سپریم کورٹ: یوپی حکومت پر 10 لاکھ روپے جرمانہ

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 29-09-2026
سپریم کورٹ:  یوپی حکومت پر 10 لاکھ روپے جرمانہ
سپریم کورٹ: یوپی حکومت پر 10 لاکھ روپے جرمانہ

 



نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ماورائے عدالت اعترافِ جرم کو قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت کسی شخص کی احتیاطی حراست کی واحد بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت نے سنبھل تشدد کے معاملے میں ملا افروز کی حراست منسوخ کرتے ہوئے اترپردیش حکومت پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس شیل ناگو کی بنچ نے افروز کی اپیل منظور کرتے ہوئے کہا کہ ماورائے عدالت اعترافِ جرم متعلقہ مواد کا حصہ ہوسکتا ہے لیکن احتیاطی حراست کا حکم جاری کرنے سے قبل حراستی حکم جاری کرنے والی اتھارٹی کے لیے دیگر متعلقہ حالات اور ٹھوس شواہد پر بھی غور کرنا ضروری ہے۔عدالت نے پایا کہ افروز کے معاملے میں حراستی حکم جاری کرنے والی اتھارٹی نے ان اہم عوامل کو مدنظر نہیں رکھا اور اسی وجہ سے احتیاطی حراست کا اختیار درست طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔

سنبھل تشدد کے معاملے میں حراست

یہ معاملہ نومبر 2024 میں سنبھل کی شاہی جامع مسجد کے عدالتی حکم پر سروے کے دوران پھوٹنے والے تشدد سے متعلق ہے۔ افروز کو سنبھل پولیس نے اس تشدد سے متعلق مقدمات کے سلسلے میں 17 جنوری 2025 کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد ضلع مجسٹریٹ نے 13 اکتوبر 2025 کو قومی سلامتی ایکٹ کی دفعہ 3(2) کے تحت ان کی حراست کا حکم جاری کیا تھا، جس کی بعد میں ریاستی حکومت نے بھی توثیق کردی۔

افروز نے الہ آباد ہائی کورٹ میں اس حراست کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکام نے جن شواہد اور مواد پر انحصار کیا وہ ناکافی تھے اور ان کے خلاف معاملہ بڑی حد تک مبینہ ماورائے عدالت اعترافِ جرم پر قائم تھا۔ریاستی حکومت نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے تفتیش کے دوران جمع کیے گئے مواد کا حوالہ دیا۔ حکومت کا الزام تھا کہ افروز نے تشدد کے دوران ہجوم کو مشتعل کرنے میں کردار ادا کیا اور ان کی سرگرمیوں سے عوامی نظم و ضبط متاثر ہونے کا خدشہ تھا۔

الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ

الہ آباد ہائی کورٹ نے افروز کی حراست برقرار رکھی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ حراستی حکم جاری کرنے والی اتھارٹی نے اس کے سامنے پیش کیے گئے مواد پر غور کیا تھا اور حراست کے لیے جن دستاویزات پر انحصار کیا گیا وہ افروز کو فراہم کردی گئی تھیں۔ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ احتیاطی حراست کے حکم کی عدالتی جانچ کے دوران عدالت کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا حراستی اتھارٹی نے متعلقہ مواد پر غور و فکر کیا یا نہیں۔ عدالت کو اس مواد کی کافی یا ناکافی ہونے کے معاملے میں اپیل کی عدالت کے طور پر مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔تاہم سپریم کورٹ نے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا اور قرار دیا کہ حراستی اتھارٹی کے زیر غور مواد کی بنیاد پر افروز کی حراست برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔

سپریم کورٹ کی اہم وضاحت

سپریم کورٹ نے اس سوال پر بھی غور کیا کہ کیا ماورائے عدالت اعترافِ جرم احتیاطی حراست کے حکم کی بنیاد بن سکتا ہے اور کیا حراستی اتھارٹی کے زیر غور مواد قانونی طور پر کافی تھا۔عدالت نے واضح کیا کہ ماورائے عدالت اعترافِ جرم اپنے طور پر احتیاطی حراست کا جواز نہیں بن سکتا۔ حراست کا اختیار استعمال کرنے سے پہلے اتھارٹی کے لیے دیگر متعلقہ اور ٹھوس حالات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔افروز کے معاملے میں عدالت نے پایا کہ حراستی اتھارٹی نے ایسے عوامل پر غور نہیں کیا اور اس طرح اس نے دستیاب مواد کی بنیاد پر قانونی طور پر درست طور پر اختیار استعمال نہیں کیا۔سپریم کورٹ نے چنانچہ حراست کا حکم منسوخ کرتے ہوئے افروز کی اپیل منظور کرلی اور اترپردیش حکومت پر 10 لاکھ روپے کے اخراجات بھی عائد کردیے۔