صفائی ملازمین کو ان کا حق اور احترام ملا: ریکھا گپتا

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 30-09-2026
صفائی ملازمین کو ان کا حق اور احترام ملا: ریکھا گپتا
صفائی ملازمین کو ان کا حق اور احترام ملا: ریکھا گپتا

 



نئی دہلی: دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے بدھ کو کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں صفائی ملازمین کو وہ احترام ملا ہے جس کے وہ حقدار تھے، جبکہ پہلے ان کے مسائل کو نظر انداز کیا جاتا تھا۔ صفائی ملازمین کے لیے منعقد حفاظتی اور وقار کیمپ میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ گپتا نے کہا، ’’وزیر اعظم مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد صفائی ملازمین کو وہ احترام ملا جس کے وہ حقدار تھے اور جو انہیں پہلے نہیں ملا تھا۔

وزیر اعظم مودی نے ان ملازمین کے ساتھ بیٹھ کر ان کے مسائل کو سمجھا۔‘‘ صفائی ملازمین کے لیے اپنی حکومت کی جانب سے کی جانے والی پہل کا ذکر کرتے ہوئے ریکھا گپتا نے کہا کہ چاہے ڈیپ کلیننگ ہو یا عام صفائی، ان کاموں کی ذمہ داری صفائی ملازمین کو دی گئی ہے اور حکومت نے ان کی حفاظت یقینی بنانے کی ذمہ داری لی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’وزیر اعظم مودی کی قیادت میں دہلی حکومت بھی اسی سمت میں کام کر رہی ہے۔ ہم نے ایک ہزار کچرا اٹھانے والی مشینیں فراہم کرنے کے لیے بجٹ مختص کیا ہے۔ کل کابینہ نے 70 بڑی اور 30 چھوٹی صفائی مشینوں کی خریداری کو بھی منظوری دی ہے۔ ہر ’سوچھتا متر‘ کو پورے خلوص کے ساتھ اور ضروری سہولتوں کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔‘‘

وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی صدارت میں منگل کو ہونے والی کابینہ کی میٹنگ میں چھوٹی سڑکوں پر 30 الیکٹرک گاڑیوں پر مبنی میکینیکل روڈ سویپنگ مشینیں لگانے اور آئی آئی ٹی دہلی کے تعاون سے پی ایم 2.5 اور پی ایم 10 کے ذرائع کی حقیقی وقت میں نگرانی کرنے والے نظام کو بھی منظوری دی گئی۔ خاتون صفائی ملازمین کے لیے حکومت کی پہل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ہم نے دہلی کی تمام خواتین کے لیے ’پنک کارڈ‘ کا انتظام کیا ہے۔ ہماری بیٹیوں کی تعلیم کے لیے حکومت پیدائش سے کالج تک کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ان کے بینک کھاتوں میں ایک لاکھ سے 1.25 لاکھ روپے تک جمع کرے گی۔ اسے ’لکھ پتی بیٹیاں‘ اسکیم کہا گیا ہے۔‘

‘ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت نومولود بچوں کے لیے ’آل اِن ون‘ طبی جانچ کرائے گی۔ اس میں 56 طرح کے ٹیسٹ شامل ہوں گے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ پیدائش کے وقت بچے کو کوئی دوسری بیماری تو نہیں ہے۔