہی تھی، جن میں احتجاج سے پہلے حکام کی جانب سے عائد پابندیوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ ہدایات 10 اکتوبر کو ہونے والے مجوزہ احتجاج سے پہلے دہلی میں عائد پابندیوں کے درمیان سامنے آئی ہیں۔ یہ احتجاج چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے بلایا ہے۔
سینئر وکیل کپل سبل نے ایم اے بیبی کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے معاملے کی فوری سماعت کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے دہلی آنے والی ٹرینوں کی منسوخی، میٹرو اسٹیشنوں کی بندش، انٹرنیٹ پر پابندیوں اور ہوٹلوں میں بکنگ پر قدغن لگائے جانے کا معاملہ اٹھایا۔
کپل سبل نے کہا، ’’تمام ٹرینیں منسوخ کر دی گئی ہیں، 57 میٹرو اسٹیشن بند ہیں، لوگوں کو ہوٹلوں میں رہنے کی جگہ نہیں دی جا رہی اور نظام الدین کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ رہائشی فلاحی انجمنوں (آر ڈبلیو اے) سے کہا جا رہا ہے کہ وہ لوگوں کو گھروں سے باہر نہ نکلنے دیں۔ میرے ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ یہ پُرامن احتجاج ہے۔ ایسا ہونے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟‘‘