نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ میں ایک نئی مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) دائر کی گئی ہے، جس میں دہلی میں پیئنگ گیسٹ (پی جی) رہائش گاہوں، کرائے کے فلیٹوں اور نجی ہاسٹلوں میں رہنے والے طلبہ کی حفاظت اور فلاح و بہبود کی نگرانی کے لیے ایک مخصوص نظام قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس عرضی کی فوری وجہ 6 ستمبر کو ستیہ نکیتن میں عمارت گرنے کا حادثہ بتایا گیا ہے، جس میں پانچ طلبہ سمیت سات افراد کی موت ہوئی تھی۔ یہ عرضی دہلی یونیورسٹی کے پی جی ڈی اے وی کالج کے دوسرے سال کے طالب علم شوانش کالیہ نے دائر کی ہے۔ عرضی گزار نے کالج، یونیورسٹی اور بڑے طلبہ و کوچنگ مراکز کی سطح پر طلبہ رہائش مشاورتی و نگرانی کمیٹیاں قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
عرضی ایڈووکیٹ آشوب بدھوری کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔ یہ پی آئی ایل ستیہ نکیتن سانحے کے پس منظر میں سامنے آئی ہے، جہاں 6 ستمبر کو طلبہ کے لیے نجی بوائز ہاسٹل یا پی جی کے طور پر استعمال ہونے والی ایک عمارت منہدم ہوگئی تھی۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس حادثے میں پانچ طلبہ سمیت سات افراد ہلاک ہوئے، جبکہ کئی دیگر افراد کو ملبے سے بحفاظت نکالا گیا۔ اس میں ایسی میڈیا رپورٹس کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جن میں عمارت کے منہدم ہونے سے کچھ عرصہ قبل وہاں تعمیراتی اور تزئین و آرائش کے کام اور عمارت کے منظور شدہ نقشے اور ساخت پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔
دہلی ہائی کورٹ نے ستیہ نکیتن عمارت گرنے کے واقعے سے متعلق کارروائی کے دوران 7 ستمبر کو کہا تھا کہ بادی النظر میں ایسے حادثات کی ذمہ داری صرف پی جی مالک تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ یونیورسٹی انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن آف دہلی (ایم سی ڈی) بھی اس کی ذمہ دار ہوسکتی ہے، کیونکہ عمارت کے قوانین اور ضوابط کی پابندی یقینی بنانا اس کی ذمہ داری ہے۔ تازہ پی آئی ایل میں اسی تشویش کو بنیاد بناتے ہوئے طلبہ کے لیے ایک مربوط ادارہ جاتی نظام قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، خاص طور پر ان طلبہ کے لیے جو یونیورسٹی اور سرکاری ہاسٹلوں میں محدود جگہ کے باعث نجی رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ فی الحال طلبہ کی رہائش سے متعلق ذمہ داریاں ایم سی ڈی، دہلی فائر سروسز، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور تعلیمی اداروں کے درمیان تقسیم ہیں، لیکن طلبہ کے پاس رہائش سے متعلق حفاظتی خدشات درج کرانے اور مختلف محکموں سے مربوط کارروائی کرانے کے لیے کوئی ایک مخصوص نظام موجود نہیں ہے۔ عرضی گزار نے مجوزہ کمیٹیوں کے تحت 24 گھنٹے دستیاب طلبہ ہیلپ لائن، مخصوص ای میل ایڈریس اور آن لائن شکایتی پورٹل قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان ذرائع کے ذریعے طلبہ عمارت کی ساخت اور آگ سے متعلق خطرات، ضرورت سے زیادہ لوگوں کو رکھنے، بجلی اور صفائی کے مسائل، استحصال، ہراسانی اور رہائش سے متعلق دیگر شکایات درج کرا سکیں گے۔
مجوزہ کمیٹیاں طلبہ کی رہائش گاہوں کی وقتاً فوقتاً حفاظتی جانچ میں بھی مدد کریں گی۔ اس کے علاوہ مجاز اداروں کے ساتھ مل کر عمارت، بجلی اور فائر سیفٹی کی جانچ کرانے، غیر محفوظ یا غیر مجاز عمارتوں کی نشاندہی کرنے اور کارروائی کے لیے ان کی اطلاع متعلقہ قانونی اداروں کو دینے کی ذمہ داری بھی ان کمیٹیوں کو دینے کی تجویز ہے۔ عرضی میں نجی رہائش گاہوں میں رہنے والے طلبہ کا ایک رضاکارانہ اور محفوظ ڈیٹا بیس بنانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ اس میں طلبہ کی رضامندی اور ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق ضوابط کا خیال رکھنے کی بات کہی گئی ہے۔
اس ڈیٹا کا مقصد ہنگامی حالات میں حکام کو فوری کارروائی میں مدد دینا اور یہ سمجھنے میں معاونت کرنا ہے کہ مختلف علاقوں میں طلبہ کی بڑی تعداد کہاں رہتی ہے۔ کالج کی سطح پر مجوزہ کمیٹی میں کالج، طلبہ، پولیس، ضلعی انتظامیہ، ایم سی ڈی اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو شامل کرنے کی تجویز ہے۔ یونیورسٹی کی سطح پر سینئر یونیورسٹی افسران، ایم سی ڈی، دہلی حکومت، پولیس اور طلبہ نمائندوں کی شمولیت کی تجویز دی گئی ہے۔ بڑے کوچنگ اور طلبہ مراکز کے لیے بھی اسی نوعیت کی کمیٹیاں بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ پی آئی ایل میں طلبہ کے لیے محفوظ اور کم خرچ ادارہ جاتی رہائش کی سہولت بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
مجوزہ کمیٹیوں کو سرکاری اور یونیورسٹی ہاسٹلوں کی گنجائش بڑھانے کے لیے سفارشات پیش کرنے کا اختیار دینے کی تجویز ہے۔ عرضی گزار نے ایک عبوری درخواست بھی دائر کی ہے، جس میں پی آئی ایل پر حتمی فیصلہ آنے تک فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان میں طلبہ کی شکایات وصول کرنے کے لیے نوڈل نظام قائم کرنا، موجودہ سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ بہتر بنانا اور ایسے نجی رہائشی مقامات کی مشترکہ طور پر نشاندہی اور حفاظتی جانچ کرنا شامل ہے جہاں بڑی تعداد میں طلبہ رہتے ہیں، خاص طور پر بڑے تعلیمی اور کوچنگ مراکز میں۔ اس مقدمے میں دہلی حکومت، ایم سی ڈی، دہلی پولیس، جی جی ایس آئی پی یونیورسٹی، دہلی یونیورسٹی، پی جی ڈی اے وی کالج، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی)، مرکزی وزارت تعلیم، جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر یونیورسٹی دہلی کو فریق بنایا گیا ہے۔