وارانسی: ہمالیہ کے حیاتیاتی تنوع کے اہم خطے دارجلنگ اور کالیمپونگ میں پائے جانے والے ماربلڈ کاسکیڈ مینڈک (Amolops marmoratus) کو جینیاتی تنہائی اور روایتی شکار، دونوں سے خطرہ لاحق ہے۔ ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ مقامی طور پر ’سسنے پہا‘ یا ’سسنے پا‘ کے نام سے جانے جانے والے اس مینڈک کو مقامی برادریاں کئی نسلوں سے خوراک اور روایتی علاج کے لیے پکڑتی رہی ہیں۔ کلکتہ یونیورسٹی، بنارس ہندو یونیورسٹی، زولوجیکل سروے آف انڈیا، دارجلنگ گورنمنٹ کالج اور تملوک مہاودیالیہ کے 12 سائنس دانوں پر مشتمل ٹیم نے پہلی بار اس نسل کا تفصیلی ڈی این اے تجزیہ کیا ہے۔
بین الاقوامی جریدے بی ایم سی جینومکس میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق دارجلنگ کے علاقے میں اس مینڈک کی آبادی جینیاتی طور پر الگ تھلگ ہے اور ایشیا کے دیگر علاقوں کی آبادیوں کے مقابلے میں اس میں جینیاتی تنوع نمایاں طور پر کم ہے۔ تحقیق کے لیے دارجلنگ کی پہاڑیوں میں 57 مقامات سے نمونے جمع کیے گئے۔ ٹیم نے 200 سے 2400 میٹر کی بلندی پر واقع آبشاروں، تیز بہاؤ والی ندیوں اور پتھریلی ندی نالوں میں سروے کیا۔ سائنس دانوں نے 60 مینڈکوں کا جسمانی ساخت کی بنیاد پر مطالعہ کیا، جبکہ 35 نمونوں کے ڈی این اے کا تجزیہ کیا گیا۔
زولوجیکل سروے آف انڈیا، کولکتہ نے اس نسل کی شناخت کی تصدیق کی۔ جینیاتی تجزیے کے لیے 16S rRNA اور COI نامی دو معیاری جینز کا استعمال کیا گیا۔ دنیا کے مختلف علاقوں سے حاصل شدہ ڈی این اے سلسلوں کے ساتھ موازنے سے معلوم ہوا کہ دارجلنگ کی آبادی میں جینیاتی تنوع سب سے کم ہے، جبکہ میانمار، جنوب مشرقی ایشیا اور چین کی آبادیوں میں نسبتاً زیادہ تنوع پایا گیا۔ تحقیق کے مطابق دارجلنگ اور چین کی آبادیوں کے درمیان جینیاتی فرق سب سے زیادہ تھا، جبکہ میانمار اور جنوب مشرقی ایشیا کی آبادیوں کے درمیان یہ فرق سب سے کم رہا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دارجلنگ کی آبادی دوسرے علاقوں کی آبادیوں سے جینیاتی طور پر الگ اور تنہا ہوچکی ہے۔
سائنس دانوں نے ڈی این اے کے اعداد و شمار کی مدد سے اس نسل کے ارتقائی انحراف کے وقت کا بھی اندازہ لگایا۔ تجزیے کے مطابق ایشیا میں اس نسل کے مشترکہ جد تقریباً ایک کروڑ 74 لاکھ سال پہلے موجود تھے۔ جنوبی ایشیا، یعنی دارجلنگ کی نسل، تقریباً ایک کروڑ 12 لاکھ سال پہلے الگ ہوئی، جبکہ موجودہ دارجلنگ نسل تقریباً 9 لاکھ 40 ہزار سال پہلے اس خطے میں پھیلی۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ جینیاتی انحراف اس دور کے بعد ہوا جب ہمالیہ میں ایک مستحکم ماحولیاتی نظام وجود میں آچکا تھا۔
اس سے اشارہ ملتا ہے کہ اس نسل میں ارتقائی تبدیلی اس وقت شروع ہوئی جب ہمالیہ کے خطے میں وسائل وافر تھے۔ تحقیق کے مطابق جغرافیائی تنہائی، جینز کی محدود منتقلی اور ماضی میں آبادی میں آنے والی تبدیلیاں دارجلنگ کی آبادی میں کم جینیاتی تنوع کی بنیادی وجوہات ہیں۔ محققین نے مینڈکوں کے مقامی سطح پر شکار اور استعمال کو بھی موجودہ دور کا ایک اضافی دباؤ قرار دیا ہے، جو جینیاتی تنوع کو مزید کم کرسکتا ہے۔ مون سون کے موسم میں رات کے وقت چٹانوں اور جھاڑیوں پر بیٹھے مینڈکوں کو پکڑنا دارجلنگ کی پہاڑیوں میں عام رواج ہے۔ اس علاقے میں بنیادی طور پر مینڈکوں کی دو نسلیں خوراک کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں، جن میں Amolops marmoratus اور Nanorana liebigii شامل ہیں۔ ان میں Amolops marmoratus زیادہ وسیع علاقے میں پایا جاتا ہے، اس لیے مقامی سطح پر اس کے شکار کا دباؤ بھی زیادہ ہے۔
کلکتہ یونیورسٹی کے شعبہ حیوانیات کے ڈاکٹر راکیش تمانگ نے، جو اس تحقیق کی قیادت کر رہے تھے، کہا، ’’دارجلنگ کی پہاڑیوں سے اس نسل کے جسمانی اور جینیاتی تجزیے کو یکجا کرنے والی یہ پہلی تحقیق ہے۔ یہ آبادی الگ نوعیت کی ہے اور اس میں جینیاتی تنوع کم ہے۔ تحفظ سے متعلق پالیسیاں بناتے وقت اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ ڈاکٹر کماریش منڈل کے مطابق یہ آبادی ایک محدود تعداد کے گروپ سے وجود میں آئی اور بانی اثر کے بعد تیزی سے پھیلی۔ اسی وجہ سے دارجلنگ سے حاصل کیے گئے نمونے ارتقائی شجرے میں ایک الگ شاخ پر نظر آتے ہیں، جبکہ مختصر شاخیں محدود جینیاتی تنوع کی نشاندہی کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمالیہ کی ان جینیاتی طور پر منفرد آبادیوں، ان کے ندی نالوں پر مشتمل مسکن اور ان کی طویل مدتی ارتقائی صلاحیت کا تحفظ مشرقی ہمالیہ کے ماحولیاتی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ بنارس ہندو یونیورسٹی کے جینیاتی سائنس دان پروفیسر گیانیشور چوبے نے کہا، ’’اب تک ہمالیہ میں مینڈکوں کے تنوع پر بہت کم کام ہوا ہے۔ اس معاملے میں مشرقی ہمالیہ مغربی گھاٹ سے پیچھے ہے۔ کم جینیاتی تنوع رکھنے والی آبادیوں کے لیے موسمیاتی تبدیلی، بیماریوں اور باہمی افزائش کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔
‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’مقامی برادریوں میں بیداری پیدا کیے بغیر تحفظ کی کوششیں مکمل نہیں ہوسکتیں۔‘‘ اس تحقیق کے دوران پہلی بار دارجلنگ سے حاصل کیے گئے اس مینڈک کے نمونوں سے COI جین کے سلسلے بھی تیار کیے گئے ہیں۔ محققین کے مطابق یہ معلومات مستقبل میں ڈی این اے بارکوڈنگ اور ماحولیاتی ڈی این اے، یعنی ای ڈی این اے، کے ذریعے اس نسل کی نگرانی میں مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔