راج ناتھ سنگھ کا بحری شعبے میں خود انحصاری سے عالمی مسابقت کی طرف بڑھنے پر زور

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 06-10-2026
راج ناتھ سنگھ کا بحری شعبے میں خود انحصاری سے عالمی مسابقت کی طرف بڑھنے پر زور
راج ناتھ سنگھ کا بحری شعبے میں خود انحصاری سے عالمی مسابقت کی طرف بڑھنے پر زور

 



وشاکھاپٹنم: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بحری شعبے میں ملک کو خود انحصاری سے آگے بڑھاتے ہوئے عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو اپنی جہاز ساز صنعت کو اس مقام تک پہنچانا ہوگا جہاں اس کی شپ یارڈز صرف ہندوستانی بحریہ کے لیے ہی نہیں بلکہ دوست ممالک اور عالمی منڈیوں کے لیے بھی جہاز تیار کرسکیں۔ وشاکھاپٹنم میں ہندوستان شپ یارڈ لمیٹڈ (ایچ ایس ایل) میں بڑے مقامی جہاز سازی اور بحری بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ملک کی جہاز سازی کی صنعت کو تجارتی طور پر قابل عمل، مؤثر اور عالمی سطح پر مسابقت رکھنے والی طاقت میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

راج ناتھ سنگھ نے کہا، ’’ہمارا مقصد صرف خود انحصار بننا نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بننا ہوگا۔ خود انحصاری ہمارے سفر کا ایک اہم مرحلہ ہے، جبکہ عالمی مسابقت ہماری اگلی بڑی چھلانگ ہے۔ ہندوستان کو ایسی پوزیشن حاصل کرنی ہوگی جہاں ہماری شپ یارڈز نہ صرف ہندوستانی بحریہ بلکہ دوست ممالک اور عالمی منڈیوں کے لیے بھی جہاز اور بحری خدمات فراہم کرسکیں۔‘‘ ملک کی جہاز سازی کی صنعت کو وسعت دینے کے لیے واضح حکمت عملی پیش کرتے ہوئے وزیر دفاع نے پانچ نکاتی اصول بھی بتایا۔

انہوں نے کہا، ’’ہمارا مقصد سادہ اور واضح ہونا چاہیے: بہتر ڈیزائن تیار کریں، تیزی سے تعمیر کریں، وقت پر فراہمی کریں، مؤثر طریقے سے کام کریں اور دیکھ بھال کا نظام بھی مؤثر بنائیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے بحری عزائم کو حقیقت میں بدلنے کے لیے رسد کے نظام اور صنعت سے متعلق بنیادی مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان میں جہاز سازی کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، لیکن اس صلاحیت کو عملی قوت اور پھر عالمی مسابقت میں تبدیل کرنا اگلا بڑا چیلنج ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اس مقصد کے لیے وقت پر فراہمی، پیداواری صلاحیت، مقامی ڈیزائن تیار کرنے کی قابلیت، مضبوط سپلائی چین، ہنرمند افرادی قوت، پیداواری گنجائش اور لاگت کے اعتبار سے مسابقت جیسے اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔

وزیر دفاع نے ایچ ایس ایل جیسی سرکاری دفاعی جہاز ساز کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ مقامی صنعتوں اور تعلیمی اداروں کو اپنے ساتھ جوڑ کر ایک مضبوط اور خود کفیل دفاعی صنعتی بنیاد تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایچ ایس ایل کو آندھرا پردیش کے وسیع صنعتی نظام سے مزید مضبوط تعلق قائم کرنا چاہیے۔ ریاست کی چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں سامان فراہم کرنے والی کمپنیوں کے طور پر کام کرسکتی ہیں۔ یونیورسٹیاں تحقیق اور ہنر کی ترقی کے مراکز بن سکتی ہیں۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں ڈیجیٹل جہاز سازی میں تعاون کرسکتی ہیں، جبکہ نئے کاروباری ادارے بحری ٹیکنالوجی تیار کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ لاجسٹکس اور بندرگاہوں کا بنیادی ڈھانچہ جہاز سازی اور جہازوں کی مرمت کے ایک وسیع نظام کو سہارا دے سکتا ہے۔‘‘