نئی دہلی: وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے دیوالی کے موقع پر ہفتے کے روز دارجلنگ کے باگ ڈوگرا ایئر فیلڈ میں تعینات ہندوستانی فوج کے جوانوں سے ملاقات کی اور ان سے بات چیت کی۔ وزیر دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ وہ سلی گوڑی کے سکنا میں تعینات فوجی اہلکاروں سے بھی ملاقات کریں گے۔
اس کے علاوہ دیوالی کے موقع پر مرکزی وزیر سکم میں واقع شیراتھنگ وار میموریل کا دورہ کرکے ملک کی خدمت میں اپنی جان قربان کرنے والے شہید فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کریں گے۔ راجناتھ سنگھ نے کہا، ’’آج دیوالی سے ایک روز قبل میں دارجلنگ کے باگ ڈوگرا ایئر فیلڈ اور سکنا (سلی گوڑی) میں ہندوستانی فوج کے جوانوں سے ملاقات اور بات چیت کروں گا۔
کل (8 نومبر) دیوالی کے دن سکم میں شیراتھنگ وار میموریل جاکر ان بہادر سپوتوں کو خراج عقیدت پیش کروں گا، جنہوں نے ملک کی خدمت میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ میں اس علاقے میں تعینات اپنے فوجی جوانوں سے بھی ملاقات کروں گا۔‘‘ اس سے قبل 4 نومبر کو وزیر دفاع نے اعلان کیا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے اگنی پتھ اسکیم کے تحت اگنی ویروں کے لیے 2 سالہ ’سیکنڈ ٹور آف ڈیوٹی‘ کی منظوری دے دی ہے۔
اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا تھا اور کہا تھا کہ اس سے اگنی ویروں کو اپنی ابتدائی مدت ملازمت کے بعد بھی مسلح افواج میں خدمات انجام دینے کا ایک اضافی موقع ملے گا۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں وزیر دفاع نے کہا تھا، ’’آج ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے اگنی پتھ اسکیم کے تحت اگنی ویروں کے لیے 2 سالہ ’سیکنڈ ٹور آف ڈیوٹی‘ کو منظوری دے دی ہے۔‘
‘ انہوں نے کہا تھا کہ اس فیصلے کے تحت مقررہ 4 یا 6 سالہ مدت ملازمت مکمل کرنے کے بعد ایسے اگنی ویروں کو باقاعدہ فوجی کے طور پر بھرتی ہونے کا موقع بھی ملے گا جو اس کے خواہش مند ہوں گے اور مقررہ انتخابی معیار پر پورا اتریں گے۔
وزیر دفاع کے مطابق، یہ اضافی 2 سالہ مدت اہل اگنی ویروں کو مسلح افواج سے اپنا تعلق برقرار رکھنے اور ملک کی خدمت جاری رکھنے کا ایک اور موقع فراہم کرے گی۔ انہوں نے اس فیصلے کو ہندوستانی دفاعی افواج کو مضبوط بنانے کے لیے جاری طویل مدتی اصلاحات کا حصہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بدلتے ہوئے جنگی حالات اور نئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نوجوان، صحت مند اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس فوج تیار کرنا ضروری ہے۔