دھوبری: بھوٹان کی شنتافو جھیل میں گلیشیائی جھیل پھٹنے سے سیلاب (گلاف) کی اطلاع کے بعد مرکزی آبی کمیشن (سی ڈبلیو سی) نے مغربی بنگال اور آسام کے لیے خصوصی سیلابی انتباہ جاری کیا ہے۔ کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ سیلابی پانی سانکوش ندی کے راستے نیچے کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے باعث مغربی بنگال کے علی پور دوار اور آسام کے دھوبری اضلاع میں پانی کی سطح اچانک بڑھ سکتی ہے۔ 29 اکتوبر کو جاری کردہ اپنے انتباہ میں مرکزی آبی کمیشن نے بتایا کہ بھوٹان میں ہندوستانی سفارت خانے نے گلیشیائی جھیل پھٹنے کی اطلاع دی ہے۔ اس کے نتیجے میں پوناٹسنگ چھو ندی کے بالائی علاقوں میں اچانک سیلاب آ سکتا ہے۔
ہندوستان میں اسی ندی کو سانکوش کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس سے ندی میں پانی کی سطح تیزی سے بڑھنے کا خدشہ ہے۔ کمیشن نے اپنے انتباہ میں کہا، ’’سیلابی پانی نیچے کی جانب بہے گا اور 6 سے 8 گھنٹوں میں سرحد تک پہنچ سکتا ہے۔ اس سے مغربی بنگال کے علی پور دوار اور آسام کے دھوبری ضلع متاثر ہو سکتے ہیں۔‘‘ مرکزی آبی کمیشن نے دونوں اضلاع میں سانکوش ندی کے کنارے واقع مقامی انتظامیہ کو چوکس رہنے، صورت حال پر مسلسل نظر رکھنے اور ضروری احتیاطی اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔
دریں اثنا، آسام کے وزیر اعلیٰ کے دفتر نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما صورت حال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور دھوبری ضلع انتظامیہ ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ آسام کے وزیر اعلیٰ کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ بھوٹان میں گلیشیائی جھیل پھٹنے سے پیدا ہونے والی صورت حال کی وزیر اعلیٰ خود نگرانی کر رہے ہیں۔ دھوبری ضلع انتظامیہ کی ٹیم موقع پر موجود ہے اور سیلاب کے ممکنہ اثرات سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ آسام اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (اے ایس ڈی ایم اے) کے مطابق، دھوبری اور زیریں آسام کے دیگر اضلاع میں فی الحال لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل شروع نہیں کیا گیا ہے۔
تاہم ضلع انتظامیہ اور ریاستی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ اتھارٹی نے یہ بھی بتایا کہ فی الحال آسام کی مختلف ندیوں میں پانی کی سطح میں کوئی اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے اور صورت حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ ادھر پڑوسی ریاست مغربی بنگال میں انتظامیہ نے ہنگامی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے اور سانکوش ندی نیز اس کی معاون ندیوں کے کنارے واقع خطرے والے علاقوں کے لیے انتباہ جاری کیا ہے۔
ندی کے کنارے رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ دارجلنگ کے پہاڑی علاقوں، ترائی اور ڈوآرس کے باشندوں سے بھی ممکنہ سیلاب کے پیش نظر چوکس رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔ دارجلنگ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ راجو بستا نے بھوٹان کے لیم تھانگ علاقے میں گلیشیائی جھیل پھٹنے کی اطلاع کے بعد سانکوش ندی اور اس کی معاون ندیوں کے کنارے رہنے والے لوگوں سے محفوظ مقامات پر جانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے دارجلنگ کے پہاڑی علاقوں، ترائی اور ڈوآرس کے باشندوں کو بھی محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔
ریاستی وزیر نسیتھ پرمانک نے بتایا کہ ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیم کو متحرک کر دیا گیا ہے اور قومی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) کو بھی اطلاع دے دی گئی ہے۔ امدادی کارروائیوں کی تیاری کے لیے رضاکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ علی پور دوار کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس امیت کمار شا نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ بھوٹان کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ان کے مطابق 4,000 سے 5,000 افراد کو امدادی مراکز میں منتقل کیا گیا ہے، جبکہ 6,000 سے زیادہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جا چکا ہے۔
ایس ڈی آر ایف اور شہری دفاع کی ٹیمیں تعینات ہیں اور این ڈی آر ایف کی ایک ٹیم بھی پہنچ رہی ہے۔ شا نے بتایا کہ تازہ اطلاعات کے مطابق پانی کے بہاؤ کی شدت میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم سانکوش ندی کے نظام کے لیے ریڈ الرٹ برقرار ہے۔ امدادی مراکز میں لوگوں کے لیے کھانے پینے کی اشیا، پینے کے پانی اور دیگر ضروری سہولتوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ گلیشیائی جھیل پھٹنے سے آنے والے سیلاب کو تکنیکی زبان میں گلاف (GLOF) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک اچانک اور انتہائی خطرناک سیلاب ہوتا ہے، جو اس وقت آتا ہے جب گلیشیائی جھیل کو روکنے والا قدرتی بند ٹوٹ جاتا ہے یا اس میں شگاف پڑ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جھیل کا جمع شدہ پانی بڑی مقدار میں تیزی سے نیچے کی جانب بہنے لگتا ہے۔
اس پانی کے ساتھ ملبہ اور دیگر بھاری اشیا بھی بہہ سکتی ہیں، جس سے آبادیوں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ رہتا ہے۔ دونوں ریاستوں کی انتظامیہ ندیوں میں پانی کی سطح پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ہنگامی تیاریوں کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ تال میل کر رہی ہے۔ خطرے والے علاقوں کے باشندوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور اپنی حفاظت کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔