راج پال یادو سپریم کورٹ میں پیش، 2 کروڑ جمع کرانے کا حکم

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 07-10-2026
راج پال یادو سپریم کورٹ میں پیش، 2 کروڑ جمع کرانے کا حکم
راج پال یادو سپریم کورٹ میں پیش، 2 کروڑ جمع کرانے کا حکم

 



نئی دہلی: اداکار راج پال یادو بدھ کو سپریم کورٹ میں ذاتی طور پر پیش ہوئے۔ عدالت نے چیک باؤنس کے ایک معاملے میں واجب الادا رقم جمع نہ کرانے پر انہیں سخت تنبیہ کی تھی۔ راج پال یادو نے عدالت کو بتایا کہ وہ 2 کروڑ روپے ادا کریں گے اور 1.15 کروڑ روپے کا ڈیمانڈ ڈرافٹ بھی پیش کیا۔ ان کی جائیداد خریدنے والا ایک شخص بھی عدالت میں موجود تھا، جو باقی 85 لاکھ روپے ادا کرنے والا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریا کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے راج پال یادو کو شکایت کنندہ کو واجب الادا رقم کے طور پر 13 اکتوبر تک 2 کروڑ روپے جمع کرانے کی ہدایت دی۔

عدالت نے کہا کہ رقم جمع کرائے جانے کے بعد وہ دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف ان کی درخواست پر غور کرے گی، جس میں انہیں ایک نجی فریق سے لیے گئے قرض کی ادائیگی نہ کرنے پر قصوروار قرار دیتے ہوئے تین ماہ کی سزا سنائی گئی تھی۔ راج پال یادو کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ رقم جمع کرانے کے لیے عدالت کی رجسٹری گئے تھے، لیکن وہاں آر ٹی جی ایس کے ذریعے ادائیگی کی اجازت نہیں تھی۔ اس لیے وہ 1.15 کروڑ روپے کا ڈیمانڈ ڈرافٹ لے کر آئے ہیں۔ باقی 85 لاکھ روپے کے بارے میں وکیل نے بتایا کہ راج پال یادو کی جائیداد خریدنے والا شخص عدالت میں موجود ہے اور وہ یہ رقم ادا کرے گا۔

راج پال یادو نے اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’فلم بنانے کے لیے قرض نہیں لیا جاتا۔ قرض گھر بنانے یا زمین خریدنے کے لیے لیا جاتا ہے، فلم بنانے کے لیے نہیں۔ یہ یا تو پیکیج ڈیل ہوتی ہے یا سرمایہ کاری۔ راج پال یادو خود پہلے ہی سو فلموں پر کام کر رہے ہیں، تو ایک فلم بنانے کے لیے انہیں قرض لینے کی ضرورت کیوں ہوگی؟‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’مجھے اپنے ملک، سپریم کورٹ اور عدلیہ کا بے حد احترام ہے۔ جو بھی فیصلہ ہوگا، جہاں سے بھی ہوگا، اسے سبھی قبول کریں گے۔‘‘ عدالت نے واضح کیا کہ اب تک دی گئی مہلت کا مقصد صرف شکایت کنندہ کی رقم کی ادائیگی یقینی بنانا تھا۔

عدالت نے راج پال یادو کے طرز عمل پر انہیں متنبہ کرتے ہوئے کہا، ’’قانون کو اس طرح استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘ جسٹس جوی مالیا باگچی نے سوال کیا کہ کیا راج پال یادو کو قید کی سزا بھگتنی پڑی ہے۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ عدالت ان کی سزا میں اضافہ کرنے پر غور کرسکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ رقم جمع کرانے کا مقصد شکایت کنندہ کی واجب الادا رقم کو محفوظ بنانا ہے اور راج پال یادو کا طرز عمل عدالت کو مطمئن نہیں کرتا۔ یہ معاملہ تقریباً 5 کروڑ روپے کے اس قرض سے متعلق ہے جو راج پال یادو نے مبینہ طور پر 2010 میں اپنی فلم ’’اتا پتا لاپتا‘‘ کے لیے ایم/ایس مرلی پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ سے لیا تھا۔

بعد میں قرض کی واپسی کے لیے دیے گئے 1.05 کروڑ روپے مالیت کے سات چیک باؤنس ہوگئے، جس کے بعد چیک باؤنس کا مقدمہ شروع ہوا۔ وقت گزرنے کے ساتھ سود اور دیگر اخراجات کی وجہ سے واجب الادا رقم میں اضافہ ہوتا گیا۔ عدالت کا حکم سنائے جانے کے بعد بنچ اور راج پال یادو کے درمیان غیر رسمی گفتگو بھی ہوئی۔ اداکار نے فلم ’’اتا پتا لاپتا‘‘ سے ہونے والے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس فلم کی وجہ سے تقریباً 200 سے 250 کروڑ روپے کا نقصان ہوا اور فلم کے پروڈیوسروں کو بھی نقصان اٹھانا پڑا۔

سی جے آئی نے مقدمے پر تبصرہ کرتے ہوئے فلم کے عنوان کا حوالہ دیا اور مذاق میں کہا، ’’آپ کی فلم کی طرح آپ کا پیسہ بھی اتا پتا لاپتا، یعنی غائب ہے۔‘‘ عدالت نے جب راج پال یادو سے جاری معاملے پر بات کرنے کی خواہش ظاہر کی تو اداکار نے بنچ کو سلام کیا اور کہا، ’’پرنام کرتا ہوں۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے اپنی مشکلات کے بارے میں بتایا، جن میں جیل میں گزارا ہوا وقت بھی شامل تھا۔ سی جے آئی نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ ایک اچھی فلم بنائیں اور لوگوں کو محظوظ کریں۔ انہوں نے مذاقاً یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ میں پیش ہونے والے وکیل بھی اچھے اداکار ہیں اور انہیں اپنی فلموں میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

راج پال یادو نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ فلم سے ہونے والے نقصان کے باوجود ان سے 5 کروڑ روپے کی واجب الادا رقم کے معاملے میں مسلسل تقاضا کیا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے 5 اکتوبر کو بھی راج پال یادو کی جانب سے پہلے دی گئی ہدایت کے مطابق 2 کروڑ روپے جمع نہ کرانے پر سخت ناراضی ظاہر کی تھی۔ اس سے قبل 15 ستمبر کو عدالت نے انہیں آخری موقع دیتے ہوئے دو ہفتے کے اندر رقم جمع کرانے اور ادائیگی کا واضح منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت دی تھی۔