نئی دہلی: قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے پیر کو کہا کہ اس نے جموں و کشمیر کے سرینگر میں ایک ملزم کی رہائشی جائیداد ضبط کر لی ہے۔ یہ معاملہ ممنوعہ دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ سرحد پار دہشت گردانہ سازش سے متعلق ہے۔ این آئی اے کے مطابق، غلام محمد میر عرف ماما گیس کی اس جائیداد کو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) قانون، 1967 کی دفعہ 25 کے تحت ضبط کیا گیا ہے۔
اس کارروائی کے لیے ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سے پہلے ضروری منظوری حاصل کی گئی تھی۔ یہ جائیداد سرینگر کے حضرت بل علاقے کے گاؤں دانی ہامہ میں واقع ہے۔ اسے سرحد پار دہشت گردانہ سازش سے متعلق مقدمے (آر سی-02/2026/این آئی اے/جے ایم یو) کے سلسلے میں ضبط کیا گیا ہے۔ این آئی اے نے بتایا کہ تفتیش کے دوران جائیداد اور دہشت گردانہ سازش کے درمیان براہ راست تعلق سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ اس مکان کو پاکستانی دہشت گردوں کو پناہ دینے اور دہشت گرد نیٹ ورک سے متعلق مجرمانہ شواہد چھپانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
یہ مقدمہ ابتدا میں 31 مارچ 2026 کو سرینگر کے زکورہ پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔ بعد میں این آئی اے نے اسے اپنے ہاتھ میں لے کر دوبارہ درج کیا۔ ایجنسی کے مطابق، تفتیش میں مقامی افراد پر مشتمل ایسے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے جو مبینہ طور پر لشکر طیبہ کے سرحد پار موجود سرغنوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا تھا۔ اس نیٹ ورک پر پاکستانی دہشت گردوں کی دراندازی، نقل و حرکت، رہائش اور دیگر ضروری سہولتوں کا انتظام کرنے کا الزام ہے، تاکہ سرکاری اداروں، حفاظتی دستوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔
این آئی اے نے بتایا کہ رواں سال 6 اپریل کو سرینگر کے حضرت بل علاقے کے دانی ہامہ میں غلام محمد میر کے مکان کی تلاشی لی گئی تھی۔ اس دوران دو مشتبہ پاکستانی دہشت گردوں کا سراغ ملا، جن کی شناخت ابو حریرہ اور خبیب کے طور پر کی گئی۔ الزام ہے کہ دونوں کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا۔ تلاشی کے دوران دھماکہ خیز مادے جیسی ایک مشتبہ چیز، ڈیجیٹل آلات اور دیگر قابل اعتراض مواد بھی برآمد کیا گیا تھا، جسے ضبط کر لیا گیا۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے والی ایجنسی نے مزید کہا کہ تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزم نے جان بوجھ کر اپنے مکان کو دہشت گردوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر فراہم کیا اور انہیں اپنی سرگرمیوں کے لیے اس جائیداد کے استعمال کی اجازت دی۔
این آئی اے کے مطابق، معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔ اس کا مقصد دہشت گردوں کی مدد کرنے والے پورے نیٹ ورک کا پتا لگانا ہے، جس میں دیگر بالائی سطح پر سرگرم معاونین، سہولت کاروں اور پاکستان میں موجود دہشت گرد سرغنوں سے رابطہ رکھنے والے افراد کی شناخت بھی شامل ہے۔