فتح گڑھ صاحب: دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے ہفتہ کو پنجاب میں منشیات کے بحران کو لے کر عام آدمی پارٹی کی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’منشیات کا عفریت گاؤں سے شہروں تک اپنا دائرہ پھیلا رہا ہے‘‘ اور الزام لگایا کہ بھگونت مان حکومت صورت حال پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔ ریکھا گپتا پنجاب میں بی جے پی کی جانب سے ریاست بھر میں نکالی جانے والی چار انسدادِ منشیات یاترا میں سے دوسری یاترا کو فتح گڑھ صاحب سے روانہ کرنے پہنچی تھیں۔ اس سے قبل انہوں نے گوردوارہ جیوتی سروپ صاحب میں حاضری دی، جو گرو گووند سنگھ کے چھوٹے صاحبزادوں کی شہادت سے منسلک ہے۔
ریکھا گپتا نے عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال پر بھی سخت حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کیجریوال نے پہلے مختلف محکموں میں ’’ہزاروں کروڑ روپے کے گھپلے‘‘ کیے اور دہلی کے پیسے کے ذریعے پنجاب پر اپنا کنٹرول قائم کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ کیجریوال اپنی قومی سیاسی خواہشات کے لیے پنجاب کے وسائل کا استعمال کر رہے ہیں۔ ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ریکھا گپتا نے کہا کہ انہوں نے منشیات کی لت میں مبتلا بچوں کے خاندانوں سے ملاقات کی اور ان ماؤں سے بات کی جن کے بچے نشے کی طرف دھکیل دیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’اس سے پورا خاندان برباد ہوجاتا ہے اور معاشرے میں اس کی عزت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ یہ سوچ کر تکلیف بڑھ جاتی ہے کہ اپنے بچوں کو کیسے بچایا جائے اور ان نوجوانوں کو منشیات کے چنگل سے کیسے آزاد کرایا جائے۔‘‘ مان حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’آج منشیات کا یہ عفریت گاؤں گاؤں اور شہر شہر پھیل رہا ہے۔ جب 2022 میں حکومت بنی تھی تو وعدہ کیا گیا تھا کہ تین چار ماہ میں منشیات کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ کیا یہ وعدہ پورا ہوا؟ یہ حکومت مسلسل کھوکھلے وعدے کرتی ہے اور عوام کو گمراہ کرتی ہے۔‘‘
ریکھا گپتا نے کیجریوال کو ’’منافقت کرنے والا اور دھوکے باز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب خاص طور پر اس لیے آئی ہیں تاکہ عام آدمی پارٹی کے رہنما کی ’’حقیقت‘‘ عوام کے سامنے لاسکیں۔ انہوں نے کہا، ’’جب ہم نے اسے دہلی کے ’شیش محل‘ سے باہر کردیا تو وہ پنجاب چلا گیا اور یہاں ’شیش محل 2‘ بنا کر رہنے لگا۔ وہ یہاں نجی طیارے میں گھومتا ہے۔ وہ نوکروں اور خادموں کے ساتھ شاہانہ زندگی گزارتا ہے۔ ذرا سوچیں، اسے پنجاب کے وسائل اور املاک استعمال کرنے کا کیا حق ہے؟ کیا آپ کے ٹیکس کا پیسہ غلط طریقے سے استعمال نہیں کیا جا رہا؟‘‘
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ دہلی میں مبینہ سازشوں اور بدعنوانی میں شامل عام آدمی پارٹی کی پوری ٹیم گزشتہ پانچ برس کے دوران پنجاب میں آکر بس گئی ہے۔ ریکھا گپتا نے کہا کہ مان حکومت کے دور میں پنجاب کی صورت حال مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال کیا، ’’پانچ سال مکمل ہونے کو ہیں، کیا آپ نے یہی صورت حال دیکھنے کی امید کی تھی؟ حالات بہت زیادہ خراب ہوچکے ہیں اور پنجاب قرض میں ڈوب رہا ہے۔ پانچ لاکھ کروڑ روپے کے اس قرض کو کون ادا کرے گا؟‘‘
انہوں نے خبردار کیا، ’’کیجریوال دوبارہ فرار ہوجائیں گے، اور اگر نہیں گئے تو آپ انہیں بھگا دیں گے، لیکن قرض یہیں رہ جائے گا۔‘‘ ریکھا گپتا نے عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں پر منشیات کے مافیا کے ساتھ ملی بھگت کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے سوال کیا، ’’وہ کس مافیا کو گرفتار کرتے ہیں؟ کس دلال کے خلاف کارروائی کرتے ہیں؟ کیا وہ انہیں پکڑنے کی کوشش بھی کرتے ہیں؟ نہیں، کیونکہ وہ خود اس میں شامل ہیں۔ اس میں ان کا بھی حصہ ہے۔ ارکان اسمبلی، عوامی نمائندوں اور وزرا کو چھوڑ دیجیے، جب خود وزیر اعلیٰ ہی ملوث ہوں، ان کے ساتھ ’سپر چیف منسٹر‘، وزیر اعلیٰ کی اہلیہ اور انتظامیہ بھی شامل ہو تو ایسی حکومت سے کیا امید کی جاسکتی ہے؟‘‘