کیرالہ فلم فیسٹیول کی 31 فلموں کو اسکریننگ کی اجازت نہ دینے پر ششی تھرور برہم

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 21-09-2026
کیرالہ فلم فیسٹیول کی 31 فلموں کو اسکریننگ کی اجازت نہ دینے پر ششی تھرور برہم
کیرالہ فلم فیسٹیول کی 31 فلموں کو اسکریننگ کی اجازت نہ دینے پر ششی تھرور برہم

 



ترواننت پورم: کانگریس رہنما ششی تھرور نے پیر کو وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے کیرالہ کے 18ویں انٹرنیشنل ڈاکیومنٹری اینڈ شارٹ فلم فیسٹیول (آئی ڈی ایس ایف ایف کے) میں منتخب 31 فلموں کی نمائش کے لیے اجازت دینے سے انکار پر سخت اعتراض کیا ہے۔ یہ فیسٹیول اگلے ہفتے ترواننت پورم میں منعقد ہونے والا ہے۔ ششی تھرور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس فیصلے کو ’’اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ دنیا بھر کی بہترین فلموں کی میزبانی کرنے کی ہندوستان کی روایت سے انحراف ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو سے براہ راست مداخلت کرنے اور متعلقہ افسران کے فیصلے پر نظرثانی کرانے کی اپیل کی۔

تھرور نے لکھا، ’’میں یہ جان کر حیران ہوں کہ وزارت اطلاعات و نشریات نے کیرالہ کے باوقار 18ویں انٹرنیشنل ڈاکیومنٹری اینڈ شارٹ فلم فیسٹیول میں نمائش کے لیے منتخب 31 فلموں کو اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ فیسٹیول اگلے ہفتے ترواننت پورم میں ہونے والا ہے۔ یہ نہ صرف دنیا کے بہترین سنیما کے لیے ہندوستان کی ایک قابل فخر روایت سے انحراف ہے بلکہ اظہارِ رائے کی آزادی پر بھی حملہ ہے، جو ہماری جمہوریت کے عظیم اثاثوں میں سے ایک ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے دنیا بھر میں تخلیق کاروں، فلم سازوں اور مصنفین کے درمیان ہندوستان کی پہلے سے متاثرہ شبیہ کو مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے اشونی ویشنو سے اپیل کی کہ وہ ’’اس انتہائی افسوسناک فیصلے کا ازسرنو جائزہ لیں‘‘۔ فیسٹیول کے منتظم کیرالہ اسٹیٹ چلاچترا اکیڈمی کی جانب سے جمع کرائی گئی 347 فلموں میں سے وزارت اطلاعات و نشریات نے فلموں کے خلاصوں اور اسکرینرز کا جائزہ لینے کے بعد 31 فلموں کو سینسر استثنا دینے سے روک دیا ہے۔ ان میں سرکاری طور پر منتخب مقابلے اور کیوریٹڈ سیکشن کی 18 فلمیں، انٹرنیشنل نان فکشن زمرے کی 9 فلمیں، فیسٹیول ونرز سیکشن کی 3 فلمیں، نیپال پیکیج کی ایک فلم اور ملیالم زبان کی ایک فلم ’گلوب‘ شامل ہے، جس میں اٹاپاڈی کے قبائلی معاشرے کی زندگی دکھائی گئی ہے۔ جن فلموں کی نمائش کی اجازت روکی گئی ہے، ان میں سیاسی اختلاف، ذات پات کے حقوق اور مختلف ممالک میں جاری مسلح تنازعات جیسے موضوعات شامل ہیں۔

ان میں ’سینیٹائزڈ ریپبلک: کاسٹ اینڈ کنٹریکٹس‘ بھی شامل ہے، جو کووڈ وبا کے دوران دہلی میں کنٹریکٹ پر کام کرنے والے صفائی کارکنوں اور ذات پات کے نظام کے درمیان تعلقات کا جائزہ لیتی ہے۔ ’پارلیمنٹ اسٹریٹ‘ تاریخی اہمیت رکھنے والی اس جگہ سے وابستہ اجتماعی یادداشت اور تاریخ کو موضوع بناتی ہے۔ ’پٹ یور سول آن یور ہینڈ اینڈ واک‘ فلم ساز سپیدہ فارسی اور ایک فلسطینی فوٹو جرنلسٹ کے درمیان ویڈیو کالز کے ذریعے غزہ کی زندگی کو پیش کرتی ہے۔ ’میموریز آف اے ونڈو‘ ایران میں ہونے والے احتجاج کو شہریوں کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز کے ذریعے پیش کرتی ہے، جبکہ ’برڈز آف وار‘ ذاتی لبنانی اور شامی آرکائیوز کی مدد سے انقلاب اور جلاوطنی کی کہانی بیان کرتی ہے۔ دیگر ایسی فلموں میں ’گلوب‘، ’آور لینڈ‘ اور ’لینڈ آف مائی ڈریمز‘ شامل ہیں۔ کیرالہ کے وزیر ثقافت، سنیما اور سیاحت پی سی وشنوناد نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکیومنٹری اور مختصر فلمیں معاشرے کے مختلف طبقات اور نقطۂ نظر کو سامنے لانے کا اہم ذریعہ ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ایسی فلموں کی نمائش کی اجازت روکنا، جو ایک سخت انتخابی عمل سے گزر کر فیسٹیول کے لیے منتخب ہوئی ہیں، فلم فیسٹیول کی کیوریٹری آزادی کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ ناظرین کو یہ آزادی ہونی چاہیے کہ وہ فلمیں دیکھیں، اپنی رائے خود قائم کریں اور آزادانہ طور پر اس کا اظہار اور تنقید کریں۔‘‘ کیرالہ اسٹیٹ چلاچترا اکیڈمی نے وزارت سے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ اکیڈمی نے بتایا کہ فیسٹیول کے مندوبین، جیوری ارکان اور فلم ساز اپنے سفری انتظامات مکمل کر چکے ہیں اور فلموں کی نمائش سے متعلق فیس بھی ادا کی جا چکی ہے۔ اکیڈمی نے خبردار کیا ہے کہ اجازت نہ ملنے سے فیسٹیول کا طے شدہ پروگرام متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ فیسٹیول 25 سے 30 ستمبر تک کیرالہ اسٹیٹ چلاچترا اکیڈمی کے زیر اہتمام منعقد ہوگا۔

ریاستی دارالحکومت کے کیرالی، سری اور نیلا تھیٹروں میں فلموں کی نمائش کی جائے گی۔ دریں اثنا، 18ویں انٹرنیشنل ڈاکیومنٹری اینڈ شارٹ فلم فیسٹیول آف کیرالہ کا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ معروف اینی میشن فلم ساز نینا سبنانی کو دیا جائے گا۔ یہ اعزاز ڈاکیومنٹری اور شارٹ فلم سازی کے شعبے میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیا جا رہا ہے۔ ایوارڈ کے تحت 2 لاکھ روپے نقد، ایک مجسمہ اور توصیفی سند دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیشن 30 ستمبر کو ترواننت پورم کے کیرالی تھیٹر میں فیسٹیول کی اختتامی تقریب کے دوران انہیں یہ اعزاز پیش کریں گے۔ فیسٹیول میں نینا سبنانی کی 10 نمایاں فلمیں بھی دکھائی جائیں گی، جن میں یادداشت، اشیا اور کہانیاں ایک منفرد بصری انداز میں ایک دوسرے سے جڑتی ہیں۔ روایتی فن کاروں اور لوک کہانی سنانے والوں کے ساتھ ان کے تعاون کو بھی تنقیدی سطح پر سراہا گیا ہے۔

ان کی فلم ’ہم چِترا بناتے ہیں‘ نے نیشنل فلم ایوارڈ بھی حاصل کیا تھا۔ اینی میٹر، مصور، محقق اور استاد کی حیثیت سے نینا سبنانی فن، کہانی گوئی، بشریاتی مطالعے اور زبانی روایات کو اپنی تخلیقات میں یکجا کرتی ہیں۔ انہیں 2016 میں روایتی بھیل فن کار شیر سنگھ کے ساتھ بنائی گئی فلم ’ہم چِترا بناتے ہیں‘ کے لیے بہترین اینی میشن فلم کا نیشنل فلم ایوارڈ دیا گیا تھا۔