نئی دہلی: ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اگست 2026 کے دوران ہندوستان میں گھریلو فضائی مسافروں کی تعداد میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں معمولی 0.18 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق اگست 2026 میں مقررہ گھریلو پروازوں کی مجموعی منسوخی کی شرح 1.04 فیصد رہی۔ ڈی جی سی اے نے کہا، ’’جنوری سے اگست 2026 کے دوران گھریلو ایئرلائنز نے 1105.30 لاکھ مسافروں کو سفر کرایا، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ تعداد 1107.26 لاکھ تھی۔ اس طرح سالانہ بنیاد پر 0.18 فیصد کی کمی اور ماہانہ بنیاد پر 6.34 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔‘‘
اگست میں زیادہ تر مقررہ گھریلو ایئرلائنز کی مسافر گنجائش کے استعمال کی شرح، جسے لوڈ فیکٹر کہا جاتا ہے، جولائی کے مقابلے میں کم رہی۔ اکاسا ایئر کا لوڈ فیکٹر سب سے زیادہ 87.6 فیصد رہا، تاہم جولائی میں یہ 94.9 فیصد تھا۔ اس کے بعد اسپائس جیٹ 79.9 فیصد اور انڈیگو 79.2 فیصد کے ساتھ رہیں۔ ایئر انڈیا گروپ کا لوڈ فیکٹر جولائی کے 83.2 فیصد سے کم ہو کر 77 فیصد رہ گیا۔ فلائی 91 کا لوڈ فیکٹر معمولی اضافے کے ساتھ 74.7 فیصد سے بڑھ کر 75 فیصد ہوگیا۔ اسٹار ایئر کی شرح 74.3 فیصد سے کم ہو کر 73.6 فیصد اور الائنس ایئر کی 59.5 فیصد سے کم ہو کر 58.8 فیصد رہ گئی۔ انڈیا ون ایئر واحد دیگر ایئرلائن رہی جس کے لوڈ فیکٹر میں اضافہ ہوا۔
اس کی شرح 44.5 فیصد سے بڑھ کر 47.5 فیصد ہوگئی۔ ایئرلائنز میں اسپائس جیٹ کی پروازیں منسوخ ہونے کی شرح سب سے زیادہ 20.92 فیصد رہی۔ اس کے بعد انڈیا ون ایئر 10.60 فیصد اور الائنس ایئر 4.58 فیصد کے ساتھ رہیں۔ فلائی 91 کی منسوخی کی شرح 1.35 فیصد، ایئر انڈیا گروپ کی 1.14 فیصد، اسٹار ایئر کی 0.90 فیصد، انڈیگو کی 0.33 فیصد اور اکاسا ایئر کی 0.07 فیصد رہی۔ پروازوں کی منسوخی کی وجوہات میں تکنیکی مسائل کا حصہ سب سے زیادہ 50.2 فیصد رہا۔ اس کے بعد آپریشن سے متعلق وجوہات 20.4 فیصد اور دیگر متفرق عوامل 17.4 فیصد رہے۔ موسم سے متعلق مسائل کی وجہ سے 8.5 فیصد پروازیں منسوخ ہوئیں، جبکہ باقی 3.5 فیصد منسوخی تجارتی وجوہات کی بنا پر ہوئی۔
ڈی جی سی اے نے مزید بتایا کہ اگست 2026 کے دوران تقریباً 1.39 فیصد پروازیں دو گھنٹے سے زیادہ تاخیر کا شکار ہوئیں۔ دو گھنٹے سے زیادہ تاخیر کا سامنا کرنے والی پروازوں کے معاملے میں اسپائس جیٹ کی شرح سب سے زیادہ 48.05 فیصد رہی۔ اس کے بعد فلائی 91 کی 3.46 فیصد، الائنس ایئر کی 2.47 فیصد اور ایئر انڈیا گروپ کی 1.29 فیصد پروازیں دو گھنٹے سے زیادہ تاخیر کا شکار ہوئیں۔ اسٹار ایئر کی ایسی پروازوں کی شرح 0.70 فیصد، اکاسا ایئر کی 0.45 فیصد اور انڈیگو کی 0.44 فیصد رہی، جبکہ اعداد و شمار کے مطابق انڈیا ون ایئر کی کوئی بھی پرواز دو گھنٹے سے زیادہ تاخیر کا شکار نہیں ہوئی۔