شرجیل امام کو کزن کی شادی میں شرکت کے لیے سات روزہ عبوری ضمانت

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 22-09-2026
شرجیل امام کو کزن کی شادی میں شرکت کے لیے سات روزہ عبوری ضمانت
شرجیل امام کو کزن کی شادی میں شرکت کے لیے سات روزہ عبوری ضمانت

 



نئی دہلی: دہلی کی کرکڑدومہ عدالت نے منگل کو شرجیل امام کو اپنے دو کزن بھائیوں کی شادی میں شرکت کے لیے 4 سے 10 اکتوبر تک سات روز کی عبوری ضمانت دے دی۔ شرجیل امام نے نئی دہلی اور بہار میں ہونے والی شادی کی تقریبات میں شرکت کے لیے عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپائی نے 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے اور اتنی ہی رقم کی ایک ضمانت پیش کرنے سمیت مختلف شرائط پر سات روز کی عبوری ضمانت منظور کی۔

عدالت نے شرجیل امام کو ہدایت دی کہ وہ 10 اکتوبر کی شام جیل حکام کے سامنے دوبارہ خودسپردگی کریں۔ عدالت نے کہا کہ یہ شرجیل امام کی عبوری ضمانت کی دوسری درخواست ہے اور وہ اپنے حقیقی کزن بھائیوں کی شادی میں شرکت کرنا چاہتے ہیں، اس صورت حال میں انہیں عبوری ضمانت دی جا رہی ہے۔ عدالت نے ضمانت کے ساتھ کئی شرائط بھی عائد کی ہیں۔ شرجیل امام کو مقدمے سے متعلق کسی شخص یا گواہ سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

وہ سوشل میڈیا کا استعمال بھی نہیں کر سکیں گے اور اپنے اہل خانہ کے علاوہ کسی دوسرے شخص سے ملاقات نہیں کر سکیں گے۔ شرجیل امام نے اپنے وکلا احمد ابراہیم اور عائشہ زیدی کے ذریعے درخواست دائر کرکے 30 ستمبر سے 13 اکتوبر تک دو ہفتے کی عبوری ضمانت مانگی تھی۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ دانش امام اور فہد امام کی شادی کی تقریبات 4 اکتوبر کو دہلی اور 7 اکتوبر کو بہار کے ساسارام میں ہوں گی۔

دہلی پولیس نے عدالت میں جواب داخل کرکے شادیوں کی تصدیق کی تھی۔ تاہم خصوصی سرکاری وکیل انیرودھ مشرا نے عبوری ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ شرجیل امام کے خلاف الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور عدالت ان کی مستقل ضمانت کی درخواست متعدد مرتبہ مسترد کر چکی ہے۔ سرکاری وکیل نے یہ دلیل بھی دی کہ شادی کی تقریبات میں شرجیل امام کی موجودگی یا ان کی جانب سے کسی مالی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ شرجیل امام کے کئی کزن ہیں اور اگر شادی کی بنیاد پر ضمانت دی گئی تو وہ مستقبل میں بھی اسی بنیاد پر بار بار عبوری ضمانت کی درخواست کر سکتے ہیں۔ شرجیل امام 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے مقدمے میں ملزم ہیں۔ استغاثہ کے مطابق فروری 2020 میں ہونے والے ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

شرجیل امام کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، یعنی یو اے پی اے کے تحت فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔ ان کی مستقل ضمانت کی درخواست دہلی ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ عمر خالد اور شرجیل امام دونوں پر یو اے پی اے کے تحت فروری 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق مبینہ بڑی سازش میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ یہ تشدد شہریت ترمیمی قانون 2019 اور مجوزہ قومی شہری رجسٹر کے خلاف جاری احتجاج کے دوران شروع ہوا تھا۔