نئی دہلی: ایلون مسک کی سیٹلائٹ مواصلاتی کمپنی اسٹارلنک نے ہندوستان کے لیے مخصوص حفاظتی نظام تیار کیے ہیں اور ملک میں 20 گیٹ وے سائٹس قائم کی ہیں۔ اسپیس ایکس کی نائب صدر برائے اسٹارلنک بزنس آپریشنز لارین ڈریئر نے کہا کہ کمپنی ہندوستانی صارفین کا ڈیٹا ملک کے اندر ہی محفوظ رکھ رہی ہے۔ انڈیا موبائل کانگریس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے ڈریئر نے کہا کہ اسٹارلنک نے ہندوستانی بازار میں خدمات فراہم کرنے کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں سرمایہ کاری کی ہے۔ ہندوستانی حکومت نے اسٹارلنک سمیت تین سیٹلائٹ مواصلاتی کمپنیوں کو ملک میں خدمات فراہم کرنے کے لائسنس دیے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نے ہندوستان کی سلامتی سے متعلق ضروریات اور دیگر ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے خاص طور پر ہندوستان کے لیے اسٹارلنک کا نظام تیار کیا ہے۔ ہندوستانی صارفین کے ڈیٹا کو ملک کے اندر رکھنے کے ساتھ ساتھ ہم نے نظام کی ہر سطح پر ہندوستان کے لیے مخصوص حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔‘‘
اسٹارلنک کی نائب صدر نے مزید بتایا کہ کمپنی ہندوستان میں زمینی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر پہلے ہی سرمایہ کاری کرچکی ہے۔ اس میں 20 گیٹ وے سائٹس شامل ہیں، جن پر سیکڑوں اینٹینا نصب کیے گئے ہیں۔ کمپنی نے ہندوستانی بازار میں خدمات شروع کرنے کے لیے ضروری انتظامات بھی مکمل کرلیے ہیں۔ ڈریئر نے کہا، ’’ہم نے پہلے ہی سرمایہ کاری کرکے یہاں زمینی بنیادی ڈھانچہ تیار کرلیا ہے۔ 20 گیٹ وے سائٹس قائم کی گئی ہیں، جن میں سیکڑوں اینٹینا شامل ہیں، اور ہم نے ہندوستان میں خدمات فراہم کرنے کے لیے اپنے آپریشنز بھی قائم کرلیے ہیں۔‘
‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے ڈیجیٹل شعبے میں جو ترقی حاصل کی ہے، وہ غیر معمولی ہے۔ ڈریئر کے مطابق اسٹارلنک گزشتہ پانچ برس سے ہندوستانی ضابطہ کار اداروں، صنعت سے وابستہ افراد اور مواصلاتی کمپنیوں کے ساتھ قریبی رابطے میں کام کررہی ہے، تاکہ اپنے آپریشنز کو ہندوستان کی ضروریات کے مطابق ڈھالا جاسکے اور ملک میں خدمات فراہم کرنے کی تیاری کی جاسکے۔ انہوں نے اسپیس ایکس کی وسیع تر تکنیکی پیش رفت کا بھی ذکر کیا، جس میں دوبارہ استعمال کیے جانے والے فالکن 9 راکٹ، اگلی نسل کی اسٹارشپ لانچ گاڑی اور بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت کے لیے کمپیوٹنگ صلاحیت تیار کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹارلنک تیز رفتار انٹرنیٹ کنکٹیویٹی ان علاقوں تک پہنچا رہا ہے جہاں روایتی بنیادی ڈھانچہ خدمات فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’فالکن 9 کے ذریعے بڑے پیمانے پر دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ حقیقت بن گئے اور ہم نے اس سے حاصل ہونے والے تمام تجربات کو اگلی نسل کی اسٹارشپ لانچ گاڑی میں شامل کیا ہے، جو حال ہی میں مدار تک پہنچی ہے۔‘‘ ڈریئر نے مزید کہا، ’’اسپیس ایکس اے آئی کے ذریعے ہم بڑے پیمانے پر اے آئی کمپیوٹنگ کی صلاحیت تیار کررہے ہیں، پہلے زمین پر اور مستقبل میں مدار میں بھی، تاکہ سورج کی توانائی سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکے۔ دوسری طرف اسٹارلنک ان علاقوں تک تیز رفتار رابطے کی سہولت پہنچا رہا ہے جہاں روایتی بنیادی ڈھانچہ پہنچنے اور خدمات فراہم کرنے سے قاصر رہا ہے۔‘‘