نئی دہلی: مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے بدھ کو الیکشن کمیشن اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کے خلاف اپوزیشن کے الزامات پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا، ’’اگر وہ جیتیں تو جمہوریت زندہ باد، اور اگر ہاریں تو الیکشن کمیشن مردہ باد۔‘‘ انہوں نے اپوزیشن کی تنقید کو ’’شکست کے بعد کی مایوسی‘‘ قرار دیا۔ نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہان نے کہا کہ انتخابی فہرستوں کو درست اور صاف کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن انتخابات ہارنے کے بعد جمہوری اداروں پر سوال اٹھا رہی ہے۔ چوہان نے کہا، ’’یہ شکست کے بعد کی مایوسی ہے۔ اگر وہ جیتیں تو جمہوریت زندہ باد، اور اگر ہاریں تو الیکشن کمیشن مردہ باد۔ یہ شکست کے بعد کی مایوسی ہے۔‘‘ اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے بیلٹ پیپر کے ذریعے انتخابات کرانے کے مطالبے پر مرکزی وزیر نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور اسی کو اس معاملے میں فیصلہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے، اس کا فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا۔ یہ ایک آئینی ادارہ ہے۔‘‘
چوہان نے ای وی ایم کے خلاف لگائے جانے والے الزامات پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ کانگریس نے بھی انہی مشینوں کے ذریعے انتخابات جیتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’پوری دنیا ہندوستان کی جمہوریت اور ای وی ایم کے بارے میں جانتی ہے۔ دیکھیں کہ وہ اپنی شکست کا الزام ای وی ایم پر کیسے لگاتے ہیں۔ کانگریس نے کرناٹک میں کیسے کامیابی حاصل کی؟ کانگریس نے تلنگانہ میں کیسے کامیابی حاصل کی؟ ہماچل میں کانگریس کیسے جیتی؟‘
‘ الیکشن کمیشن کے خلاف انڈیا اتحاد کے احتجاج پر چوہان نے کہا، ’’انہیں جواب دینے کی ضرورت نہیں ہے، عوام کو ان پر اعتماد نہیں ہے۔ وہ صرف سڑکوں پر نکلیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ جمہوریت کو نہیں بلکہ خاندانی سیاست کو بچانا چاہتے ہیں، وہ ایک خاندان کو بچانا چاہتے ہیں۔‘‘ مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے قیادت کے عہدوں سے متعلق بیان پر چوہان نے کہا کہ ملک یا ریاست کا وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کون بنے گا، اس کا فیصلہ عوام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’کیا ممتا بنرجی یہ فیصلہ کریں گی کہ ملک یا ریاست کا وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کون بنے گا؟ ملک کے عوام فیصلہ کرتے ہیں کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کون ہوگا۔ جس شخص کو عوام کا اعتماد اور ووٹ حاصل ہوتا ہے، وہ عہدے پر رہتا ہے۔‘‘ چوہان نے مزید کہا کہ اگر انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ راہل گاندھی کو ان کی قیادت کرنی چاہیے تو انہیں کھل کر انہیں اپنا رہنما تسلیم کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر اکھلیش یادو یا انڈیا اتحاد کا کوئی بھی سینئر رہنما اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اور اپنے ضمیر کی آواز پر یہ کہتا ہے کہ راہل ان کے رہنما ہیں تو میں اسے قبول کرلوں گا۔
‘‘ اس سے قبل بدھ کو نئی دہلی میں انڈیا اتحاد کی رابطہ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے جمہوری اداروں کو لاحق مبینہ خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں مربوط انداز میں مل کر کام کریں گی۔ میٹنگ کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ تقریباً ساڑھے تین گھنٹے تک بات چیت جاری رہی۔ مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنے خیالات پیش کیے اور سب نے متحد ہوکر مقابلہ کرنے پر اتفاق کیا۔
کھڑگے نے کہا، ’’تقریباً ساڑھے تین گھنٹے تک گفتگو ہوئی۔ کئی رہنماؤں نے اپنے خیالات پیش کیے۔ ادھو ٹھاکرے جی اور ہیمنت سورین جی نے بھی اپنی بات رکھی۔ سب نے متحد ہوکر ایک ساتھ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ کھڑگے نے الزام لگایا کہ جمہوری اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے اور الیکشن کمیشن حکومت کے اثر میں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ انتخابات میں غیر منصفانہ طریقوں سے کامیابی حاصل کی جا رہی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کے جمہوری طور پر کام کرنے میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔