گیانیش کمار کے استعفے تک احتجاج جاری رہے گا: کانگریس

Story by  اے این آئی | Posted by  [email protected] | Date 08-10-2026
گیانیش کمار کے استعفے تک احتجاج جاری رہے گا: کانگریس
گیانیش کمار کے استعفے تک احتجاج جاری رہے گا: کانگریس

 



نئی دہلی: کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کوڈیکنل سریش نے جمعرات کو کہا کہ انڈیا اتحاد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے اور اگر گیانیش کمار نے استعفیٰ نہیں دیا تو احتجاج کو عوام کے درمیان لے جایا جائے گا۔ سریش نے کہا، ’’آج بھی ہم گیانیش کمار کے خلاف مضبوط اور جارحانہ احتجاج کریں گے۔ ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ دوپہر ایک بج کر 45 منٹ پر اتحاد کے رہنماؤں کی جانب سے دیے جانے والے ظہرانے کے بعد جمع ہوں گے اور اس کے بعد احتجاج شروع کیا جائے گا۔

سریش کے مطابق جمعرات کو ہونے والی میٹنگ میں انڈیا اتحاد کے رہنما آئندہ کی حکمت عملی طے کریں گے۔ اس کے بعد لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، کانگریس رہنما پرینکا گاندھی واڈرا اور انڈیا اتحاد کے دیگر رہنما احتجاج کی قیادت کریں گے۔ انہوں نے کہا، ’’آج بھی دوپہر ایک بج کر 45 منٹ پر انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ کے لیے ظہرانہ ہے۔ اس کے بعد ہمارا احتجاج شروع ہوگا۔ اس کے بعد انڈیا اتحاد کے رہنما، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھرگے، پرینکا گاندھی اور دیگر رہنما احتجاج کی قیادت کریں گے۔‘‘ سریش نے کہا کہ اپوزیشن کا مطالبہ واضح ہے کہ گیانیش کمار چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ اگر وہ استعفیٰ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں تو حکومت کو انہیں عہدے سے ہٹا دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا، ’’ہمارا الٹی میٹم یہ ہے کہ گیانیش کمار چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ اگر وہ استعفیٰ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں تو حکومت کو انہیں چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے ہٹا دینا چاہیے۔‘‘ سریش نے دعویٰ کیا کہ عوام کا گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہندوستان کے عوام کا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ اسی لیے ہم یہ اہم مطالبہ کر رہے ہیں۔ پورا ملک چاہتا ہے کہ گیانیش کمار استعفیٰ دیں۔‘‘ ظہرانے کے بعد انڈیا اتحاد کی حکمت عملی کے بارے میں سوال پر سریش نے کہا کہ اس کا فیصلہ اتحاد کی قیادت جمعرات کو کرے گی۔

انہوں نے کہا، ’’انڈیا اتحاد کے رہنما آج فیصلہ کریں گے۔ اس کے بعد وہ ہمیں بتائیں گے کہ حکمت عملی کیا ہوگی۔ فی الحال ہمیں حکمت عملی کے بارے میں معلوم نہیں ہے۔ قیادت نے صرف ارکان پارلیمنٹ کو دوپہر ایک بج کر 45 منٹ پر کناٹ پلیس کے آؤٹر سرکل میں پہنچنے کو کہا ہے۔‘‘ حکومت کی جانب سے گیانیش کمار کو عہدے سے نہ ہٹائے جانے کی صورت میں کانگریس کے اگلے قدم کے بارے میں پوچھے جانے پر سریش نے کہا کہ پارٹی اپنا احتجاج عوام کے درمیان لے جائے گی۔

انہوں نے کہا، ’’ہم عوام کے پاس جائیں گے۔ اگر گیانیش کمار چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیتے تو ہم عوام کے پاس جائیں گے۔ پورے ملک میں عوام کی حمایت سے بھرپور احتجاج کریں گے۔‘‘ دریں اثنا، ملکارجن کھرگے آج انڈیا اتحاد کے رہنماؤں کے لیے ایک اور ظہرانے کا اہتمام کریں گے۔ گزشتہ دو دنوں میں یہ اس طرح کی دوسری ملاقات ہے۔ بدھ کو ہونے والی میٹنگ کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے چیف الیکشن کمشنر اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف اچانک احتجاج کے لیے جنتر منتر کی جانب مارچ کیا تھا۔