وارانسی: وارانسی کے قومی ایوارڈ یافتہ ہنرمند کنج بہاری سنگھ نے چاندی اور نفیس گلابی میناکاری سے لڑاکا طیارے کا ایک خوب صورت نمونہ تیار کیا ہے۔ ’ونگز اوور گنگا‘ فضائی مظاہرے سے متاثر ہوکر بنائے گئے اس نمونے کو لوگوں کی جانب سے زبردست پذیرائی ملی ہے اور اب تک اس کے تقریباً 100 آرڈر مل چکے ہیں۔ روایتی گلابی میناکاری کی تکنیک سے تیار کیا گیا یہ نمونہ ہندوستان کی مسلح افواج کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ وارانسی کے روایتی ہنر کی خوب صورتی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ اس نفیس نمونے کو مکمل کرنے میں کاریگر کو پورا ایک ماہ لگا اور اس میں تقریباً 400 گرام چاندی استعمال کی گئی ہے۔
فضائی مظاہرے سے متاثر ہوکر شروع کیے گئے اس کام کو اس وقت مزید مقبولیت ملی جب سنگھ نے اپنی تخلیق کی تصاویر اپنے کچھ پرانے گاہکوں کے ساتھ شیئر کیں۔ ان کے مطابق، اب تک انہیں تقریباً 100 آرڈر مل چکے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کنج بہاری سنگھ نے بتایا کہ وارانسی میں فضائی مظاہرہ دیکھنے کے بعد ان کے ذہن میں لڑاکا طیارے کا نمونہ تیار کرنے کا خیال آیا۔ وہ چاہتے تھے کہ اس روایتی فن کے ذریعے لڑاکا طیارے کی شکل پیش کی جائے اور تیار شدہ نمونہ ملک کی مسلح افواج کے نام وقف کیا جائے۔
انہوں نے کہا، ’’وارانسی میں منعقدہ فضائی مظاہرے سے متاثر ہوکر میں نے گلابی میناکاری کی تکنیک سے یہ لڑاکا طیارہ تیار کیا ہے۔ میں نے اس کی تصاویر اپنے کچھ پرانے گاہکوں کے ساتھ شیئر کیں تو مجھے زبردست ردعمل ملا۔ اب تک تقریباً 100 آرڈر مل چکے ہیں۔ اس طیارے میں تقریباً 400 گرام چاندی استعمال ہوئی ہے اور اسے مکمل کرنے میں پورا ایک ماہ لگا۔ میری دلی خواہش ہے کہ میں اسے ذاتی طور پر وزیر اعظم کو پیش کروں۔ اس نمونے کو بنانے کے پیچھے میرا یہی تصور تھا۔‘‘ سنگھ نے امید ظاہر کی کہ انہیں یہ تخلیق وزیر اعظم نریندر مودی کو خود پیش کرنے کا موقع ملے گا۔
ان کے لیے یہ محض روایتی فن کے ذریعے لڑاکا طیارے کی شکل تیار کرنے کی کوشش نہیں، بلکہ ہندوستانی ہنرمندی کو ملک کی مسلح افواج سے جوڑنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ گلابی میناکاری دھات پر گلابی رنگ کے نفیس مینا کے کام کے لیے مشہور ہے۔ اس فن کا وارانسی سے گہرا تعلق ہے، جہاں کاریگر نسل در نسل اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ سنگھ نے اس روایتی فن کو زیادہ وسیع پیمانے پر متعارف کرانے کے لیے مرکزی حکومت اور اتر پردیش حکومت کی کوششوں کو بھی سراہا۔
اس فن کو ملنے والی پذیرائی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’وزیر اعظم کی بدولت یہ فن کاشی کی تنگ گلیوں سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ نے اسے ’ایک ضلع، ایک مصنوعات‘ (او ڈی او پی) اسکیم میں شامل کرکے اس کی ترقی کو فروغ دیا ہے۔ اسی لیے مجھے پوری امید ہے کہ گلابی میناکاری سے تیار کیا گیا یہ لڑاکا طیارہ وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم، دونوں تک پہنچے گا۔‘‘ اتر پردیش حکومت کی ’ایک ضلع، ایک مصنوعات‘ اسکیم کا مقصد مختلف اضلاع کی مخصوص مصنوعات کو فروغ دینا ہے، تاکہ روایتی کاریگروں اور مقامی صنعتوں کو وسیع منڈیاں مل سکیں۔